ایف بی آر کے نام سے جعلی ریفنڈ ای میلز کا سلسلہ رک نہ سکا

5

فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کی جانب سے کارروائی کے باوجود ملک میں غیرقانونی طور پر ایف بی آر کا نام استعمال کرکے لوٹ مار کے لیے لوگوں کو الیکٹرانیکلی ٹیکس ریفنڈز اور ان کے انکم ٹیکس گوشواروں میں فرق کے حوالے سے کارروائی کے لیے جعلی ای میلز بھجوانے کا سلسلہ جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ گروہ لوگوں کو ٹیکس ریفنڈز کی ای میل جاری کرتا ہے جس ایڈریس سے ای میل کی جارہی ہے اس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا نام استعمال کیا جاتا ہے جبکہ اصل ای میل ایڈریس کچھ اور ہوتا ہے مگر لوگوں کو بھجوائی جانے والی ای میل میں ایف بی آر کا نام غلط طور پر استعمال کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے ٹیکس کی کیلکولیشن کرتے وقت غلطی ہوئی ہے جس کے باعث ٹیکس کی مد میں جو آخری رقم وصول کی گئی ہے وہ زیادہ ہے لہٰذا ایف بی آر ٹیکس دہندہ سے وصول کردہ زائد رقم واپس کررہا ہے جس کے لیے ’کلیم مائی ریفنڈ‘ کے لنک پر کلک کرنے کا کہا جاتا ہے اور اس ای میل کے آخر پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو گورنمنٹ آف پاکستان لکھا ہے جس میں یہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ یہ ای میل فیڈرل بورڈ آف ریونیو حکومت پاکستان کی جانب سے لکھی گئی ہے۔

ٹیکس ریفنڈ کے لیے جو لنک دیا گیا ہے اس پر کلک کرنے سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے سرکاری لوگو پر مشتمل پیج اوپن ہوتا ہے جس پر سیلز ٹیکس ریفنڈ کا آئیکون ہونے کے ساتھ 5 مختلف نجی بینکوں کے لوگو ظاہر ہوتے ہیں اور یوزر گائیڈ میں کہا جاتا ہے کہ اس پروسیس کو فالو کریں البتہ جیسے ہی کسی بھی نجی بینک کے لوگو پر کلک کیا جاتا ہے تو اکاؤنٹ لاگ ان کا پیج اوپن ہوجاتا ہے جس میں ڈائریکٹ لاگ ان اور کریڈٹ کارڈ لاگ ان کی رجسٹریشن کی آپشن مانگی جاتی ہے۔

اس الیکٹرونک فراڈ کے ذریعے لوگوں کو ٹیکس ریفنڈ کے نام پر لوٹنے والے گروہ کی جانب سے ایف بی آر کے سرکاری لوگو کے پیج کو چوری کیا گیا ہے تاہم اس بارے میں جب فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے سینئر افسر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل بھی اس قسم کے گروہ متحرک ہوئے تھے اور اس پر بھی ایف بی آر نے نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کی تھی اورعوام کی آگہی کے لیے باقاعدہ وضاحت بھی جاری کی تھی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل جولائی 2017 میں بھی ٹیکس دہندگان کو اس قسم کی جعلی ای میلز موصول ہو رہی تھیں جس پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے مذکورہ گروہ کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس بارے میں ایف آئی اے سے بھی رجوع کیا تھا مگر اس کے باوجود یہ سلسلہ نہیں رک سکا۔