تاجکستان میں خواتین کے نقاب کرنے پر پابندی لگادی گئی

6

مسلم اکثریتی ملک تاجکستان میں بھی خواتین کے نقاب کرنے پر پابندی لگادی گئی۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق وسطی ایشیائی ملک تاجکستان میں نئی قانون سازی کی گئی ہے جس کے تحت عوام کو ملک کا روایتی لباس پہننے اور قومی ثقافت سے جڑے رہنے کا پابند بناتے ہوئے اسلامی لباس پہننے کی ممانعت کی گئی ہے۔ تاجکستان میں عموما خواتین حجاب یا نقاب نہیں کرتیں بلکہ سر کے پچھلے حصے پر رومال باندھتی ہیں جب کہ اسکارف سر سے تھوڑی تک باندھا جاتا ہے اور نقاب میں آنکھوں کے سوا پورا چہرہ چھپ جاتا ہے۔

مسلم اکثریتی ملک ہونے کے باوجود تاجکستان کے وزیر ثقافت شمس الدین نے ریڈیو فری یورپ سے گفتگو کرتے ہوئے اسلامی لباس کو بہت خطرناک قرار دیا۔ وزیر ثقافت نے کہا کہ ہر کوئی حجابی خواتین کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور یہ سوچتا ہے کہ انہوں نے اپنے حجاب میں کوئی چیز نہ چھپائی ہو۔ قبل ازیں تاجک حکومت نے اپنے بیان میں کہا کہ اسلامی حجاب اجنبی ثقافت کی نمائندگی کرتا ہے۔-ملک کے موجودہ قوانین کے تحت حجاب والی خواتین کے سرکاری دفاتر میں داخلے پر پہلے ہی پابندی عائد ہے، گزشتہ ماہ اگست کے شروع میں حکام نے دارالحکومت دوشنبے میں حجاب کرنے والی 8 ہزار خواتین کو پکڑ کر انہیں حجاب اتار کر سر پر پیچھے سے باندھنے والا اسکارف پہننے کی ہدایت کی تھی۔ اگرچہ نئی قانون سازی میں فی الحال حجاب پہننے کی کوئی سزا تجویز نہیں کی گئی تاہم بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ کچھ عرصے بعد جرمانے کی سزا بھی نافذ کردی جائے گی۔