افغانستان و ایران کو اسمگلنگ سے مقامی سطح پر پیاز کا بحران

5

بارشوں سے پیاز کی فصل کو پہنچے والے نقصانات اور افغانستان اور ایران کو پیاز کی بڑے پیمانے پر برآمد کی وجہ سے مقامی سطح پر پیاز کی قیمت کا بحران پیدا ہوگیا ہے۔

بازاروں میں پیاز نایاب ہوگئی ہے، پنجاب کے شہروں میں زیادہ قلت  کا سامنا ہے۔درآمد کنندگان نے پیاز کی قیمتوں کا بحران حل کرنے کے لیے فوری طور پر پیاز کی درآمد کی اجازت کا مطالبہ کردیا ہے۔ پاکستان میں پیاز کی قیمت 100 روپے کی بلند سطح تک پہنچ گئی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں پیاز کی سالانہ پیداوار 8لاکھ ٹن سے زائد ہے جبکہ مقامی کھپت 6لاکھ ٹن بتائی جاتی ہے۔ اس طرح 2لاکھ ٹن اضافی پیداوار ایکسپورٹ کردی جاتی ہے جس میں سے زیادہ تر زمینی راستے سے افغانستان اور ایران کو ایکسپورٹ کی جاتی ہے جبکہ بھارت کی پیاز کی فصل متاثر ہونے کی صورت میں پاکستان کے لیے مڈل ایسٹ اور ایشیاء کے دیگر ملکوں کو پیاز کی ایکسپورٹ کا موقع مل جاتا ہے۔-پاکستان میں پیاز پکوانوں کا لازمی جز ہے اہم تہواروں اور عیدین کے موقع پر مقامی طلب میں بھی 10گنا تک اضافہ ہوجاتا ہے۔ عیدالالضحیٰ پیاز کی کھپت کا ایک اہم سیزن ہے اس سال بھی عید سے قبل پیاز 60روپے کلو قیمت پر فروخت ہورہی تھی جو عید کی تعطیلات میں 100روپے کلو تک فروخت کی گئی۔

پیاز کے بیوپاریوں کے مطابق بلوچستان میں پیدا ہونے والی زیادہ تر پیاز کا اسٹاک اب ختم ہوچکا ہے بارشوں کی وجہ سے پیاز کے اسٹاک اور فصل کو نقصان پہنچا ہے اور اب سندھ کی فصل آنے میں ڈیڑھ سے دو ماہ کا عرصہ باقی ہے اس دوران پیاز کی طلب پوری کرنے کے لیے درآمد کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا۔ سندھ میں بھی پیاز کی فصل کو بارشوں سے نقصان پہنچا ہے اور ابتدائی اندازوں کے مطابق پیاز کی 20فیصد پیداوار متاثر ہوئی ہے جو اکتوبر کے مہینے میں بازار میں آئے گی۔

ادھر درآمد کنندگان نے تجویز پیش کی ہے کہ پیاز جیسے بنیادی کچن آئٹم کی طلب پوری کرنے لیے فوری طور پر درآمد کی اجازت دی جائے جو ترکی، مصر یا چین سے درآمد کی جاسکتی ہے مقامی طلب پوری کرنے اور سندھ کی نئی فصل بازار میں آنے تک درآمدی پیاز سے طلب پوری کی جاسکتی ہے جس سے پیاز کی قیمتوں کو استحکام ملے گا، درآمد کنندگان کے مطابق پیاز درآمد نہ کی گئی تو بازار میں مقامی پیاز نایاب ہوجائے گی اور قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا دوسری جانب درآمدی پیاز مارکیٹ میں آنے سے خوردہ قیمت 50سے 60روپے تک مستحکم رکھی جاسکے گی۔