اسمارٹ فون؛ انسانی یادداشت اور ذہانت کا دشمن

3

برطانوی دماغی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اسمارٹ فون اور دیگر دستی آلات پر بڑھتا ہوا انحصار ہماری یادداشت، معلومات جمع کرنے اور مسائل حل کرنے کے لیے سوچ بچار کی صلاحیت شدید متاثر کررہا ہے۔

اسی لیے ممتاز دماغی ماہر نے خبردار کیا ہے کہ اسمارٹ فون کا بے تحاشا استعمال اور اس پر انحصار ہمیں غبی اور کند ذہن بنارہا ہے۔

دماغی ماہر ڈاکٹر سوسن گرین فیلڈ نے کہا ہے کہ  ٹیکنالوجی کا بڑھتا ہوا استعمال آج کی نسل کو شدید متاثر کررہا ہے اور ان میں معلومات جمع کرنے اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت اور محنت میں کمی واقع ہورہی ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی میں واقع لنکن کالج سے وابستہ ماہرین نے کہا ہے کہ اب نام یاد رکھنا اور سالگرہیں ازبر کرنا صرف ایک کلک کے حوالے کردیا گیا ہے۔ دماغ مسلسل مشق سے سیکھتا ہے اور اس میں حقائق جمع کرنے کی کوشش نہ کی جائے تو یہ دماغی صلاحیت بتدریج کمزور ہوتی جاتی ہے۔

دوسری جانب  سوسن گرین فیلڈ نے خبردار کیا ہے کہ نوجوان نسل اصل دنیا میں سیکھنے، کھیلنے اور معاشرے کا حصہ بننے کی بجائے اسکرین میں قید ہوکر رہ گئی ہے۔ گویا ہم نے سوچنے سمجھنے کا کام مشینوں اور اسمارٹ فونز کے سپرد کردیا ہے۔ اس طرح دھیرےدھیرے زندگی کے پیچیدہ مسائل پر ہماری گرفت کمزور ہوتی جائے گی اور ہماری نسل تیزی سےاس جانب بڑھ رہی ہے۔