افغان صدر نے پاکستان کو جامع سیاسی مذاکرات کی پیشکش کردی

6

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ وہ پاکستان سے جامع سیاسی مذاکرات کےلیے تیار ہیں۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق عید الاضحیٰ کے موقع پر صدارتی محل سے نشر ہونے والی تقریر میں افغان صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ امن کا قیام افغانستان کے قومی ایجنڈے کا حصہ ہے اور وہ ایک ایسے امن کے خواہش مند ہیں جس کی بنیاد سیاسی اصولوں پر ہو۔

اشرف غنی نے کہا کہ دنیا کو معلوم ہو چکا ہے کہ اس ملک کو زور سے کسی کام کے لیے مجبور نہیں کیا جا سکتا لیکن خطے کی سلامتی کی خاطر ہم منطق اور استدلال کے تحت ہر قدم اٹھانے کو تیار ہیں۔ افغانستان میں قیامِ امن کےلیے ان کے دروازے طالبان سمیت سب کےلیے کھلے ہیں لیکن ان کی حکومت کسی کی طاقت کے آگے سر نہیں جھکائے گی۔ انہوں نے افغانستان میں برسرپیکار جنگجوؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ امن عمل کا حصہ بنیں۔واضح رہے کہ حالیہ مہینوں سے پاکستان اور افغانستان کے مابین کشیدہ تعلقات کا سلسلہ جاری ہے اور اس دوران اشرف غنی سمیت کئی افغان اعلی عہدیدار پاکستان پر الزام لگاتے رہے ہیں کہ وہ افغانستان پر حملہ کرنے والے طالبان جنگجوؤں کو پناہ دیتا ہے جبکہ پاکستان نے ہر بار ان الزامات کی تردید کی ہے۔

پاکستان پر الزام تراشیوں کے معاملے میں افغان صدر اشرف غنی بطورِ خاص بہت پیش پیش رہے ہیں جنہوں نے مئی 2017 میں دورہ پاکستان کی دعوت یہ کہتے ہوئے ٹھکرا دی تھی کہ پاکستان جب تک مزار شریف، امریکن یونیورسٹی کابل اور قندھار حملوں کے ذمہ داروں کو گرفتار کرکے افغانستان کے حوالے نہیں کرتا اور اپنی حدود میں موجود افغان طالبان کے خلاف کوئی عملی قدم نہیں اٹھاتا، تب تک وہ پاکستان کا دورہ ہر گز نہیں کریں گے۔