رگوں میں کیلشیم، کولیسٹرول سے بھی زیادہ خطرناک ہے، تحقیق

8

ایک تازہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اگر انسانی رگوں میں کیلشیم جمع ہوجائے تو وہ ہائی بلڈ پریشر اور کولیسٹرول سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے اور اس کے نتیجے میں دل کے دورے اور فالج کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

اب تک ہم یہ تو جانتے تھے کہ بلند فشارِ خون (ہائی بلڈ پریشر) اور کولیسٹرول کی زیادتی سے دل کے دورے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے لیکن اس تحقیق میں کیلشیم کو ان دونوں عوامل سے کہیں زیادہ سنگین قرار دیا گیا ہے۔ یونیورسٹی آف ٹیکساس، ڈلاس میں 45 سے 84 سال کے 6,200 افراد پر کیے گئے اس مطالعے میں بطورِ خاص یہ جائزہ لیا گیا کہ رگوں کی اندرونی سطح پر جمع ہوجانے والی کیلشیم، انسانی صحت پر کس طرح کے اور کیسے اثرات مرتب کرتی ہے۔

اس سے پہلے یہ بات سامنے آچکی تھی کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کیلشیم کی معمولی مقداریں بھی رگوں کی اندرونی دیواروں پر تہہ در تہہ جمع ہوتی رہتی ہیں اور یہ کہ اگر صحت مند طرزِ حیات اختیار نہ کیا جائے تو رگوں کے اندر جمع ہوجانے والی کیلشیم ان میں سختی کی ایک وجہ بھی بن سکتی ہے اور یہی سختی آگے چل کر فالج اور دل کے دورے کی وجہ بھی بنتی ہے۔

اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ان تمام رضاکاروں کے دس سالہ طبی ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ جن افراد کی رگوں میں کیلشیم کی پرتیں موجود نہیں تھیں ان میں فالج یا دل کے دورے کا خطرہ بھی 3 فیصد کم تھا۔ بظاہر یہ شرح بہت کم معلوم ہوتی ہے لیکن پھر بھی بہت اہم ہے کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جن لوگوں کی رگوں میں بہت کم کیلشیم جمع ہوتی ہے یا پھر بالکل بھی جمع نہیں ہوتی، انہیں کولیسٹرول کم کرنے والی دوائیں لینے کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔

اس کے علاوہ یہ بھی دیکھا گیا کہ رگوں میں کیلشیم کی غیر موجودگی کے خوشگوار اثرات ایسے افراد میں بھی نمایاں تھے جنہیں ذیابیطس تھی یا پھر ہائی بلڈ پریشر اور مضرِ صحت کولیسٹرول (ایل ڈی ایل) کی زیادتی کا شکار تھے۔

اس تحقیق کی روشنی میں ماہرین کا مشورہ ہے کہ وہ فالج یا امراضِ قلب کے مریضوں میں جہاں دوسرے پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہیں، وہیں ایک اضافی ’’سی ٹی اسکین‘‘ کے ذریعے یہ بھی معلوم کرلیں کہ متعلقہ مریض کی رگوں میں کیلشیم کی مقدار کم ہے یا زیادہ؛ تاکہ بہتر مشورہ دے سکیں اور موزوں ترین دوا بھی تجویز کرسکیں۔

اس دریافت کے باوجود ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ رگوں میں کیلشیم جمع نہ ہونے کو صحت مندی کی واحد دلیل نہ سمجھ لیا جائے کیونکہ دل کی بیماریوں اور فالج وغیرہ میں اس کے علاوہ بھی کئی عوامل کا کردار ہوتا ہے جنہیں کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس تحقیق کی تفصیلات ’’جرنل آف دی امریکن کالج آف کارڈیالوجی: کارڈیو ویسکیولر امیجنگ‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں