طبیب کے گھر میں پیدا ہونے والا بچہ دنیا کا عظیم فلاسفر کیسے بن گیا؟

19

لاہور(فلک نیوز) دنیا قدیم کے عظیم فلاسفر ارسطو کے بارے میں بتاتے ہیں، ارسطو جس کو انگریزی میں “اریس ٹاٹل” کے نام سے پکارا جاتا ہے۔یہ افلاطون کا سب سے قابل شاگرد تھا،  اور افلاطون ایک اور قدیم فلاسفر سقراط کا شاگرد تھا، ارسطو کے بہت سے اقوال آج بھی ضرب مثل کے طور پر پیش کئے جاتے ہیں،  جو کہ کافی حکمت بھرے اقوال ہیں، ارسطو قدیم یونان کا عظیم ترین نہ صرف فلسفی بلکہ اپنے دور کا سائنس دان بھی تھا،  اگرچہ آج کے دور میں اس کے بہت سے نظریات متروک ہو چکے ہیں لیکن اس کی عقلی کوششوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ارسطو مقدونیہ کے بادشاہ امینتاس کے ایک درباری طبیب کے ہاں 384 قبل مسیح میں پیدا ہوا، باپ کو تشریح اعضاء اور علمِ حیوانات سے بے حدشغف تھا۔  بیٹے نے بھی ابتدا سے انہی علوم میں دلچسپی لی، بڑے بڑے فلسفیوں کی طرح وہ اپنی علمی تحقیقات میں بہت زیادہ باریک بین اور محقق تھا، ارسطو اگرچہ شاہ امینتاس کے پوتے سکندرِ اعظم کا اتالیق مقرر ہوگیا تھا لیکن حکیم اور عالم ہونے کی حیثیت سے وہ ہمیشہ ہی نامور رہا،  سترہ سال کی عمر میں ارسطو، افلاطون کا شاگرد ہوا اور بیس برس تک یعنی افلاطون کے انتقال تک اس سے فیضیاب ہوتا رہا۔ذہن میں رہے یہ وہ ہی افلاطون ہے جو سقراط کا شاگرد تھا، سقراط افلاطون کے مکالمات کا کم و بیش مرکزی کردار ہے۔ مگریہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ تحریر کردہ دلائل میں سے کون سے افلاطون کے اور کونسے سقراط کے ہیں، کیونکہ سقراط نے بذات خود کچھ تحریر نہیں کیا۔ اس کے بعد ارسطو بارہ سال تک یونان میں گھومتا پھرتا اور تعلیم دیتا رہا۔ جب سکندر مقدونیہ کا بادشاہ ہوا تو ارسطو ایتھنز واپس آگیا اور یہاں اس نے فلسفہ کا وہ مدرسہ قائم کیا جسے مشائیوں کا مدرسہ کہتے ہیں۔ مشائی’’مشی‘‘ سے نکلا ہے۔ جس کا مطلب ہے ٹہلنا، چونکہ اس مدرسے میں استاد اور شاگرد ایک طویل راستے پر ٹہلتے ہوئے تعلیم دیتے اور تعلیم حاصل کرتے تھے، اس لیے اس کو’’مکتبِ مشائین‘‘ کہا جاتا تھا۔ اگرچہ ارسطو نے ایک مثالیت پسند استاد یعنی افلاطون سے تعلیم حاصل کی تھی لیکن وہ خود حقیقت پسند فلسفی تھا،  اس نے حیاتیات اور نفسیات کے متعلق ایسی بنیادی معلومات مہیا کیں جو دو ہزار سال کے سائنسی امتحان کے بعد بھی صحیح ثابت ہوئیں۔ حکومت و ریاست کے متعلق ارسطو کا شغف اس قدر زیادہ تھا کہ اس نے ریاستوں اور شہروں کے آئین پر کم سے کم 157 رسالے لکھے۔ افسوس کہ یہ رسالے گزشتہ صدیوں میں کہیں ضائع ہوگئے،  صرف ’’دستورِ ایتھنز‘‘ کا رسالہ دستبردِ زمانہ سے محفوظ رہ گیا۔ارسطو کی نہایت اہم کتابوں میں ایک کتاب ’’آرگینان‘‘ ہے۔ جس میں علمِ منطق کے متعلق چھ مقالات ہیں۔ دوسری کتابیں’’مابعد الطبیعات‘‘، ’’تاریخِ حیوانات‘‘، ’’اعضائے حیوانات‘‘، ’’طبیعات‘‘ ،’’فلکیات‘‘ اور’’سیاسیات‘‘ ہیں۔ وہ تمام عظیم مفکر جن کا شاندار کام قدیم زمانے سے ہم تک پہنچا ان میں سے سب سے اہم ارسطو ہے۔ افلاطون کی مقبولیت اگرچہ ارسطو سے زیادہ ہے لیکن ارسطو کی اہمیت بھی کچھ کم نہیں کیونکہ ارسطو نے بھی اپنے کام کی وجہ سے بہت جلد مقبولیت حاصل کرلی تھی۔ ارسطو نے نظریات کے بجائے حقائق پر زیادہ توجہ دی۔ ارسطو نے تجربات کرنے پر وقت ضائع نہیں کیا۔ ارسطو کے لیے بھی یہ دنیا اتنی ہی پراسرار تھی جتنی کہ افلاطون کے لیے لیکن ارسطو نے اس پراسرایت کو ایک چیلنج سمجھا اور اس کے اسرار جاننے کی کوشش کی۔ اس لیے اس نے فلسفے کے علاوہ فطرت، تاریخ، جغرافیہ، نفسیات، علم الاعضاء، اناٹمی، طبیعات، فلکیات، سیاسیات اور اخلاقیات کے بارے میں لکھا۔ اگرچہ اس کا بہت سا کام دستبردِ زمانہ سے محفوظ نہ رہ سکا لیکن جو ضائع ہونے سے بچا اس میں سے بھی زیادہ کام کو جدید سائنس نے کالعدم قرار دے دیا ہے لیکن ارسطو نے جو کام اخلاقیات کے حوالے سے کیا اس کو جدید زمانے نے بھی سراہا ہے اور اس کی ’’اخلاقیات‘‘ ہر حوالے سے مکمل اور ہر زمانے کے لیے ہے۔ ارسطو کی ’’اخلاقیات‘‘ کے شاندار حقائق ارسطو کے اپنے زمانے میں بھی دوسرے مفکرین سے مختلف تھے اور اس کی انفرادیت اب بھی قائم ہے۔ ارسطو کا والد بادشاہ مقدونیہ کا طبیب تھا۔ ارسطو کی عمر ابھی چند سال ہی تھی کہ اس کا والد وفات پا گیا۔ جب اس کی عمر 17 سال کے قریب تھی تو وہ خود ہی ایتھنز چلا آیا۔ یہاں اس نے افلاطون کی معروف اکیڈمی میں افلاطون کی شاگردی اختیار کی۔ وہ اس اکیڈمی میں افلاطون کے ساتھ 20 سال تک رہا۔ تب اپنے استاد کی موت کے بعد اس نے اکیڈمی کو چھوڑ دیا اور کئی سالوں تک مختلف شہروں میں تعلیم دیتا رہا۔343 قبل مسیح میں مقدونیہ کے بادشاہ فلپ نے اس کو اپنے بیٹے سکندر کے لیے اتالیق مقرر کیا ہے۔( یہ وہ سکندر تھا جو بعد میں سکندر اعظم کہلایا)۔ بادشاہ فلپ اور اس کے بیٹے سکندر نے ارسطو کا بہت احترام کیا اور وہ اس کے فطری علوم سے بہت متاثر ہوئے،  جب سکندر ایشیا کو فتح کرنے کی مہم پر روانہ ہوا تو ارسطو ایتھنز لوٹ گیا۔ یہاں اس نے لائسیم (Lyceum) کے گھنے درختوں میں فلسفے کا سکول قائم کیا کیونکہ ارسطو اپنے استاد افلاطون کی طرح اپنے شاگردوں کو تعلیم چل پھر کر دیتا تھا اور ساتھ ساتھ اپنے شاگردوں سے دوسرے موضوعات پر بھی گفتگو کرتا تھا۔