پاکستا ن کا ایٹمی پروگرام

10
پاک فوج کے سربراہ‘ جنرل راحیل شریف ان دنوں امریکہ کے دورے پر ہیں۔گزشتہ کچھ دنوں سے‘ پاکستان کی ایٹمی صلاحیتوں اور ان کے تحفظ کے بارے میں ‘مختلف قسم کی خبریں گردش کر رہی تھیں‘ جن کا مرکز بھارتی ادارے اور ایجنسیاں تھیں۔ اس مہم کو مغربی طاقتوں نے بھی متاثر کیا ۔ امریکہ کی طرف سے تشویش کا اظہار کیا گیا تو جنرل راحیل شریف نے پاکستان کی پوزیشن واضح کرنے کے لئے خود‘ امریکہ کے سٹریٹیجک ماہرین سے تبادلۂ خیال کی ضرورت محسوس کی۔غالباً اسی خواہش کی روشنی میں ‘امریکہ کی طرف سے جنرل راحیل شریف کو باضابطہ تبادلہ خیال کی دعوت دی گئی۔ جنرل راحیل شریف اسی دعوت پر ان دنوں امریکہ میں مذاکرات کر رہے ہیں۔ بھارت میں انتہا پسندوں کے برسر اقتدار آنے کے بعد‘ یہ مسئلہ زیادہ توجہ کا مرکز بن گیا اور دنیا کی تمام بڑی طاقتوں میں یہ سوچ پیدا ہونے لگی کہ پاکستان اور بھارت کی بڑھتی ہوئی کشیدگی‘ کسی بھی وقت دونوں ملکوں کے درمیان تصادم کو‘ایٹمی جنگ کی طرف لے جا سکتی ہے۔یہ خبریں بھی تسلسل سے سامنے آرہی ہیں کہ پاکستان‘ جس تیزی کے ساتھ اپنے ایٹمی اسلحہ خانے میں اضافہ کر رہا ہے اور ایٹمی ہتھیاروں کو زمینی جنگ میں قابل استعمال بنانے میں مصروف ہے‘ اس کا مقصد بھارت کے روایتی اسلحے کے ذخیروں میں ‘تیزی سے ہوتے ہوئے اضافے کا مقابلہ کرنا ہے ۔ پاکستان کے نئے ایٹمی تجربات کے بارے میں عمومی طور پر یہی کہا جا رہا ہے کہ وہ امکانی جنگ کی صورت میں چھوٹے ایٹمی ہتھیار استعمال کر کے ‘ بھارتی بالا دستی کوچیلنج کر سکتا ہے۔اس صورت میں یہ محدود جنگ برصغیر کو مکمل ایٹمی جنگ میں دھکیل سکتی ہے۔
بھارت نے 2004ء سے‘ روایتی اسلحہ بندی میں اضافہ کر کے‘ پاکستان کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور وہ بری‘ بحری اور زمینی فوجی طاقت کا مقابلہ‘ جدید ایٹمی ہتھیاروں سے کرنے کی طرف مائل ہو سکتا ہے۔جنگ کے‘ ایٹمی تصاد م میں بدلنے کے امکان پر ‘عالمی سطح پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔19اکتوبر کو پاکستان کے سیکرٹری خارجہ نے اس امکان کا اظہار بھی کیا تھا کہ اسلام آباد‘ جدید ترین اسلحہ سے لیس‘ بھارت کا مقابلہ کرنے کے لئے‘ چھوٹے ایٹمی ہتھیار استعمال کر سکتا ہے۔پاکستان‘ سابق بھارتی آرمی چیف کی” کولڈسٹارٹ تھیوری‘‘ پر عملدرآمد کے خطرے پر فکر مند ہے۔ یہ تھیوری محض میڈیا اور ماہرین کی حد تک زیر بحث آتی رہی ہے ۔ بھارت کے پالیسی ساز اور فوجی لیڈر‘ اس کے وجود سے انکاری ہیں۔پاکستان کے لئے غیر سرکاری اظہار خیال پر اعتبار کرنا ممکن نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ عشرے کے دوران‘ بھارت نے جو سٹریٹیجی اختیار کر رکھی ہے‘ اس میں پاکستان اپنے لئے خطرہ محسوس کرتے ہوئے‘ جدید ترین ایٹمی ہتھیاروں میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے۔
1947ء سے لے کر2004ء تک‘ بھارت نے پاکستان کے مقابلے میں ہمیشہ فوجی برتری پر توجہ دی۔مثال کے طور سے‘ جنرل سندر جی نے80ء کے عشرے میں‘ بھارت کی زمینی افواج کو بھاری انفنٹری کے ساتھ‘ پاکستانی سرحدوں کے قریب جمع کر کے‘ تیز رفتار پیش قدمی کی تیاری کرنے پر توجہ دی۔ بھارت کے دفاعی ماہرین کا خیال تھا کہ اس کی زمینی افواج‘ طاقتور ایئر فورس کے سائے میں ‘تیز رفتاری سے پیش قدمی کر سکیں گی لیکن سندرجی کا میدانی جنگ کا تصور اور تیاریاں‘ پہاڑی علاقوں میں بھارت کو برتری نہیں دلا سکتی تھیں‘خصوصاً کشمیر میں۔2001ء میں بھارتی پارلیمنٹ پر‘ کشمیری آزادی پسندوں کے حملے سے‘ بھارت کی فوجی قیادت پریشان ہو گئی ۔ اس نے تیز رفتاری سے پاکستانی سرحدوں پر1971ء سے بھی زیادہ‘ طاقت کے ساتھ اپنی افواج جمع کر لیں۔ بظاہر مقصد یہ تھا کہ پاکستان کو زمینی جنگ میں گھسیٹ کر‘ فوری ہزیمت کا نشانہ بنایا جائے لیکن بھارت زمینی جنگ کے اس خطرے سے پاکستان کو ڈرانے میں ناکام رہا۔ بھارتی فوجیں قریباً تین ہفتے تک‘ پاکستانی سرحدوں پر جمع رہیں اور اس دوران‘ پاکستان نے انتہائی تیز رفتاری سے پاک افواج کو متحرک کر کے‘ دفاعی پوزیشن میں لاکھڑاکیا۔ اس دوران عالمی طاقتوں کا دو طرفہ دبائو شروع ہو گیا اور بھارتی قیادت کو باور کرا دیا گیا کہ اسے پاکستان کے ساتھ جنگ کے خاطر خواہ نتائج نہیں مل سکیں گے۔ بھارت جس طرح کی جنگ چھیڑنا چاہتا ہے‘ وہ طویل بھی ہو سکتی ہے اور پر خطر بھی۔ یہی اندیشہ ‘پاکستان کو بھی تھا۔ جلد ہی دونوں ملکوں کو اس جنگ کی واضح کامیابی پر شک ہو گیا۔ بھارتی فوج کو یہ بھی اندیشہ تھا کہ اگر اس نے تیز رفتاری سے پاکستانی علاقے میں پیش قدمی کی غلطی کی تو پاکستان بلاتاخیر ایٹمی اسلحہ کا استعمال شروع کر دے گا اور بھارتی فوجی لیڈر جس جنگ کو محدود میدانی تصادم کی صورت میں دیکھ رہے تھے‘ اگر وہ ایٹمی جنگ میں بدل جاتی تو دو طرفہ تباہی یقینی تھی‘ جس کے دونوں متحمل نہیں ہوسکتے۔چنانچہ عالمی طاقتوں کے دبائو پر‘ بھارت کو اپنی افواج سرحدوں سے پیچھے ہٹانے کا فیصلہ کرنا پڑاتھا۔
2004ء کے بعد بھارت نے”کولڈ سٹارٹ تھیوری‘‘ کے بجائے نئی حکمت عملی اختیار کی اور تیز رفتاری سے حملے کرنے کے لئے‘ اپنی افواج کے آٹھ بڑے گروپ‘ انتہائی تیاری کی حالت میں پاکستانی سرحدوں کے قریب متعین کر دیے۔ یہ فوجی گروپس‘ صرف96گھنٹوں میں حملے کرنے کی اہلیت رکھتے تھے۔ بھارت کے فوجی ماہرین کا خیال تھا کہ اس حکمت عملی کے تحت‘ حملے کے نتیجے میں‘ پاکستان جوابی کارروائی کے قابل نہیں ہو پائے گا۔ بھارتی فوج حملے میں پہل کر کے‘ بڑے علاقے پر کنٹرول قائم کر لے گی اور اس سے پہلے کہ پاکستان جوابی حملے کے لئے تیار ہوتا‘ عالمی طاقتوں کا دبائو شروع ہو جاتا اور جنگ کو وہیں پر روک دیا جاتا۔اس مرحلے پر جنگ روکنا پاکستان کے لئے‘ خسارے کا سودا ہوتا اور وہ‘ کشمیر پر تنازعے کو طول دینے کے بجائے ‘خود اپنے علاقے واپس لینے کو ترجیح دیتا۔بھارت کے دفاعی ماہرین کا 
یہ بھی خیال تھا کہ وہ پا کستانی سرحدوں کے اندر 50 سے 80میل تک پیش قدمی کر کے‘ جنگ بندی پر تیار ہو جائے گا۔ جنگ بندی کی طوالت کی صورت میں‘ بھارت کی فوجی طاقت اس کی متحمل ہو سکے گی کہ محاذ پر متعین فوجی دستوں کو پیچھے ہٹا کر‘ وہاں تازہ دم دستے متعین کرتا رہے جبکہ پاکستان کے پاس دو محاذوں پر فوجوں کو مستقل مصروف رکھنا مشکل ہو جائے گا۔
ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود‘بھارت ٹیکٹیکل ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی پوزیشن میں نہیں آسکے گا۔ بھارت ‘عالمی برادری کے سامنے یہ وعدہ کر چکا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہیں کرے گا جبکہ پاکستان اپنے علاقوں پر قابض بھارتی افواج کے خلاف‘ چھوٹے ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے میں آزاد ہو گا کیونکہ بھارتی فوج‘ اپنے علاقے میں نہیں ہو گی اور پاکستان ٹینکوں کے ذریعے چھوٹا ایٹمی اسلحہ‘ قابض بھارتی فوج کے خلاف آسانی سے استعمال کر سکے گا۔ اس کے جواب میں بھارت کے پاس جوابی ایٹمی حملہ کرنے کے سواکوئی چارئہ کار نہیں رہے گا‘ جس کا مطلب یہ ہوگا کہ پاکستانی شہروں کو نشانہ بنایا جائے۔ یہی وہ موڑ ہو گا‘ جب پاکستان اپنے جدید ترین ایٹمی ذخیرے کا استعمال کرنے میں آزاد ہو جائے گا۔ بھارت کا کوئی بڑا شہر اور صنعتی مرکز حتیٰ کہ اس کے ایٹمی ذخیرے‘ ہر چیز پر نشانے لگائے جا سکیں گے اور پورا برصغیر تباہی کی لپیٹ میں آجائے گا۔ یہی وہ امکان ہے جس کے پیش نظر امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں کو شدید تشویش ہے۔ ایٹمی جنگ کی صورت میں چین کا خاموش رہنا بھی ممکن نہیں ہو گا۔ اگر وہ اپنے اتحادی کی مدد کے لئے جنگ میں کود پڑا تو ناقابل تصور نتائج سامنے آئیں گے۔ بھارت کے انتہا پسند حکمرانوں کو ان خوفناک نتائج کا اندازہ نہیں جبکہ پاکستان ہر قسم کے امکانی نتائج کا وقوف رکھتا ہے۔یہی امکانات امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو پریشان کر رہے ہیں۔ پاک فوج کے سربراہ‘ امریکہ کو ہر طریقے سے یقین دلا سکتے ہیں کہ پاکستان محدود طاقت کے جوہری ہتھیاروں کو بھارت کے خلاف استعمال نہیں کرے گا۔ہمیں اس کی ضرورت بھی نہیں لیکن اگر بھارت کے جنگجو حکمرانوں نے پاکستانی علاقے میں مداخلت کی حماقت کی‘ توپاکستان اپنے علاقے پر قابض فوجوں کو چھوٹے ایٹمی ہتھیاروں کا نشانہ بنانے میں آزاد ہو گا۔ بھارت روایتی اسلحے کے جتنے ذخیرے چاہے جمع کر لے‘ اس کے لئے بیکار ہیں۔ پاکستان کے علاقوں پر قبضہ کرنے کے بھارتی منصوبے ‘الٹا اس کے گلے پڑ جائیں گے۔ جنگ دونوں ملکوں کے درمیان‘ کسی کے لئے فائدہ مند نہیں۔جنگ میں پہل کر کے‘ صرف بھارت خسارے میں رہے گا اور ایٹمی اسلحہ کے استعمال میں پہل کرنا تو بھارت کی مکمل تباہی کو دعوت دینے کے مترادف ہو گا۔