کراچی سے جانیوالا پہلا بحری جہاز آج دوحہ کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہوگا

7

قطراور پاکستان کے درمیان شروع ہونیوالی تیز رفتار شپنگ سروس کے تحت کراچی کی بندرگاہ سے روانہ ہونے والا پہلا بحری جہاز آج پیر کو دوحہ کی بندرگاہ حمد (Hamad) پر لنگر انداز ہوگا۔

دونوں ملکوں کے درمیان براہ راست شپنگ سروس کے آغاز سے قبل پاکستانی تجارتی سامان دوحہ تک پہنچنے میں 7روز کا عرصہ لگ رہا تھا جبکہ اب 4روز میں پاکستانی شپمنٹس دوحہ پہنچ جائیں گی۔ پاکستان کے کاروباری طبقے بالخصوص ایکسپورٹرز کی جانب سے اس پیشرفت کو پاکستان کی گرتی ہوئی برآمدات کو بڑھانے کا بہترین موقع قرار دیا جارہا ہے۔

ایف پی سی سی آئی کے مطابق صدر زبیر طفیل کے پاکستان اور قطر کے تجارتی تعلقات میں تیزی سے بہتری آرہی ہے اگرچہ باہمی تجارت کا توازن پاکستان کے حق میں نہیں ہے لیکن براہ راست شپنگ سروس جیسے اقدامات سے پاکستان کو قطر کے لیے برآمدات بڑھانے کا موقع ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ براہ راست شپنگ سروس سے قبل بڑے مال بردار بحری جہاز(مدر ویسلز) دوحہ کی بندرگاہ پر مال اتاررہے تھے جو بعد میں چھوٹے جہازوں(فیڈرز) کے ذریعے کراچی لایا جاتا تھا اب یہ مال براہ راست کراچی کی بندرگاہ پر لایا جائے گا جس سے نہ صرف ترسیل کے وقت بلکہ لاگت میں بھی نمایاں کمی واقع ہوگی۔

زبیر طفیل نے بتایا کہ قطری حکومت اور چیمبر آف کامرس کی جانب سے بھی پاکستانی کمپنیوں کو قطر میں سرمایہ کاری پر معاونت اور سہولتوں کی فراہمی کی پیش کش کی گئی ہے پاکستان کی دو بڑی فارما سیوٹیکل کمپنیوں نے قطر میں صنعتیں لگانے کے لیے مفاہمت کی یادداشت طے کرلی ہے جس کے تحت آئندہ ایک سال میں ادویہ کی پیداوار شروع کردی جائے گی جو مڈل ایسٹ، خلیج کی ریاستوں کے علاوہ یورپ تک ایکسپورٹ کی جائیںگی۔

زبیر طفیل نے بتایا کہ ابتدا میں ہفتہ وار ایک بحری جہاز دوحہ اور کراچی کے درمیان آپریٹ کیا جارہا ہے جلد ہی ہفتے میں دو جہاز چلائے جائیں گے جس سے پاکستانی برآمدات کو فائدہ پہنچے گا۔ قطر اور پاکستان کے درمیان براہ راست شپنگ سروس کا سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کے فوڈ سیکٹر کو پہنچے گا جس میں پھل اور سبزیوں کے علاوہ پولٹری اور گوشت کی مصنوعات شامل ہیں۔ قطر کی معیشت کا سالانہ حجم 162ارب ڈالر سے زائد ہے پاکستان اور قطر کے درمیان باہمی تجارت کا حجم ایک ارب 20کروڑ ڈالر کے لگ بھگ ہے جس میں قطر کی پاکستان کو برآمدات ایک ارب ڈالر کے لگ بھگ ہیں۔

پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ وحید احمد نے قطر اور پاکستان کے درمیان براہ راست شپنگ سروس کو پاکستان کے لیے برآمدات بڑھانے کا بہترین موقع قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی برآمد کنندگان کو قطر اور دبئی کی مارکیٹ میں بھارتی ایکسپورٹرز کے ساتھ سخت مسابقت کا سامنا ہے۔ پاکستانی پھل اور سبزیاں پہلے دبئی اتاری جاتی ہیں جس کے بعد انہیں قطر روانہ کیا جاتا ہے جس پر زیادہ وقت اور لاگت آتی ہے۔ قطر تک براہ راست تیزرفتار شپنگ سروس سے پاکستانی پھل اور سبزیوں کو معیار اور لاگت دونوں لحاظ سے فائدہ ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ قطر اور پاکستان کے مابین تیز رفتار شپنگ روس کے تحت چلنے والے پہلے جہاز میں تین کنٹینرز آلو بھی ایکسپورٹ کیے گئے ہیں پاکستانی پھل اور سبزیاں قطر کو فضائی راستے سے ایکسپورٹ کی جاتی ہیں جس کی فی کلو فریٹ لاگت 85 سے 90روپے کلو تک آتی ہے جو اب سمندری راستے سے محض6.5روپے سے 8روپے فی کلو لاگت پر ایکسپورٹ کیا جاسکے گا۔ اس طرح فریٹ کی مد میں بچنے والی رقم برآمدی حجم بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگی اور بھارتی ایکسپورٹرز کے ساتھ مسابقت بھی آسان ہوگی۔

وحید احمد نے کہا کہ پی ایف وی اے کے اراکین نے قطر کی مارکیٹ کا دورہ کرکے بڑے ڈپارٹمنٹل اور سپر اسٹورز سے رابطہ کیا ہے اور پی ایف وی اے دیگر خلیجی ریاستوں اور مڈل ایسٹ ملکوں کو ایکسپورٹ کے لیے قطر کو ٹرانزٹ حب کے طورپر استعمال کرنے کیلیے حکمت عملی تیار کرے گی۔