ایک باپ ایک بیٹا

13

ہر برس قربانی کی عید کے موقع پر شرعی لحاظ سے کسی موزوں اور مناسب جانور کی قربانی کی تیاری ہوتی ہے پہلے تو شریعت کے ضابطوں اور قوانین کے مطابق کسی موزوں جانور کو تلاش کیا جاتا ہے اس کے بعد اس جانور کو دیکھ کر اس کی قیمت اور اپنی جیب کا موازنہ کیا جاتا ہے اور جب دونوں سرے مل جاتے ہیں یعنی جانور کی قیمت اور اپنی جیب میں مطابقت پیدا ہو جاتی ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ شرعاً موزوں جانور کہاں سے تلاش کیا جائے ۔ اس موقع پر بڑے شہروں مثلاً لاہور میں منڈیاں لگ جاتی ہیں دور دراز سے جانوروں کا میلہ سا لگ جاتا ہے اور اس میلے میں کئی رنگوں اور نسلوں کے جانور جمع کر لیے جاتے ہیں جو مقامی علماء کے مطابق قربانی کے لیے موزوں سمجھے جاتے ہیں۔

میں پچھلے کئی سال سے لاہور میں ہی عید کر رہا ہوںباوجود اس کے کہ میرا دل عید کے دن خاص طور پر اپنے گاؤں میںاپنے عزیز و اقارب کی یاد میں ہی بے چین رہتا ہے۔ اب جسمانی توانائی اتنی نہیں رہی کہ کئی سو کلومیٹر کا سفر کر کے عید کے لیے خاص طور پر گاؤں پہنچا جائے اس لیے میں نے اپنے سب عزیزوں سے معذرت کر رکھی ہے اور عید کا دن لاہور میں دوسرے عام دنوں کی طرح گزار کر ہی مطمئن ہو جاتا ہوں لیکن اگر مجھے کوئی پریشانی لاحق ہوتی ہے تو وہ عید قربان کے روز لاہور میں  اصل قصائی کی تلاش کی جو کہ ایک مشکل اور نا ممکن ترین مرحلہ ہوتا ہے اور اس تلاش کے باوجود بھی اچھے قصائی کا ملنا ایک نعمت سے کم نہیں ہوتا اور اگر قصائی صبح سویرے ہی مل جائے تو عید دوچند ہو جاتی ہے ورنہ گھریلو خواتین کی جانب سے طعنے ہی سننے کو ملتے ہیں۔

آپ کے ذمے ایک قصائی کا کام ہی تھا وہ بھی بروقت نہ ہو سکا جس کی وجہ سے ان کو کھانا پکانے میں دیر ہو گئی بلکہ بسا اوقات تو یہ تاخیر شام تک ہو جاتی اور عید قربان والے دن بھی مرغی کے سالن پر ہی گزارا کرنا پڑتا ہے تاوقیتکہ قربانی کا عمل ادا نہ ہو جائے ۔ ہم گاؤں کے رہنے والے اپنے موروثی قصابوں کے عادی ہوتے ہیں جو کہ عید کی نماز کے فوراً بعد صاحب ِخانہ کی نماز عید کی ادائیگی کے بعدگھر پہنچنے سے پہلے ہی ہاتھ میں چُھری اور ٹوکہ لے کراس انتظار میں ہوتے ہیں کہ میاں صاحب آئیں تو ان سے قربانی کے جانور پر ہاتھ پھرا لیں ۔ میں نے کئی دفعہ اپنے عزیز دوست میاں محمد قصاب سے کہا بھی کہ اس عمل کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی لیکن وہ ہمیشہ اس بات پر مصر رہتا ہے کہ میاں صاحب ہم نے بڑوں کو یہ عمل کرتے دیکھا ہے اور آپ سے بھی یہ عمل کروا کے قربانی کا جانور حلال کرنا ہے۔

گاؤں میں قربانی کا موزوں جانور تلاش کرنا آسان ترین مرحلہ ہوتا ہے کہ لوگ آپ کو جانتے ہیں اور یہ ممکن نہیں ہوتا کہ وہ مصنوعی دانتوں والا جانور آپ کو فروخت کر دیں بلکہ عموماً تو گاؤں کے لوگ سال بھر پہلے ہی قربانی کا جانور خرید کر اسے پالتے ہیں اور پھر عید پر اسے قربان کر دیتے ہیں لیکن میرے جیسے غیرحاضر کاشتکار کے لیے یہ ممکن نہیں باوجود اس کے کہ میں اپنے علاقہ میںایک بڑا زمیندار بھی ہوں۔ کچھ لوگ تو سال بھر قربانی کے بکرے وغیرہ جمع کرتے رہتے ہیں انھیں کھلاتے پلاتے ہیں اور قربانی کے لیے ذاتی طور پر موزوں سمجھ لیتے ہیں ورنہ شرعاً تو یہ قربانیاں اپنے شرعی اوصاف پر اگر پوری اترتی ہیں تو ان کی قربانی نہ صرف جائز بلکہ موزوں سمجھی جاتی ہے اور عید قربان کے مقررہ وقت پر اسے قربان کیا جا سکتا ہے۔

مبارکباد ان بچوں کو جو اس قربانی کے منتظر ہوتے ہیں اور جب قربانی کی گردن سے خون کے فوارے پھوٹتے ہیں تو ان بزرگوں پر خوش ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی جمع پونجی قربانی کی راہ میں قربان کر دی۔ بزرگ اسے کارِ ثواب سمجھتے ہوں گے مگر بچے اسے ایک رونق سمجھتے ہیں اور قربانی کے فلسفے اور تاریخ میں بچوں کا بھی ذکر آتا ہے اس لیے بچے اس قدرخوش ہوتے ہیں جیسے قربانی ان کو اجر دینے اور کارِ ثواب کے لیے کی گئی اور مبارک ہوں وہ بزرگ جنہوں نے یہ قربانی کر دی ہے اور اسے کارِ ثواب سمجھا ہے اس پر خرچ کیا ہے اور اس کی دیکھ بھال کی ہے تا کہ یہ صحیح سلامت حالت میں قربان گاہ تک پہنچ جائے۔

مجھے قربانی کا وہ بکرا یاد رہے گا جو میرے لاہور کے گھر کے صحن سے چوری کر لیا گیا تھا یہ شاید میری زندگی کی واحد چوری تھی جو میں نے صبر و شکر کے ساتھ قبول کر لی تھی، البتہ چور کی خدمت ایک عام قسم کے چور سے زیادہ کی تھی اور براؤن رنگ کا یہ بکرا بچوں کو یاد رہا تا آنکہ اس کی جگہ دوسرا بکرا نہ آگیا اور اس کے خون سے بچوں کی تسلی نہ ہوگئی اور وہ اسے قربانی کی نیکی کا متبادل سمجھنے لگے لیکن چوری شدہ بکرے کے اوصاف بچے بھول نہیں پائے اس کے رنگ حتیٰ کہ اس کی آواز تک کے لیے وہ اداس ہو گئے ۔ یہ وہ بکرا تھا جس کے ساتھ بچوں اور بزرگوں کی نیکی وابستہ تھی اور اس کا کوئی نعم البدل نہ تھا ۔ بہرکیف وہ براؤن رنگ کا پالا پوسا بکرا تو گم ہو گیا لیکن بچوں کو جب تک اس کا متبادل نہ ملا وہ بے چین رہے۔

ہمارے پیغمبروں کی یاد میں یہ قربانی بھلائی نہیںجا سکتی کیونکہ اس کے ساتھ جو کہانی وابستہ ہے وہ ایک بزرگ اور بچے کی کہانی ہے ۔ یہ بزرگ ہمارے پیغمبروں کے جدِ امجد تھے اور یہ بچہ ہمارے پیاراور تاریخ کا ایک پیارا بچہ تھا جس کے نام پہ لاکھوں بچے موجود ہیں حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسماعیل ؑ ہماری تاریخ ہیں اور ہم اسے محفوظ رکھتے ہیں یہاں تک کہ ان کے اسمائے گرامی بھی ہماری تاریخ کا حصہ ہیں۔

ہم مسلمان اپنی تاریخ کو بھولتے نہیں ہیں اور اسے زندہ رکھتے ہیں خواہ اس کے لیے کہانیاں بھی تراشنی پڑیں۔ حضرت ابراہیم ؑ اور ان کے فرزند حضرت اسماعیل ؑ ہماری تاریخ کا حصہ ہیں اور تاریخ بھی ایسی جو خود اﷲتبارک تعالیٰ نے بیان کی ہے اور مسلمانوں کی تاریخ کا ایک حصہ اس کی وضاحت میں ہے تا کہ اس باپ بیٹے کی تاریخ محفوظ رہے ۔ جس داستان کا ذکر کلام ِپاک میں ہو اس کو کیا خطرہ لیکن کارِ ثواب کے لیے ایسی داستانوں کا ذکر عام انسانوں کے قصے کہانیوں میں بھی رہتا ہے اور انھیں سنبھال کر رکھنا ایک کارِ ثواب ہے اور ہماری تاریخ کا حصہ۔