کم کاربوہائیڈریٹ والی ’کیٹوجینک ڈائٹ‘ سے بہتر یادداشت اور لمبی زندگی

6

دو نئی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ کیٹوجینک غذاؤں سے جہاں بہت سے دیگر فوائد حاصل ہوتے ہیں وہیں حافظہ بہت اچھا ہوتا ہے اور یہ طویل زندگی میں بھی اپنا اہم کردار ادا کرتی ہے۔

کیٹوجینک غذائیں مصنوعی رنگوں اور ملاوٹ سے پاک قدرتی غذاؤں کو کہا جاتا ہے جن میں کاربوہائیڈریٹس کی مقدار بہت کم ہوتی ہے جبکہ چکنائی زیادہ اور پروٹین بھی خاصی مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔ حال ہی میں چوہوں پر دو تجربات کئے گئے ہیں جن میں کیٹو غذاؤں کی اہمیت مزید سامنے آئی ہے۔

اس سے قبل کینسر کے خاتمے، توجہ کے ارتکاز، وزن میں کمی، مرگی کے علاج اور دیگر کئی امراض میں کیٹو طریقہ علاج بالغذا کی افادیت ثابت ہوچکی ہے۔ لیکن اب امریکی شہر نوواٹو میں بک انسٹی ٹیوٹ آف ایجنگ کے ایرک ورڈِن اور جان نیومن نے چوہوں کی عمررسیدگی پر کیٹو کے تجربات کئے ہیں جبکہ دوسرا مطالعہ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں ڈیوس اسکول آف ویٹرنری میڈیسن نے جان رامسے نے کیا ہے۔ انہوں نےبھی چوہوں کی یادداشت اور توجہ پر کیٹو غذاؤں کے اثرات پر تحقیق کی ہے۔ یہ تحقیق ’’سیل میٹابولزم‘‘ نامی مجلے میں شائع ہوئی ہے۔

بک انسٹی ٹیوٹ کے مطابق کیٹو کے اثرات عین روزے یا فاقے کی طرح تھےاور اس کے علاوہ یہ دل کی افعال کو درست رکھنے، گلوکوز کو اعتدال پر رکھنےاور دماغی صحت پر اچھے اثرات میں بھی نمایاں رہی۔ ماہرین کے مطابق کیٹوغذائیں جسم میں بی ٹا ہائیڈروکسی بیوٹریٹ (بی ایچ بی) کی مقدار بڑھاتی ہیں جس سے دماغ سرگرمی، یادداشت اور کام کرنے کی صلاحیت بڑھتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بی ایچ بی بڑھاپے کو دور رکھتی ہے اور اہم اعضا اور ٹشو کو بھی درست حالت میں رکھتی ہے۔

دوسری ٹیم نے بتایا کہ جن چوہوں کو کاربوہائیڈریٹس کی بجائے چکنائیوں (فیٹس) کی بڑی مقدار دی گئی ان کی اوسط عمر 13 فیصد زیادہ نوٹ کی گئی جو انسانوں میں 7 سے 10 سال اضافے کے برابر ہے۔ اس کے علاوہ یہ چوہے صحتمند رہے اور ان کے اعضا مضبوط اور درست حالت میں دیکھے گئے۔

یٹوجینک غذا میں لحمیات اور پروٹین زیادہ جبکہ کاربوہائیڈریٹس بہت کم کھائے جاتے ہیں۔ ان غذاؤں میں گھاس چرنے والے میویشیوں کا گوشت، گھی، تیل، زیتون کا تیل، چکنائی والی مچھلی، انڈے، مغزیات، پھلیاں، خشک گری دار میوے، ایواکاڈو، زمین سے اوپر اگنے والی سبزیاں اور دیگر اشیا شامل ہیں؛ جبکہ پروسیس شدہ غذاؤں، ڈیری اور بیکری کی مصنوعات سے پرہیز کیا جاتا ہے۔

اہم بات یہ ہے کیٹو غذا کے اثرات بہت دیرپا ہوتے ہیں یعنی ایک طویل عرصے تک جسم پر ان کے اچھے اثرات برقرار رہتے ہیں۔