یوم دفاع۔6 ستمبر اورہمارا پاکستان!

92

اختر سردار چودھری ،کسووال
کچھ دن قوموں کی زندگی میں بڑے خاص ہوتے ہیں جوہجوم کو قوم بنا دیتے ہیں،انہی دنوں میں سے ایک دن 6ستمبرہے جویوم دفاع کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ اس دن کو ہر سال منانے کا مقصد اپنی قوم کے ہیروز کی عظیم قربانیوں پر خراج تحسین پیش کرنا ہے۔ 52 سال قبل5 اور 6 ستمبر 1965ء کی درمیانی شب بھارت نے پاکستان کے تین علاقوں سیالکوٹ، لاہور اور قصور پر بیک وقت شب خون مارا تھا ۔یوم دفاع یاد دلاتا ہے اس لمحے کی جب جوانوں نے اپنے سینوں پر بم باندھ کر بھارتی ٹینک تباہ کیے ،ان مشکل فیصلوں کو سلام کرنے کادن ہے جب ماؤں، بہنوں، بیٹیوں، اور بیویوں نے ، اپنے مردوں کو محاذِ جنگ پر روانہ کیا، اپنے زیورات فنڈ میں دیئے ۔یہ اس قوم کی بہادری کو خراج عقیدت پیش کرنے کا جب عوام مورچوں میں نہیں گھروں کی چھتوں پر بھارتی جہازوں کو دیکھ کر لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر کے نعرے لگاتے رہے ۔ایم ایم عالم جیسے عظیم ہیرونے 1965ء کی جنگ میں سرگودھا کے محاذ پر پانچ انڈین ہنٹر جنگی طیاروں کو ایک منٹ کے اندر اندر مار گرائے جن میں سے چار تیس سیکنڈ کے اندر مار گرائے یہ ایک عالمی ریکارڈبنا۔
بعد ازاں سترہ دن جنگ جاری رہی اور23 اور 24 ستمبر کی درمیانی شب رات کے 12 بجے اقوام متحدہ کی مداخلت سے جنگ بندی کا اعلان ہوا تھا ۔اس جنگ میں پاکستان نے اپنے سے دس گنا زیاہ طاقت ور دشمن کی فوج کا مقابلہ کیا ۔لاہور جم خانہ میں جشن کا عزم رکھنے والے جان بچانے کے لیے اسلحہ اور گاڑیاں تک چھوڑ کے بھاگ گئے ۔ ایک غیر ملکی رپورٹ کے مطابق پاک بھارت کی اس جنگ میں نقصان کا تناسب 1:12 تھا ۔یعنی پاکستان کا اگر ایک روپیہ کا نقصان ہوا تو بھارت کا بارہ روپے کا ۔لیکن اب 52 سال کے بعد پھران جذبوں کو ابھارنے کی ضرورت ہے ۔لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے اب یہ دن چند پروگرامز،اخبارات کے ایڈیشنز، شہیدوں کے مزاروں پر پھول چڑھانے تک رہ گیا ہے ۔اب وہ جذبہ نہیں رہا جو ہمارے بچپن میں تھا ۔ جوروح کو تڑپا دے۔ اب رسائل وجرائد میں حب الوطنی پرلکھا بھی کم جاتا ہے ۔
اس وقت پاک افواج کی پشت پر پوری عوام کو کھڑے ہونا چاہیے ۔ بالکل اسی طرح جیسے آج سے با ون سال قبل کھڑی تھی ، بالکل ایسے ہی آج پاکستان کے صاحب اقتدار اور عوام کو نظریاتی جنگ کے محافظ بن کر میدان عمل میں آنا چاہیے ۔اور دشمن کے پروپیگنڈے کا بھر پور جواب دینا چاہیے ۔کیونکہ اول تو اب جنگ نہیں ہو گی اگر ہوگی تو دشمن کو بھی علم ہے کہ ایٹمی جنگ ہو گی ،جس میں ان کا اپنابھی نام ونشان مٹ جائے گا۔بھارت کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ مودی کی پالیسی سے سوائے تباہی وبربادی کے کچھ حاصل نہیں ہو گا ۔
آج اس وقت بھی ہماری قوم ومصائب و آلام اور مشکلات میں گھری ہوئی ہے ۔ناامیدیوں اورمایوسیوں کے منحوس سائے ہیں ۔دیکھاجائے تو موجودہ وقت میں وہ جذبے عنقا ہیں۔ ہمیں اسی جذبہ اتحاد کی ضرورت ہے، جو پاکستان کو بحرانوں سے نکال سکے ۔ ملک و قوم کو ترقی کے راستے پر ڈالنے ،سمت اور رفتار کے درست کرنے،کھرے کھوٹے کو الگ کرنے،سچ جھوٹ کو عیاں کرنے ، کے لیے ایسے لمحات ضروری ہوتے ہیں ۔جب اسے کسی چیلنج کا سامنا ہوتا ہے اس سے قوم کی صلاحیتیں نکھر کر سامنے آتی ہیں ۔
ستمبر کا مہینہ ہم کو یہ یاد دلاتا ہے کہ فوج ، عوام اور حکومت مل کر مشکل سے مشکل حالات کا بخوبی مقابلہ کر سکتی ہے ۔6 ستمبر 1965 ء کو بھارت نے جب پاکستان پر شب خون مارا تو وہ اس وقت اپنی افرادی قوت ،اسلحہ کے انبار اور عالمی سپر طاقتوں کی سر پرستی کی وجہ سے تکبر ،غرور تھا مگر بھارت کو اس جنگ میں منہ کی کھانی پڑی ۔ پاکستان کی عوام اور افواج نے بھارت کے ناپاک ارادوں کو ناکام بنانے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دی ۔پاکستانی قوم نے ستمبر 1965ء کی جنگ میں اپنا دفاع کر کے پوری دنیا پر یہ ثابت کر دیا کہ ہم ایک نا قابل تسخیر قوم ہیں پاکستان کے بہادر فضائیہ،بری اور بحری افواج نے بے مثال اور حیرت انگیز کا ر نامے سر انجام دیئے۔بھارت کے مقابلے میں پاکستان کے پاس بہت ہی کم جنگی سازوسامان تھا جبکہ بھارت کے پاس کئی گنا زیادہ افواج اور اعلیٰ جنگی ہتھیار اور سازوسامان تھا۔تاہم ایک طاقت پاکستان کے پاس تھی جو بھارت کے نصیب میں کبھی نہیں ہو سکتی ،وہ ہے ایمانی جذبہ بلا شبہ پاکستان نے یہ جنگ جذبے سے جیت کر غزوہ بدر کی تاریخ دہرادی تھی۔ دس گنا بڑی دشمن کی فضائیہ جذبہ شہادت سے لیس ہوابازوں کے سامنے نہ ٹھہر سکی۔ دشمن طاقت کے زور پہ لڑتا ہے جبکہ مسلمان جذبہ ایمانی اور جذبہ شہادت سے لڑتا ۔
آج ہمارادشمن بھارت پھر بے قرار ہے اسے ستمبر کی جنگ میں ملنے والی ہار برداشت نہیں ہو رہی ۔ اسے 65 بھولتا نہیں ہے اور ہم بھی یہ ہی کہتے ہیں کہ تم کو 65 تو یاد ہو گا ۔ویسے بھارت کو تو ہر لمحہ یاد ہے اسی لیے وہ اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے ۔ہمارے ساتھ جنگ لڑنے کی دھمکی کے ساتھ ثقافتی محاذ پر جنگ لڑ رہا ہے۔ عوام ،حکومت اور افواج کے مابین نفرتیں پھیلانے کے ایجنڈے پر کام کر رہا ہے ،اس کے لیے ان کا اپنا میڈیا اور بدقسمتی سے پاکستانی میڈیا میں سے کچھ عناصر بھی ساتھ دے رہے ہیں ۔
ہمارے لیے فخر کی بات یہ ہے کہ پاکستان دنیا کی دس بہترین ائیر فورسزز میں پانچویں ،آرمی میں چوتھے،تعداد کے لحاظ سے ساتویں اور ساتویں ہی ایٹمی طاقت ہے۔اور آئی ایس آئی دنیا میں سب سے بہترین پاکستان کی ہے ۔ایک بات بڑی توجہ طلب ہے ہمارے یہ دو ادارے یعنی فوج اور آئی ایس آئی دشمنانِ پاکستا ن کی نظروں میں کھٹک رہے ہیں،اب ان دونوں اداروں کے خلاف سازشیں زور و شور سے جاری ہیں ان سازشوں میں ان کا ساتھ ہمارے اپنے ملک سے دینے والے بہت سے غدار ہیں ۔
کہنا پڑتا ہے کہ قیام پاکستان کے بعد تیسری نسل(موجودہ طالب علم) بانی قوم قائد اعظم محمد علی جناح کے تصور پاکستان سے آشنا نہیں ہے ۔ ان میں وہ حب الوطنی ابھارنے کے لیے ہمارے ذرائع ابلاغ اپنا کردار ادا نہیں کر رہے۔ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہمارا ملک کہاں کھڑا ہے ۔موجودہ صورت حال جو ملک کی ہے ہم چومکھی مسائل میں گھرے ہوئے ہیں ۔اہم مسائل کو پس پشت ڈالا جا رہا ہے ۔ڈنگ ٹپاؤ پالیسی سے ملک چلایا جا رہا ہے ۔ہمارا معاشرہ دو نہیں چار انتہاؤں کو چھو رہا ہے غریب اور امیر میں پڑھتا فرق ۔ایک طرف خط غربت سے نیچے سسکتی زندگی ۔دوسری طرف اربوں کے اثاثے ۔اسی طرح ایک طرف فرقہ پرستی کی انتہا اور دوسری طرف مذہب سے کسی حد تک بے زار نسل ۔اسکی وجوہات کا سب کو علم ہے حل کو بھی جانتے ہیں بات صرف عمل کی ہے ۔قانون ہے نفاذنہیں ۔اس قدر نفسا نفسی کا عالم ہے کہ لوگوں کے اس ہجوم میں انسان تلاش کرنا مشکل ہوگیاہے ۔ہمارے ملک کے موجودہ حالات ہمارے سیاست دانوں کے پیدا کردہ ہیں۔ حکمران (سابقہ ،موجودہ) اقتدار کے نشے میں گم ہیں ۔اس کی وجہ صرف ایک ہے ہم نے جس مقصد کی خاطر یہ ملک حاصل کیا تھا یعنی اسلامی قلعہ بنانے کے لیے اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے اس سے ہٹ گئے ہیں اس وقت ملک کوجن مسائل کا سامنا ہے ان کو حل کرنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے وہ ہے اللہ کابنایا ہوا نظام حکومت اس ملک میں نافذ کر دیا جائے ۔ ضرورت ہے چھوٹے چھوٹے ذاتی مفادات کی بجائے قومی وملکی مفادات کو ترجیح دیں۔ہم پاکستانی ایک قوم ہیں،ہم سب مسلمان ہیں ہم کو الگ الگ کرنے والے ہمارے سیاست داں ہیں ،مذہبی رہنما ہیں یہ ہمارے درمیان تفرقہ پیدا کر کے ہم پر حکومت کر رہے ہیں ۔جس دن عوام نے یہ بات جان لی اس دن ایک نیا پاکستان وجود میں آ جائے گا ۔اس کے لیے ہم سب کو سچائی کا پیمانہ قرآن و حدیث ﷺ بنانا ہو گا ۔