خیبرپختون خوا حکومت کی ڈینگی کے خلاف کارکردگی بدترین قرار

4

ہائی کورٹ نے ڈینگی سے نمٹنے میں خیبرپختون خوا حکومت کی کارکردگی کو بدترین قرار دے دیا۔

پشاور ہائی کورٹ میں ڈینگی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی اور عدالت نے تاخیر سے پہنچنے پر ڈپٹی کمشنر پر برہمی کا اظہار کیا۔ جسٹس قیصر رشید نے اپنے ریمارکس میں ڈینگی پر قابو پانے میں صوبائی محکمہ صحت کی کارکردگی کو بدترین قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسا کرکے انسانی جانوں پہ ظلم کیا گیا۔

سیکرٹری صحت عابد مجید نے عدالت کو بتایا کہ محکمہ صحت ڈینگی پر قابو پانے کے لیے زیادہ سے زیادہ کام کر رہا ہے اور تمام اسپتالوں میں بروقت علاج معالجے کی سہولت فراہم کی جارہی ہے تاہم ڈینگی کا مچھر پانچ سال تک ختم نہیں کیا جاسکتا۔

ڈپٹی کمشنر ثاقب رضا اسلم نے بتایا کہ 21 اگست سے ڈینگی سے متاثرہ افراد کی تعداد میں کمی آئی ہے، متاثرہ علاقوں میں اسپرے کیا جا رہا ہے، ہم نے پنجاب سے تعاون مانگا تھا کہ ہماری کارکردگی کو جانچا جائے، وفاقی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ہماری کوششوں سے مرض کم ہوا۔

عدالت نے حکم دیا کہ ڈینگی کے خاتمے کے لیے جہاں سے مدد مل سکتی ہے لی جائے، خیبر پختونخوا نے دہشت گردی کی وجہ سے بہت نقصان اٹھایا اب یہاں کے عوام ڈینگی سے متاثر ہو رہے ہیں، انہیں مزید تکلیف سے بچایا جائے، اگلے سال ڈینگی کی روک تھام کے لیے ابھی سے کوشش شروع کی جائے اور فنڈز مختص کیے جائیں، ڈینگی کے لاروا کو تلف کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، مساجد اور گھروں میں لوگوں کو اس حوالے سے شعور آگاہی فراہم کی جائے۔