اگلے جنم موہے بٹیانہ کیجیو!

26
اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیجیو کی درد بھری پکار ابھرتی ہے اور اس پکار کے بیچ مجھے مظفر گڑھ کی ثمینہ منظور کی کہانی یاد آتی ہے اور ثمینہ کی کہانی اس لیے ذہن پر دستک دیتی ہے کہ مارچ کا مہینہ ہے موسم بدلنے اور رت گدرانے کی نوید دیتا یہ مہینہ عورتوں کی جدوجہد سے بھی منسوب ہے۔ اس مہینے کی آٹھ تاریخ کو دنیا کے بیشتر ملکوں میں عورتوں کا دن منایا جاتا ہے۔ صرف آٹھ مارچ کیا پورا مارچ ہی تقریبات ہوتی ہیں۔مذاکرے‘ سیمینار‘ گفتگو کی نشستیں اور اس میں عورتوں کی جدوجہد کا تذکرہ ہوتا ہے۔ سماجی ڈھانچے میں ان کے مثبت کردار اور اثرات پر بات ہوتی ہے۔ اور اسی مارچ کا آغاز ہو چکا ہے اور اس خوب صورت پُر بہار مہینے میں جب عورتوں کی جدوجہد کا تذکرہ ہوتا ہے تو مجھے ڈاکٹر ثمینہ منظور کی زندگی کی دردناک کہانی عجب طرح سے جھنجوڑتی ہے۔ سوال کرتی ہے اور ہمارے معاشرے کی ایک تاریک سوچ کو سامنے لے کر آتی ہے۔ ڈاکٹر ثمینہ کی کہانی کا آغاز جنوبی پنجاب کے شہر مظفر گڑھ سے ہوتا ہے۔ غریب ٹیکسی ڈرائیور منظور کی بیٹی۔ اپنے گھر کے ماحول کے برعکس ‘ کتابوں سے خوب لگائو۔ پڑھائی میں‘ دلچسپی ۔ کچھ بننے اور کچھ کرنے کے خواب آنکھوں میں ہمہ وقت سجے ہوئے۔ خاندان کو تو یہی حیرانی بہت تھی کہ منظور کی بیٹی میٹرک کر کے کالج پہنچ گئی۔ مگر وہ کالج سے بھی آگے پڑھنا چاہتی تھی۔ سفید کوٹ پہننے اور سٹیتھوسکوپ گلے میں ڈال کر ہسپتال کے کاریڈور میں خود کو ڈاکٹر کے روپ میں دیکھنے کے خواب دیکھنے لگی اور اسی خواب کی آنچ نے اسے محنت‘ سخت محنت کا عادی بنا دیا۔ ٹیکسی ڈرائیور منظور اپنی پڑھاکو اور خواب دیکھنے والی 
بیٹی کو دیکھتا تو حیران ہو جاتا۔ جانے یہ کس پہ چلی گئی ہے۔ ہمارے خاندان میں لڑکیاں تو کیا لڑکے بھی پڑھے لکھے نہیں‘ نہ پڑھائی میں دلچسپی لیتے ہیں۔ خیر میں نے بھی اس کی شادی کر دینی ہے۔ خاندانی روایت کے مطابق ۔چلو تھوڑا سا پڑھ لے جی خوش کر لے ۔مگر انہونی تو اس وقت ہوئی جب ثمینہ نے ایف ایس سی کے امتحان میں حیران کن کامیابی حاصل کی اور پاکستان کے سب سے بڑے میڈیکل کالج کنگ ایڈورڈ کی داخلہ لسٹ میں اس کا نام چمکنے لگا ۔خاندانی روایت سے بغاوت کا پہلا قدم۔ لڑکی لڑکوں کے ساتھ پڑھے گی۔ گھر سے دور ہوسٹل میں کیسے رہے گی۔ کوئی ضرورت نہیں ڈاکٹرنی بننے کی۔ کئی آوازوں نے روکا۔ غریب باپ کیسے خرچہ اٹھائے گا۔ گھر میں اتنے بڑے کنبے کی روٹی مشکل سے پوری ہوتی ہے۔ مگر یہ تمام آوازیں۔ یہ رکاوٹیں ثمینہ کا راستہ نہ روک سکیں۔ باپ نے اپنی بیٹی کی آنکھوں میں بسے خواب کی شدت کو پڑھ لیا تھا اس کا دل پسیج گیا۔ اسی وقت دل میں ارادہ کر لیا کہ دن بھر جتنی مزدوری کرتا ہوں اس سے دگنا کام کروں گا تاکہ اپنی بیٹی کو ڈاکٹر بنا سکوں۔ پھر داخلہ لاہور کی بجائے ملتان کے نشتر میڈیکل کالج میں ہوا۔ ثمینہ منظور ایک مثال بن گئی۔ نامساعد حالات میں محنت کرتی رہی۔ ٹیکسی ڈرائیو بھی دن رات ٹیکسی چلاتا‘ پیسے جوڑتا۔ اپنی بیٹی کے اخراجات پورے کرتا۔ حالات زیادہ تنگ ہوتے تو قرض بھی اٹھاتا۔ غربت میں محنت کرنے کی شاندار کہانی کوئی اور بھی سنتا تو اس کی قابل اور محنت بیٹی کی مالی امداد کیے بنا نہ رہتا۔ یوں میڈیکل کی پانچ سا ل کی تعلیم مکمل ہوئی۔ ثمینہ اب ڈاکٹر ثمینہ بن چکی تھی۔ شعور اور خود اعتماد کی روشنی نے اس کی سادہ اور پروقار شخصیت کو ایک الگ ہی چھب دی تھی۔ منظور اپنی بیٹی کو ڈاکٹر کے روپ میں دیکھتا تو اس کا سر فخر سے بلند ہو جاتا۔ اب وہ ایک میڈیکل آفیسر کے روپ میں رحیم یار خان کے قصباتی علاقے جن پور(یہ راجن پور نہیں) میں تعینات تھی۔ جہاں اس نے اپنے بہترین اخلاق اور اعلیٰ پیشہ ورانہ کارکردگی سے علاقے کے لوگوں کے دلوں میں گھر کر لیاتھا۔ جن پور کے پسماندہ علاقے میں بسنے والی لڑکیوں کے لیے ڈاکٹر ثمینہ منظور ایک رول ماڈل تھی۔ آئیڈیل تھی۔ پھر ایک عجیب انہونی ہوئی۔ 2015ء کی گرمیاں شروع ہو چکی تھیں۔ وہ چھٹیوں میں اپنے گھر مظفر گڑھ گئی اور ایک روز اپنے گھر میں مردہ پائی گئی۔ اس کے بھائی نے 1122پر کال کی اور بتایا کہ اس کی بہن ڈاکٹر ثمینہ بے ہوش ہے۔ اسے کچھ ہو گیا ہے۔ ڈاکٹر ثمینہ کی کہانی کا 
اینٹی کلائمکس یہ ہے کہ ٹیکسی ڈرائیور منظور نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنی ڈاکٹر بیٹی کو گلا دبا کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ پوری زندگی اس نے جس خواب کو تعبیر دینے کی جدوجہد کی‘ مزدوری کی‘ اس خواب کا گلا خود اپنے ہاتھوں سے گھونٹ دیا۔ بدگمانی‘ تنگ نظری اور تاریک سوچ کی اندھی ہوائوں نے ایک خوبصورت‘ سوچ اور ایک روشن زندگی کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ قصور اس کا صرف یہ تھا کہ اس نے علم شعور اور خود اعتمادی کے راستے پر چل کر اعلیٰ مقام حاصل کرنے کے بعد اپنے خاندان کے ایک جاہل اجڈ سے شادی سے انکار کیا جو اس کے باپ کی پسند تھا اور اپنے لیے ایک پڑھے لکھے شخص کا انتخاب کیا۔ ڈاکٹر ثمینہ کا یہ ناقابل معافی جُرم تھا۔ ڈاکٹر ثمینہ کے ہولناک قتل کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ پی ایم اے‘ ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن اور نشتر میڈیکل کالج ملتان میں ڈاکٹر ثمینہ کے کولیگز اور کلاس فیلوز ڈاکٹرز نے پریس کانفرنسیں کیں اور میڈیا کو اس کہانی کے بارے میں بتایا۔ جسٹس فار ڈاکٹر ثمینہ کے نام سے سوشل میڈیا پر ایک پیج بنایا اور اس کیس میں خود مدعی بنے۔! ڈاکٹر ثمینہ کی کہانی‘ زندگی میں شاندار کامیابیوں کی داستان جس حسرت ناک انجام کو پہنچی وہ انتہائی افسوسناک ہے۔ بہت سے سوال ابھرتے ہیں جن کا جواب نہیں ملتا کہ ڈرائیور منظور کے لیے خاندان کی تنگ نظر‘ روایتیں جن کا مذہب سے بھی کوئی لینا دینا نہیں۔ اُسے اپنی بیٹی کی زندگی سے زیادہ عزیز کیسے ہو گئیں۔؟کس تاریک سوچ کی آندھی نے ڈرائیور منظور کے دِل میں اپنی قابل ڈاکٹر بیٹی کے لیے محبت کے سب دیے یک لخت بجھا دیے۔!رحیم یار خان کے قصبے کی جن لڑکیوں کی ڈاکٹر ثمینہ آئیڈیل اور رول ماڈل تھی وہ اس کے اس حسرت ناک انجام پہ کیا سوچتی ہوں گی۔!
چبھتے ہوئے سوال ہیں‘ سماجی سائنسدان اور انسانی نفسیات کی الجھنیں سمجھنے والے اس کا جواب تلاش کرنے میں مدد کریں۔!!