کیا آپ جانتے ہیں نزلے اورزکام میں کیا فرق ہے؟

4

نزلہ اور زکام وہ بیماریاں ہیں جن میں ہر دوسرا انسان آئے روز مبتلا نظر آتا ہے جب کہ یہ بیماری وائرس سے پھیلتی ہیں اور ایک انسان سے دوسرے انسان تک بہ آسانی منتقل ہوجاتی ہیں۔

نزلہ اور زکام عموماً سردیوں کی بیماری ہے ، ٹھنڈے مقامات پررہنے والے افراد کے علاوہ وہ لوگ جن کا مدافعتی نظام قدرتی طور پرتھوڑا کمزورہوتا ہے جلد اس بیماری کا شکار ہوجاتے ہیں،تاہم نزلے اور زکام میں مبتلا کسی بھی شخص سے اگر اس کی خیریت دریافت کی جائےتو وہ کہے گا کہ نزلہ اورزکام ہوا ہے جب کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ عام طور پرایک سمجھے جانے والی یہ دونوں بیماریاں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں ، ہیں لیکن دونوں کی علامات تقریباً ایک جیسی ہونے کی وجہ سے ان میں فرق کرنا بے حد مشکل ہوتاہے۔

نزلے کو عموماً سردی بھی کہاجاتا ہے یہ وائرس انفیکشن ہوتا ہے جس سے انسان کو معمولی بخارہوجاتا ہے جب کہ زکام کی صورت میں تیزبخار چڑھتا ہے جس سے سرمیں درد کی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے اور پورے جسم میں شدید درد ہوتا ہے۔

نزلے اور زکام کا سب سے واضح فرق جس سے ان کی شناخت کرنا نہایت آسان ہے وہ یہ ہے کہ نزلے میں انسانی ناک بہتی ہے اور گلے میں خراشیں پڑجاتی ہیں جب کہ زکام میں بلغم کا ریشہ بن جاتا ہےجو ناک میں جمع ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے اور کئی بار تو انسان کو دم گھٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔

نزلے میں انسان ہلکی سی تھکاوٹ محسوس کرتا ہے جب کہ زکام میں تھکن کا احساس بہت زیادہ ہوتا ہے۔

نزلے کی صورت میں بلغمی اورخشک دونوں اقسام کی کھانسی ہوتی ہے جب کہ زکام میں صرف بلغمی کھانسی ہوتی ہے۔

نزلے میں بعض اوقات انسان کے چھینکنے کے باعث وائرس دوسرے انسان تک منتقل ہوجاتے ہیں اور کبھی ایسا نہیں بھی ہوتا جب کہ زکام میں متاثرہ مریض سے وائرس دوسرے انسان تک منتقل ہوتاہے۔

یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ زکام، نزلے سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے اور ان تمام علامات کی صورت میں فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے، زکام کے بارے میں ایک مفروضہ بہت عام ہے کیونکہ یہ وائرل انفیکشن کی وجہ سے ہوتا ہے اس لیے علاج کرانے یا نہ کرانے کی صورت میں یہ سات دن کے اندرخودبخود ختم ہوجاتا ہے۔