بے گھر روہنگیا 38 ہزار مسلمان بنگلہ دیش پہنچ گئے

20
TOPSHOTS Rohingya migrants pass food supplies dropped by a Thai army helicopter to others aboard a boat drifting in Thai waters off the southern island of Koh Lipe in the Andaman sea on May 14, 2015. A boat crammed with scores of Rohingya migrants -- including many young children -- was found drifting in Thai waters on May 14, with passengers saying several people had died over the last few days. AFP PHOTO / Christophe ARCHAMBAULTCHRISTOPHE ARCHAMBAULT/AFP/Getty Images

تمام افراد میانمار کی فوج کے مظالم سے جان بچا کر بھاگ رہے تھے ، ہلاک شدگان میں بچے اور خواتین بھی شامل،38 ہزار مسلمان بنگلہ دیش پہنچ گئے

سرحد عبور کرنے والوں پر فوجیوں کی فائرنگ، میانمار روہنگیا مسلمانوں کو شہریت دے ، اقوام متحدہ، حکومت حقائق چھپا رہی ہے ، عالمی ذرائع ابلاغ ینگون (خبر ایجنسیاں) میانمار کی فوج کے مظالم سے پریشان بے گھر روہنگیا مسلمان پناہ کو ترس گئے ہیں ، جان بچا کر بھاگنے والے ان روہنگیا مسلمانوں کی تین کشتیاں الٹنے سے 26 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں، ہلاک شدگان میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں، میانمار کی فوج اور پولیس کے مظالم کی وجہ سے اب تک 38 ہزار روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش پہنچ چکے ہیں، اطلاعات کے مطابق سرحد عبور کرنے والے روہنگیا مسلمانوں پر میانمار کے فوجیوں نے فائرنگ بھی کی ، عالمی ذرائع ابلاغ نے کہا ہے کہ میانمار حکومت حقائق کو چھپا رہی ہے ، اسی لیے متاثرہ رخائن ریاست سے مصدقہ اطلاعات حاصل کرنا ناممکن ہوگیا ہے کیونکہ صرف چند صحافیوں کو ہی علاقے میں جانے کی اجازت دی گئی ہے ، دریں اثنا اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ میانمار کی ریاست رخائن میں امن قائم کرنے اور روہنگیا مسلمانوں کی معاشی صورتحال میں بہتری کے لیے انہیں شہریت فراہم کرنا لازمی ہے ، واضح رہے کہ میانمار میں روہنگیا مسلمان اقلیت میں ہیں اور مقامی حکومت انہیں بنیادی حقوق کے ساتھ ساتھ ملکی شہریت دینے سے بھی انکاری ہے ، میانمار میں اس اقلیت کے خلاف ہونے والی پرتشدد کارروائیوں میں اب تک ہزاروں روہنگیا ہلاک اور تقریباً ایک لاکھ 40 ہزار بے گھر ہو چکے ہیں، کشتیاں الٹنے کے واقعہ سے متعلق حکام نے بتایا کہ تاحال یہ معلوم نہیں ہے کہ ان کشتیوں پر مجموعی طور پر کتنے افراد سوار تھے ، تاہم اب تک 26 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں ، میانمار کی فوج نے کہا ہے کہ ملک کے اندر حالیہ جھڑپوں میں مارے جانے والوں کی تعداد 400 تک پہنچ گئی ہے اور ان میں سے بیشتر مزاحمت کار تھے ۔ میانمار میں تازہ جھڑپیں مزاحمت کاروں کی جانب سے رخائن میں پولیس اور فوج کی چوکیوں پر حملوں کے بعد شروع ہوئی تھیں ۔ روہنگیا مسلمانوں کا کہنا ہے کہ انہیں زبردستی بے دخل کیا جا رہا ہے جبکہ برما کی حکومت کے مطابق وہ علاقے سے مزاحمت کاروں کو باہر نکال رہی ہے ، تاکہ عام شہریوں کا تحفظ کیا جا سکے ۔ میانمار میں حکام کے مطابق تشدد کا آغاز اس وقت ہوا جب روہنگیا شدت پسندوں نے گزشتہ جمعہ کو 30 پولیس اسٹیشنوں پر حملہ کیا اور اس کے بعد شروع ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں فوج کو بلانا پڑا ۔ بنگلہ دیش میں گزشتہ اکتوبر سے اب تک ایک لاکھ روہنگیا مسلمان نقل مکانی کر کے بنگلہ دیش میں پناہ لے چکے ہیں ، بنگلہ دیشی امدادی کارکنوں کے مطابق نقل مکانی کرنے والے روہنگیا مسلمانوں کے لیے کیمپ قائم کیے گئے ہیں ، جہاں انہیں پناہ اور خوراک مہیا کی جا رہی ہے ، ایجنسی کے مطابق کیمپ میں آنے والوں میں زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی ہے ۔ آئی او ایم کے ترجمان پیپی صادق نے میڈیا کو بتایا کہ ابھی تک ہزاروں افراد سرحد پر موجود ہیں ، جن تک ہماری رسائی نہیں ہے ۔ کیمپ میں نئے آنے والے پناہ گزینوں میں سے بعض کے پاس کپڑے تھے جبکہ بعض کے پاس کھانے پینے کے برتن بھی تھے ، تاہم بڑی تعداد اپنا سب کچھ پیچھے ہی چھوڑ آئی ہے اور انہیں فوری پناہ اور خوراک کی ضرورت ہے ۔ واضح رہے کہ ریاست رخائن میں تقریباً 10 لاکھ مسلمان آباد ہیں۔ بودھوں کی اکثریتی آبادی کے ساتھ کئی برس سے کشیدگی جاری ہے ۔