قطرنےخلیجی پابندیوں کے باعث پاکستان سے تجارتی تعلقات بہتر بنالیے

12

قطر پر سعودی عرب سمیت 4 عرب ممالک کی پابندیوں کے نتیجے میں پاکستانیوں کی چاندی ہوگئی ہے۔

4 عرب ممالک کی جانب سے قطر پر سمندری، زمینی اور فضائی پابندیاں عائد کرنے کے باعث قطری حکومت نے دیگر ایشیائی ممالک  سے تجارتی تعلقات بہتر بنانے شروع کردیے جن میں پاکستان سرفہرست ہے۔ سرکاری قطری کمپنی میلاہا نے رواں ہفتے سے کراچی تا دوحہ تیز رفتار براہ راست بحری سروس شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پہلا بحری جہاز قطر کی حماد پورٹ سے چار روز کا سفر طے کرنے کے بعد 11 ستمبر پیر کے روز کراچی پہنچے گا۔ میلاہا نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہم تاجروں، برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے قطر اور ایشیا کی اہم مارکیٹوں کے درمیان کاروبار کو فروغ دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس سے پہلے کراچی سے شپمنٹس دبئی جاتی تھیں تاہم اب براہ راست دوحہ جائیں گی۔

قطر پاکستان سے کھانے پینے کی اشیا خریدے گا جبکہ پیٹروکیمیکلز مصنوعات فروخت کرے گا۔ پاکستانی تاجروں نے اسے زبردست اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ قطر سے کاروبار میں اضافہ ہوگا۔ اعداد و شمار کے مطابق 2017 کی پہلی سہہ ماہی میں قطر نے پاکستان سے 2 کروڑ ڈالر کی اشیا خریدیں اور اسے 35 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی مصنوعات بشمول ایل این جی فروخت کی۔

واضح رہے کہ سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے قطر پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام لگا کر اس سے تمام سفارتی و تجارتی تعلقات منقطع کرلیے ہیں۔