میرے قبیلے کی گرو

12
بانو قدسیہ کو میں اپنا گرو مانتی ہوں۔ وہ خواتین کے قلم قبیلے کی گرو تھیں۔ ان کی شخصیت میں بہت کچھ تھا؛ دریافت کرنے کو‘ سمجھنے کو‘ سیکھنے کو اور حیران ہونے کو۔ ان کی شخصیت کے گرد وقار کا ایک ایسا حصار تھا جیسے چاند کے گرد روشنی کا ہالہ! ان سے مل کر اندازہ ہوتا کہ انسان کی شخصیت کا ایک سحر انگیز ماحول ہوتا ہے‘ ایک فضا ہوتی ہے۔ بانو آپا کی شخصیت کا ماحول ان سے ملنے والوں کو مسمرائز کر دیتا۔ جب تک آپ ان کے قریب رہتے ان کی شخصیت کی فضا کے خاص سحر سے باہر نکلنا ناممکن ہوتا۔ مجھے ان سے اپنی پہلی ملاقات یاد آتی ہے‘ داستان سرائے میں۔ جب اشفاق صاحب سفر آخرت کو روانہ ہوئے تو شہر کے نامور اور بے نام سبھی لوگ ان کے گھر کی طرف جوق در جوق آ رہے تھے۔ مجھے وہ منظر یاد آتا ہے کہ کمرے میں اشفاق صاحب کی میت دھری تھی۔ ایک جانب کونے میں نور الحسن قرآن پاک کی قرأت سے تلاوت کر رہے تھے۔ بانوآپا سفید لباس میں ملبوس، دوپٹہ سر پر اوڑھے سوگوار بیٹھی تھیں۔ شریک سفر سے بچھڑ نے کے غم اور ملال نے ان کی ایسی تصویر بنا دی تھی کہ وہ غم کی کوئی دیوی لگ رہی تھیں۔ میں نے پہلی بار بانو آپا کو اس منظر میں قریب سے دیکھا‘ سچ پوچھیں تو میں ان کی شخصیت کے سحر سے مبہوت ہوکر رہ گئی۔ دوسرے غم گساروں کی طرح میں نے بھی ان کے ہاتھ کو مصافحے کے انداز میں چھوا۔ مجھے لگا جیسے میں کسی مقدس شے کو ہاتھ لگا آئی ہوں۔
یہ تھا بانو آپا کی شخصیت کا ماحول … آپ کو اپنی لپیٹ میں 
لے لینے والا۔ بانو آپا کو چاہنے والوں‘ ان کی تحریروں کو پڑھنے والوں کا ان سے ایسا ہی رشتہ تھا… پیرو مرشد والا۔ میرے نزدیک ان کی شخصیت میں ادبی طاقت اور قد کاٹھ کے ساتھ ان کی روحانی طاقت کا بھی دخل تھا‘ بلکہ اُن کی یہ روحانی طاقت ہی اُن کی شخصیت کی اصل بنیاد تھی۔ اسی روحانی طاقت نے ان کے اندر شوہر پرستی کا ایسا رنگ پیدا کیا جس کی مثال نہیں ملتی۔ اسی روحانیت نے ان کے اندر سے”میں‘‘ کو ختم کیا اور انہیں عاجزی عطا کی۔ وہ چیزوں کو‘ واقعات کو‘ حالات کو اور نظریات کو ایک خاص نگاہ سے دیکھنے لگیں۔ وہ اشفاق صاحب سے بڑی لکھاری ہی نہ تھیں بلکہ روحانیت میں بھی ان سے کہیں آگے تھیں۔ اشفاق صاحب دنیا داری کے تقاضے بھی نبھاتے تھے۔ پبلک ریلیشنز کی اہمیت سے خوب واقف تھے۔ اہل اختیار سے بنا کر رکھنے کا ہنر جانتے تھے۔ اس کے برعکس بانو آپا دنیا دار نہ تھیں۔ اُن کی دنیا ان کے شوہر اشفاق احمد کے گرد گھومتی تھی۔ وہ اکثر اپنے انٹرویوز میں بہت عاجزی سے اس بات کا اظہار کرتیں کہ انہیں اشفاق صاحب نے لکھنا سکھایا ہے۔ اگر ان کی زندگی میں اشفاق صاحب نہ ہوتے تو وہ آج بانو قدسیہ نہ ہوتیں۔ مگر یہ بانو آپا خیال تھا۔ میرے نزدیک اشفاق صاحب کی زندگی کا پارس بانو قدسیہ تھیں جنہوں نے انہیں ایک ”لارجر دین لائف‘‘ (Larger than life) شخصیت بنایا۔ قدرت اللہ شہاب اہل اختیار قبیلے سے تھے۔ اشفاق صاحب کی زندگی میں آئے تو بانو آپا نے ان سے عقیدت کے اظہار میں ”مردِ ابریشم ‘‘ کے نام سے کتاب لکھ دی۔ یوں بانو آپا نے اشفاق صاحب کی پبلک ریلیشننگ کو حد درجہ سپورٹ کیا۔ بانو آپا کی شخصیت کے کئی رنگ ہیں۔ بظاہر یہ رنگ ایک دوسرے سے متضاد نظر آتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ انہی رنگوں کی قوسِ قزح کا نام بانو قدسیہ ہے۔ ایک جانب وہ ادب کے عظیم شاہکار تخلیق کرتی نظر آتی ہیں تو دوسری جانب گھر‘ بچوں اور شوہر کی خدمت میں کُھبی ہوئی گرہستن ہیں۔ باورچی خانے میں پیڑھی پر بیٹھی پھلکے اتار رہی ہیں اور ان کے ہاتھ کے بنے پھلکوں اور ہانڈی کی لذت سے لطف اندوز ہونے والوں میں صرف ان کے شوہر اور بچے ہی شامل نہیں بلکہ لکھاریوں اور ادیبوں کا خاص قریبی حلقہ بھی لطف اندوز ہوتا رہا۔ انہی خوش نصیبوں کا کہنا ہے کہ بانو آپا کے دستر خوان پر جس نے کھانا کھایا اُسے پھر اور کہیں کا شلجم گوشت اور پھلکا پسند نہ آیا۔ بانو قدسیہ ہانڈی برتائے تو لوگ چپ چاپ کھاتے ہیں۔ بانو کہانی پڑھے تو چپ چاپ سنتے ہیں۔
زندگی کے جس نظریے پر بانو آپا یقین رکھتی تھیں اُسے بلا دھڑک بیان کر دیتیں۔ ان کے خیالات بعض اوقات لبرل ذہن کی عورتوں کو بھڑکا دیتے۔ ایسے گروپس کی تنقید کا بانو آپا پر کچھ اثر نہ ہوتا۔ انہوں نے پلٹ کر کبھی جواب نہ دیا۔ ہاں جس چیز پر ایمان رکھا اُسے حرزِ جان بنائے رکھا۔ صرف اپنی کہانیوں میں ہی اُسے بیان نہ کیا بلک اپنی عملی زندگی کی بنت میں اسے اس طرح بُن لیا کہ بانو آپا جو اپنے قاری کو اپنی تحریروں کے آئینے میں دکھائی دیتیں وہ اپنی ذاتی زندگی کے زاویے سے اُن نظریات اور خیالات پر بھی پورا اترتیں۔ بانو آپا کی شخصیت کا احاطہ کرنا ایک مختصر سی تحریر میں بہت مشکل ہے۔
اردو اور پنجابی کی ممتاز ادیبہ، افضل توصیف نے بانو قدسیہ کا جو خاکہ تحریر کیا ان کی شخصیت پر اس کمال کی تحریر شاید ہی کسی نے لکھی ہو۔ یہ خاکہ افضل توصیف کی کتاب”کیا زمانے تھے کیا لوگ تھے‘‘ میں شامل ہے۔ عنوان ہے ”شہر کی عورتیں اور بانو قدسیہ‘‘۔ عنوان ہی سب کچھ کہہ دیتا ہے۔ وہ لکھتی ہیں: ” بانو قدسیہ اپنے میرٹ پر شہر بانو ہے۔ ان کا نام لو تو ضرورت ہی نہیں رہتی کسی حوالے کی‘ کسی ریفرنس کی۔ کون ہیں، کس کی بیوی ہیں‘ کس کتاب کی مصنفہ ہیں۔ ان کا کل حوالہ خود بانو قدسیہ ہے‘ شہر کی آپا۔ شہر کی پچاس لاکھ عورتوں سے ایک!‘‘
برسوں پہلے بانو آپا جان لیوا بیماری کا شکار ہوئیں۔ اپنی روحانی طاقت سے‘ اپنی عبادت سے انہوں نے اس بیماری کا بہادری سے مقابلہ کیا۔ وہ ایک اعلیٰ پائے کی لکھاری کے ساتھ ساتھ ایک سچی صوفی تھیں۔ میں انہیں اپنے قبیلے کا گرو مانتی ہوں۔مانتی رہوں گی۔