بھارت علاقائی امن کے حوالے سے کبھی بھی سنجیدہ نہیں رہا، ترجمان دفترخارجہ

6

ترجمان دفترخارجہ نفیس زکریا کا کہنا ہے کہ بھارت اور امریکا کے مابین ہونے والی ہتھیاروں کی تجارت پورے خطے کو غیر مستحکم کررہی ہے۔

اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفترخارجہ نفیس زکریا کا کہنا تھا کہ بھارت میں ہندو انتہا پسند اپنے خلاف اٹھنے والی آوازکو خاموش کروا رہے ہیں انہیں بھارتی حکومت کی بھرپورسرپرستی حاصل ہے، مقبوضہ کشمیر میں بہت سے صحافیوں کو گرفتار کیا جارہا ہے جب کہ بھارت میں خاتون صحافی گاوری لنکیش کو قتل کردیا گیا جس کی اقوام متحدہ کے کمشنر اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی مذمت کی اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے تو اپنی ایک 12 صفحات پر مشتمل رپورٹ بھی پیش کی ہے۔

ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں ظلم وبربریت کی داستان رقم کررہا ہے لیکن  وادی کے عوام دلیری سے بھارتی بربریت و مظالم کا مقابلہ کر رہے ہیں، ہم نے معاملے کو بین الاقوامی برادری کےساتھ اٹھایا ہے اور آئندہ بھی  ہر سطح پر اس مسئلے کو اٹھاتے رہیں گے۔

نفیس زکریا کا کہنا تھا کہ ہمارے مختلف ممالک سے تعلقات ہیں جن میں اتارچڑھاؤ اور اچھے ادوار آتے رہے ہیں لیکن بھارت علاقائی امن کے حوالے سے کبھی بھی سنجیدہ نہیں رہا، یہ بھارت ہی تھا جس نے آخری لمحات میں تمام مسائل پربات چیت کو روک دیا اور اب بھارت اور امریکا کے مابین ہتھیاروں کی خرید و فروخت جاری ہے جو خطے کے امن کے لئے شدید خطرات کا پیش خیمہ ہے۔ پاکستان میں ہونے والی تخریب کاری اور دہشت گردی میں بھارت ملوث ہے تحریک طالبان پاکستان کے کمانڈر احسان اللہ احسان اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ایجنٹ  کلبھوشن کے بیانات ہمارے مؤقف کی تائید ہیں کہ بھارت پاکستان کو نقصان پہنچا رہا ہے جب کہ افغانستان میں نیٹو کے سربراہ چک ہیگل کا بیان بھی ہےکہ بھارت افغانستان کے ذریعہ پاکستان کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

نفیس زکریا نے مزید کہا کہ  پاکستان کی جانب سے افغانستان میں قیام امن کے لیے بہت سے اقدامات جاری ہیں ہم ہراس اقدام کی حمایت کرتے ہیں جو افغانستان میں استحکام کا باعث ہو اسی حوالے سے وزیرخارجہ خواجہ آصف جنرل اسمبلی اجلاس کی سائیڈ لائنز پر افغان وزیرخارجہ سے ملاقات کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ خواجہ آصف کا دورہ چین، ایران اور ترکی کامیاب رہا، ان دوروں میں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پربھی بات ہوئی اور میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کی مذمت بھی کی گئی جب کہ تینوں ممالک نے تسلیم کیا کہ الزام تراشی سے افغانستان میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔