میانمار کی نوبل انعام یافتہ رہنما سوچی کی مسلمانوں پر ریاستی تشدد کی تردید

7

میانمار میں حکمراں جماعت کی سربراہ آنگ سان سوچی نے بالآخر مسلمانوں پر جاری مظالم پر خاموشی توڑ دی۔

نوبل انعام یافتہ میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی نے اپنے جاری کردہ بیان میں انتہائی ڈھٹائی اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے روہنگیا مسلمانوں پر جاری مظالم کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ برمی حکومت ریاست راکھائن میں ہر شخص کو تحفظ فراہم کررہی ہے۔

ترک صدر رجب طیب اردوان سے فون پر گفتگو میں سوچی نے مسلمانوں پر ریاستی تشدد کی تردید کی۔  آنگ سان سوچی نے مظالم کے تمام ثبوت، ویڈیوز، تصاویر، اقوام متحدہ اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کے بیانات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ روہنگیا مسلمانوں پر مظالم سے متعلق غلط خبریں پھیلائی جارہی ہیں جس کی وجہ سے مختلف برادریوں کے درمیان مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔

سوچی نے برمی فوج کی ریاستی دہشت گردی پر آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا کہ روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کی خبروں سے دہشت گردی بڑھے گی جو جلتی پر تیل کا کام کریں گی۔ ترک صدر اردوان نے سوچی سے بات چیت میں روہنگیا مسلم اقلیت کے خلاف طاقت کے بے جا استعمال کو روکنے اور عام شہریوں کو نقصان پہنچانے سے باز رہنے کا کہا۔

خیال رہے کہ اقوام متحدہ کے مطابق دو ہفتوں میں سوا لاکھ روہنگیا مسلمان میانمار سے ہجرت کرکے بنگلہ دیش منتقل ہوچکے ہیں، جب کہ برمی فوج کے ہاتھوں سیکڑوں افراد شہید اور ہزاروں زخمی ہیں۔