پاکستان میں خواندگی اور ورلڈلٹریسی ڈے

29

خواندگی کے عالمی دن 8 ستمبر2017 کے موقع پر ایک خاص تحریر
اختر سردار چودھری ،کسووال
خواندگی کا عالمی دن (Day Literacy World ) ہر سال 8 ستمبر کو دنیا کے تقریباً تمام ممالک میں منایا جاتا ہے ۔اس کو منانے کا اعلان یونیسکونے نومبر 1965 ء میں کیا تھا اور پھر یہ دن پہلی مرتبہ 1966ء میں منایا گیا ۔مقصد میں خواندگی کی اہمیت ،اس کے فوائد ،اقدامات کا جائزہ لینا وغیرہ شامل ہے۔بنیادی حقوق کا قانون ہر بچے کو تعلیم حاصل کرنے کا حق دیتا ہے اور یہ حکومت کی ذمہ داری بلکہ فرض ہے کہ وہ یہ حق مفت فراہم کرے۔ افسوس کہ پاکستان کا عام آدمی آج بھی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے ۔مثلاََ تعلیم صحت،انصاف وغیرہ آج پاکستان کو بنے 70سال سے زائد ہو چکے ہیں کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ ہمارا نظام تعلیم کیا ہو ،زبان کون سی ہو،ابھی تک طے نہیں ہو سکا اور اس سے زیادہ دکھ کی بات یہ ہے کہ کو ئی بھی رہنما اس میں مخلص نہیں ہے کیونکہ اس کی جدوجہد اس کے لیے نہیں ہے ۔مسلسل نظام تعلیم جیسے حساس معاملے میں تجربات کیے جا رہے ہیں اور یہ تجربات ہر صوبے میں الگ الگ ہیں ،نصاب الگ الگ ہیں ،زبان الگ الگ ہے ،اس سے ایک قوم کیسے بن سکتی ہے ۔اس سے تو صرف نفرتیں ہی جنم لے سکتی ہیں ۔ترقی معکوس کا سفر ہی ہو سکتا ہے جو کہ جاری ہے ۔
تعلیم (علم وتربیت)کسی بھی ملک کے لیے ترقی کی کنجی ہوتی ہے ۔ اس بات سے اختلاف ممکن نہیں ہے کہ اس کا تعلق شرح خواندگی سے تو ہے ہی کہ تعلیم کس زبان میں دی جا رہی ہے اس سے بھی ہے ، نصاب کیا ہے،طریقہ امتحان یعنی سسٹم یانظام تعلیم کیسا ہے سے بھی تعلق ہے۔ سب سے بڑھ کر حکومت اور عوام کی ترجیحات میں تعلیم کی کتنی اہمیت ہے ۔نئے تجربات میں پریپ سے انگریزی زبان ،پرائمری سے جنسی تعلیم ،مخلوط نظام تعلیم ،مخلوط اساتذہ ،ہر سکول کا اپنا نصاب ،وغیرہ شامل ہیں۔ایسا نظام تعلیم ہے جو دین بیزار، ملحد اور خود غرض بلکہ خود پرست نسل پیدا کر رہا ہے تعلیم کو منصوبہ بندی کے ساتھ ختم کیا جا رہا ہے ۔
کیا اسلام کا قلعہ کہلانے والی اسلامی جمہوریہ کا یہ فرض نہیں بنتا کہ وہ وطن عزیز میں بھی اسلام کے احکام و شریعت کا نافذ کرے۔ پاکستان میں ہر دور حکومت میں، خواہ وہ جمہوری دور ہو یا آمریت کا دور، تعلیم کو عام کرنے کے لیے، تعلیمی پالیسیاں بنائی جاتی رہیں، ہم ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کرپائے ہیں کہ ذریعہ تعلیم انگریزی ہو، یا اردو، یا علاقائی زبانیں؟ ملک کی ترقی تب ممکن ہے جب ملک میں شرح خواندگی میں اضافہ ہو جو کہ ملک میں ایک زبان وہ بھی قومی زبان اردو ،ایک نصاب جو مذہب ،ماحول،حالات ،ضرورت ،کے مطابق ہو جس میں موجودہ عہد کے علوم بھی ہوں اور وہ بھی جو ہمیں اپنی راویت سے جوڑے رکھیں ۔
پورے ملک میں یکساں نظام تعلیم ہو ۔اور سب سے پہلے غربت کے خاتمے کے لیے حکومت کو اقدامات کرنے چاہیے تاکہ شرح خواندگی بڑھ سکے ۔بے شک کہ حکومت پاکستان خواندگی کی شرح بڑھانے اور تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے پر توجہ دے رہی ہے۔اس کے نتائج اس لیے حاصل نہیں ہو رہے ہیں کہ اصل اسباب کو دور نہیں کیا جا رہا۔حکومت اپنی اعلیٰ کارکردگی کے اشتہارات تو خوب دکھاتی ہے ، لیکن خواندگی کا حال جو ہے اس میں کوئی فرق نہیں ڈال سکی وجہ اوپر لکھی جا چکی ہے۔ غربت ہے جس میں اضافہ ہو رہا ہے ملک کی نصف آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے ۔
پاکستان میں ناخواندگی اس سے کہیں زیادہ خوفناک ہے جتنی بتائی جاتی ہے ۔اول ایک بہت بڑی تعداد سکول میں داخلہ نہیں لیتے ،دوم اس سے زیادہ تعداد ان بچوں کی ہے جو اپنا تعلیمی سلسلہ جاری نہیں رکھ سکتے یعنی ادھورا چھوڑ دیتے ہیں ۔ادھورا چھوڑنے کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں سب سے اہم غربت ہے،اس وقت تک شرح خواندگی میں اضافہ ممکن نہیں جب تک ملک سے بے روزگاری و غربت کا خاتمہ نہیں کیا جاتا ۔ہم اپنے ملک میں اس شخص کو بھی خواندہ سمجھتے ہیں جو محض اپنا نام پڑھنا لکھنا جانتاانگوٹھا چھاپ نہ ہو ۔بے شک وہ سکول میں پڑھا ہو یا نہ پڑھا ہو ۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں اس وقت شرح خواندگی ستاون فیصد ہے ۔ مردوں میں یہ شرح انہتر جبکہ خواتین میں پینتالیس فیصد ہے ۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے گزشتہ سال خواندگی کے عالمی دن کے موقع پر اپنے بیان میں کہا تھاکہ ملک میں خواندگی کی شرح چھپن فیصد سے بڑھا کر سو فیصد تک لے جائی جائے گی۔لیکن تاحال جیسی حکومتی پالیسا ں ہوتی ہیں اس سے تو ایسا ممکن نہیں ہے ۔
وزیر مملکت برائے تعلیم بلیغ الرحمٰن نے کہا تھا کہ حکومت کی کوششوں سے ملک میں شرحِ خواندگی بڑھ کر 60 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ معیاری تعلیم شہریوں کا آئینی حق ہے اور اس وقت وفاقی اور تمام صوبائی حکومتیں اپنے بجٹ کا 25 فیصد تعلیم کے شعبے کی ترقی پر خرچ کر رہی ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق پرائمری تعلیم سے محروم بچوں کی تعداد کے حوالے سے عالمی سطح پر نائیجیریا سرفہرست ہے جہاں6کروڑ بچے اسکول جانے سے محروم ہیں۔ 5کروڑ 50لاکھ کے ساتھ پاکستان دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے جبکہ ایتھوپیا تیسرے، بھارت چوتھے اور فلپائن پانچویں نمبر پر ہے ۔جیسا کہ لکھا جا چکا ہے پاکستان میں ناخواندگی اس سے کہیں زیادہ ہے جتنی عام طور پر سرکاری سطح پر بتائی جاتی ہے ۔اس کی وجہ مردم شماری بھی تھی جو کہ کافی عرصہ سے نہیں ہوئی تھی ۔اگر ملک میں ناخواندگی (یعنی جہالت)کے درست اعدادوشمار ہوں تو پاکستان پہلے نمبر پر ہوگا ۔جب ملک کی درست آبادی کا علم نہ ہو تو درست خواندگی کا کیسے ہو سکتا ہے ۔حال ہی میں مردم شماری ہوئی ہے جس سے بہت جلد خواندگی کے نتائج سامنے آجائیں گے ۔
افرادی سرمائے میں دنیا کا معاشی فورم اپنی سالانہ رپورٹ 2016 ء میں انکشاف کرتے ہیں اور یہ روپورٹ دل دہلا دینے کے لیے کافی ہے کہ مملکت خداداد پاکستان شرح خواندگی کے لحاظ سے 120 ممالک میں سے118 ویں نمبر پر پہنچ گیا ہے ۔ جبکہ سال 2015 ء میں113ویں نمبرپر تھا۔ہم وہ کون سے اقدامات کریں جن سے ہمارے ملک میں شرع خواندگی میں اضافہ ہو جائے ۔اس کا جواب بہت مختصر ہے ہمیں صرف اپنی ترجیحات میں تعلیم کو پہلا نمبر دینا ہوگا ۔ہم ملک میں تعلیمی ایمرجنسی کے ذریعے شرح خواندگی بڑھا سکتے ہیں ۔
جیسا کہ اوپر لکھا جا چکا ہے ان اسباب کا خاتمہ کرنا ہو گا جن کی وجہٍٍٍٍٍٍٍٍ سے والدین بچوں کو سکول میں داخل نہیں کروا سکتے یا وہ تعلیم کو جاری نہیں رکھ سکتے ان میں غربت سرفہرست ہے ۔ غربت اور بے روزگاری کے خاتمے کے ساتھ یکساں نظام تعلیم، یکساں نصاب تعلیم ،اوریکساں ذریعہ تعلیم (قومی زبان )بنا کر ہم 100 فیصد خواندگی کا خواب پورا کر سکتے ہیں ۔۔!!