ہم مایوس کیوں ہو جاتے ہیں؟

10

مایوسی یا خیبت (frustration) ہم اس احساس کو کہتے ہیں جو ایک شخص اپنی کسی خواہش کی تسکین نہ ہونے پر محسوس کرتا ہے۔ مثلاً ایک طالب علم امتحان میں پاس ہونا چاہتا ہے لیکن فیل ہو جائے تو وہ مایوسی سے دوچار ہوگا یا اگر کوئی کھلاڑی کھیل میں مقابلہ جیتنا چاہے، لیکن ہار جائے تو وہ مایوسی میں مبتلا ہوگا۔ کچھ نفسیات کے لکھنے والے اس احساس یا ردعمل کی مختلف انداز میں تعریف کرتے ہیں تاہم اس کی سیدھی سادی اور بامعنی تعریف یہی ہے کہ یہ کسی خواہش کی تسکین نہ ہونے کا ردعمل ہے۔ اب اگر ہم اس تعریف میں اپنے آپ کا اور اپنے اردگرد کا جائزہ لیں تو ہم جان لیں گے کہ دنیا کا ہر شخص اپنی زندگی میں مایوسی یا خیبت کا شکار رہا ہے اور جب تک کسی شخص کی سانس میں سانس ہے، وہ اس سے دوچار ہوتا رہے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی بھی شخص کی تمام خواہشات کی تسکین اس کی مرضی کے عین مطابق ممکن ہی نہیں ہوتیں، اس لیے وہ کسی نہ کسی حد تک مایوسی کا شکار رہے گا۔ تاہم کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن میں یہ احساس زیادہ شدید نہیں ہوتا اور کچھ لوگ ایسے ہیں جن میں یہ احساس شدید حد تک پایا جاتا ہے۔ اس ضمن میں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ مایوسی کا تعلق ایک طرف تو ہمارے اپنے ذہنی اعمال سے ہوتا ہے اور دوسری طرف بیرونی حالات سے۔ ہمارے ذہنی اعمال میں مندرجہ ذیل عناصر مایوسی سے متعلق سمجھے جا سکتے ہیں: ا۔ہماری خواہشات کی نوعیت، ۲۔ ہماری خواہشات کی شدت، ۳۔ ہماری سوچ کی لچک، ۴۔ ہماری سوچ اور کردار میں فاصلہ یا تضاد، ۵۔ خواہشات کی باہمی کش مکش۔ ان وجوہ میں وہ تمام عناصر شامل ہیں جن کی بنا پر ایک شخص اپنی خواہشات کی تکمیل کرنے میں ناکام رہے۔ ان تمام عناصر کو ہم دو گروہوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ پہلا گروہ ایسے عناصر کا ہے جو انسان کے اپنے نہیں بلکہ فطرت کے پیدا کردہ ہیں۔ ان کو مایوسی کی فطری وجوہات کہا جاسکتا ہے۔ دوسرا گروہ ایسے عناصر کا ہے جو انسان کے اپنے پیدا کردہ ہے اور ان کو مایوسی کی انسانی یا معاشرتی وجوہ کہا جاسکتا ہے۔ فطری عناصر سے پیدا شدہ مایوسی:اکثر اوقات ہم فطرت کے پیدا کردہ حالات کی وجہ سے اپنی کسی خواہش کی تسکین سے قاصر رہتے ہیں اور یوں ہم مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ مثلاً آپ اپنے کسی دوست سے ملنا چاہتے ہیں لیکن شدید موسمی حالات یعنی تیز بارش، برف باری یا گرمی کی وجہ سے ایسا نہیں کر سکتے۔ اب ان بیرونی اور موسمی حالات کی وجہ سے پیدا شدہ مایوسی کو ہم فطری عناصر سے پیدا شدہ مایوسی کے گروہ میں شامل کریں گے۔ اسی طرح کسی عزیز کی وفات سے پیدا شدہ غم اور اس سے منسلک مایوسی کو بھی فطری وجوہ کی بنا پر پیدا شدہ مایوسی کے گروہ میں شامل کریں گے۔ انسانی یا معاشرتی وجوہات کی بنا پر پیداشدہ مایوسی:اس کے برعکس ہماری زیادہ تر مایوسی ایسی ہے جو ایک انسان کے دوسرے انسانوں سے باہمی تعلقات کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ اس لیے اس کو ہم انسانی یا معاشرتی وجوہات کی بنا پر پیدا شدہ مایوسی کہیں گے۔ انسان کے انسان پر جبر سے پیدا شدہ مایوسی بھی نوع انسان کے مقدر کا حصہ رہی ہے۔ دنیا کی بڑی آبادی جبر، غربت، جہالت اور بیماریوں جیسے گھمبیر مسائل سے دوچار ہے۔ ان کی بنا پر پیدا ہونے والی مایوسی کا سدباب انسان کے اپنے پاس موجود ہے۔ یہ ایک الگ بات ہے کہ وہ اپنی وحشیانہ مصلحتوں کے تحت ان وجوہات کو ختم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کرتا۔ ذہنی اعمال سے پیدا شدہ مایوسی:مایوسی کی ایک قسم وہ ہے جس کی کنجی انسانی ذہن اور اعمال ہیں۔ آئیے اب ہم ایک فرد کی سوچ اور کردار میں پائے جانے والے ان عناصر کا جائزہ لیتے ہیں جن کی بنا پر اس شخص میں مایوسی پیدا ہوتی ہے۔ ہماری خواہشات اور ان کی نوعیت:ایک شخص کے ذہنی اعمال اور کردار سے پیدا ہونے والی مایوسی کے سلسلے میں سب سے پہلے اس شخص کی خواہشات اور ان خواہشات کی نوعیت کا ذکر کرنا ضروری ہے۔ جیسا کہ ظاہر ہے، اگر ایک شخص کی خواہشات ایسی ہوں گی جن کی تسکین ممکن ہی نہ ہو تو مایوسی کا شکار رہے گا۔ مثلاً اگر وہ خواہش ظاہر کرے کہ شہنشاہ شاہ جہاں کے دور میں موجود ہوتا اور تاج محل کی تعمیر میں حصہ لیتا تو ظاہر ہے وہ ایسا کر سکنے سے قاصر ہے۔ بظاہر یہ مثال مضحکہ خیز لگے لیکن اگر آپ اپنے باطن کا تنقیدی جائزہ لیں تو آپ خود محسوس کریں گے کہ آپ کی بہت سی خواہشات ایسی ہیں جن کی تسکین ممکن ہی نہیں۔ ہر شخص میں دو اقسام کی خواہشات پائی جاتی ہیں۔ اس کی کچھ خواہشات حقیقت پسندی پر مبنی ہوتی ہیں اور کچھ غیر حقیقت پسندانہ ہوتی ہیں۔ کسی شخص کی خواہشات میں حقیقت پسندی اور غیر حقیقت پسندی میں پایا جانے والا تناسب خاصی حد تک اس میں پائی جانے والی مایوسی کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ خواہشات کی شدت:کسی خواہش کی شدت کا جس طرح ہمارے کردار سے گہرا تعلق ہے اسی طرح ہماری مایوسی سے بھی ہے۔ جس طرح خواہشات کی شدت ہمارے لیے محرک کا کردار ادا کرتی ہے، یعنی ہمیں اس کی تسکین کے لیے عمل کرنے پر مجبور کرتی ہے، اسی طرح یہی شدت تسکین نہ ہونے کی بنا پر مایوسی کا باعث بنتی ہے۔ اس ذہنی عمل اور مایوسی کے تعلق کو یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ جس قدر خواہش کی شدت زیادہ ہوگی، اسی مناسبت سے وہ ہمیں اس خواہش کی تسکین کے لیے متحرک کرے گی اور تسکین نہ ہونے کی صورت میں ہمیں اسی قدر مایوسی ہو گی۔ ہماری سوچ کی لچک: انسانی ذہنی اعمال میں تیسرا عنصر جو کہ کسی فرد کی مایوسی کا باعث بنتا ہے، وہ اس کی سوچ میں لچک کا عنصر ہے۔ آسانی کے طور پر اسے یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر کسی شخص کی سوچ لچک دار ہوگی تو مایوسی کا شکار نہیں ہوگا اور اگر اس کی سوچ غیر لچکدار اور جامد ہوگی تو اس بنا پر مایوسی کا شکار ہوگا۔ لچکدار سوچ کے حامل انسان میں مندرجہ ذیل خصوصیات ہوتی ہیں۔ اپنی ذات، عمل اور سوچ کا تنقیدی جائزہ لینے کی صلاحیت۔ متضاد شہادت یا ثبوت کو جانچنے اور درست پانے پر اپنانے کی صلاحیت۔ اپنی سوچ اور کردار کو اپنے تجربات کی روشنی میں تبدیل کرنے کی صلاحیت۔ سوچ اور کردار میں فاصلہ:ذہنی اعمال سے پیدہ شدہ مایوسی کا آخری اور اہم سبب ہماری سوچ اور کردار کا فاصلہ یا تضاد ہے۔ اگر ایک شخص سوچتا ہے کہ وہ فلم انڈسٹری کا ہیرو بن جائے لیکن وہ اس کے لیے مناسب تربیت حاصل نہیں کرتا تو وہ مایوسی کا شکار ہوگا۔ اسی طرح ایک طالب علم سوچتا ہے کہ وہ کرکٹ کا بہت بڑا کھلاڑی بن جائے لیکن وہ اس کی کوئی مشق نہیں کرتا تو وہ اپنی خواہش اور کردار میں فاصلے یا تضاد کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہوگا۔ جیسا کہ آپ جانتے ہوں گے کہ روز مرہ زندگی میں مایوسی نہ تو محض بیرونی حالات کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے اور نہ ہی محض شخصی سوچ یا ذہنی عوامل کی وجہ سے، بلکہ اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ یہ دونوں عناصر کچھ اس طرح سے گڈ مڈ ہو جاتے ہیں یہ کہنا ممکن نہیں رہتا کہ مایوسی کس ایک وجہ سے ہوئی۔ خواہشات کی باہمی کشمکش:ہماری خواہشات کی نوعیت کچھ ایسی ہے کہ ہم زندگی میں کچھ چیزیں حاصل کرنا چاہتے ہیں اور کچھ سے گریز کرنا چاہتے ہیں۔ مثلاً ہم سکون حاصل کرنا چاہتے ہیں اور تکلیف سے بچنا چاہتے ہیں۔ لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ حصول اور گریز کی راہ سیدھی نہیں ہوتی اور ہماری خواہشات میں کشمکش پیدا ہو جاتی ہے، جو مایوسی کا باعث بنتی ہے۔