چکر

2

تحریر۔۔۔ شاہد شکیل
چکر کی کئی اقسام ہوتی ہیں کسی کو سر میں چکر آتے ہیں تو کوئی کسی دوسرے کو چکر دیتا ہے کوئی جھولوں پر بیٹھا چکر کھاتا ہے تو کسی کو بیٹھے بٹھائے چکر چڑھتے ہیں ،میرا موضوع چکر ضرور ہے لیکن وہ انسانی دماغ کی کمزوری یا انجانی کیفیت سے دوچار ہونے پر تقریباً ہر انسان کو آتے ہیں،وہ اسلئے کہ خون کی کمی ،طویل عرصہ تک بیمار رہنے کی وجہ ، چوبیس گھنٹے مسائل کو حل کرنے کی وجہ ، شدید گرمی یا سردی کے باعث ،بھوکا پیاسا رہنے یا پھر کچھ نہ کرنے سے بھی انسان دن رات چکراتا پھرتا ہے اور جب چکر دماغ میں چڑھتا ہے تو تارے نظر آتے ہیں یعنی کرسٹل زرات آنکھوں کے سامنے ناچتے ہیں دل کی دھڑکن تیزتر ہوتی ہے ،انسان اپنے آپ کو کسی جھولے میں بیٹھا تصور کرتا ہے اور توازن برقرار نہ رکھنے کی صورت میں دھڑام سے زمین پر گر کر بے ہوش ہوجاتا ہے ، سب سے زیادہ خطرناک وہ لمحات ہوتے ہیں جب تارے نظر آنے کی صورت میں ایسا محسوس کرتا ہے کہ وہ کسی دائرے میں لگاتار گھوم رہا ہے یا کسی ایسی شپ میں سوار ہے جو سمندری طوفان میں گھر گیا ہے اور ہچکولے کھا رہا ہے یہ ایسے لمحات ہوتے ہیں جہاں انسان انتہائی خوفزدہ ہو جاتا ہے اور سوچتا ہے کہ آخر یہ ہو کیا رہا ہے دل کچا کچا لگتا ہے اور قے کو روک نہیں پاتا ۔نیورولوجی کے ماہر پروفیسر مائیکل سٹرپ کا کہنا ہے دنیا بھر میں تقریباً ہر انسان کبھی نہ کبھی ایسی کیفیت سے دوچار ہوتا ہے یہ ایسی حالت ہوتی ہے کہ بہادر انسان بھی اپنے ہاتھ پاؤں چھوڑ دیتا ہے ،اوپر تحریر کردہ چند علامات کے علاوہ چکر آنے کے دیگر اسباب نیون لائٹس ،سفید روشنی سے اندھیرے میں یا اندھیرے سے یک دم روشنی کے جھماکے کا سامنا کرنا ،بدستور روشنی کو دیکھتے رہنے سے بھی کئی افراد چکرا جاتے ہیں، میونخ کے سینئر فزیشن کا کہنا ہے کہ چکر آنا کوئی بیماری نہیں ہے اور پچانوے فیصد افراد کا علاج ممکن ہوتا ہے البتہ معمولی سر درد سے چکر آنے کی صورت میں سر درد کی دوا سے آرام آجاتا ہے لیکن اگر کسی کو آدھے سر کا درد ہے تو اسے فوری ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے لیکن ضروری اور اہم بات یہ ہے کہ مریض مکمل تفصیل سے ڈاکٹر کو اپنی شکایت بیان کرے کیونکہ دوران تشخیص کئی قسم کے معنی نکل سکتے ہیں اور علاج میں دقت پیش آ سکتی ہے ۔پروفیسر وولف گینگ کا کہنا ہے کئی افراد کو صبح سویرے اٹھنے کے بعد چکر آتے ہیں اور کرسٹل زرات سے صبح کا آغاز ہوتا ہے اسکی سب سے بڑی وجہ انسان کی اپنی سوچ اور دماغی لہروں پر انحصار کرتا ہے کہ وہ رات بھر مزے سے سویا یا کسی خواب نے اسکا خواب چکنا چور کر دیا دوسری وجہ ممکنہ طور پر چکر کا اٹیک اس صورت میں بھی ہو سکتا ہے کہ اندرون کان کے مختلف مائعات دباؤ ڈالتے ہیں جسے طبی زبان میں موربس مینیرے کہتے ہیں ایسی صورت میں مختلف مائع یعنی اندرونی خلیات یا زرے اندر پھٹتے ہیں جو چکر کا باعث بنتے ہیں یعنی دماغی خلیات پر اثر انداز ہوتے ہیں اور پہلے درد شروع ہوتا ہے بعد ازاں چکر کی صورت اختیار کرتے ہیں اور اگر روشنی یا شور زیادہ ہو تو انسان کی حالت مزید بگڑ جاتی ہے یعنی گر کر بے ہوش بھی ہو سکتا ہے۔ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ چکر کا اٹیک اتنا شدید ہو کہ انسان کو دل کا دورہ بھی پڑ سکتا ہے اور اگر چکر طویل عرصے تک برقرار رہیں تو یہ ایک خطرناک سگنل ہوتا ہے ایسی صورت میں انسان کسی قسم کی غذا کو نگلنے میں تکلیف محسوس کرتا ہے گھبراہٹ ہوتی ہے اور ڈبل تصویریں دکھائی دیتی ہیں یا ہاتھ پاؤں یخ بستہ ہوجاتے ہیں وغیرہ ایسی صورت حال میں فوری ایمبولینس کو فون کیا جائے،چکر آنے کی دیگر علامات نفسیاتی بھی ہو سکتی ہیں مثلاً کوئی انسان بلندی سے گرنے کا خطرہ محسوس
کرتا ہے تو چکر آنے لگتے ہیں دل کی دھڑکن تیز ہوتی ہے زیادہ پسینہ آتا ہے ،توازن برقرار نہیں رہتا وغیرہ۔ماہرین کا کہنا ہے چکر آنا بیماری نہیں بلکہ چند لمحات ایسے ہوتے ہیں کہ انسانی ذہن کسی شے کو اپنے لئے خطرہ محسوس کرتا ہے یا ہمت ہارنے کی وجہ سے اپنے دماغ کی لہروں یعنی سوچوں کے بھنور میں اس قدر مقید ہوجاتا ہے کہ اپنے آپ پر قابو نہیں رکھ پاتا ، عام حالات میں ماہر ڈاکٹر سے رجوع کیا جانا ہی چکروں کا بہترین حل ہے اور مکمل طور پر آگاہ کرنے سے ہی ڈاکٹر تشخیص کرنے کے بعد تھیراپی اور ادویہ سے علاج کر سکتا ہے ۔کچھ لوگ اپنی بیماری کے بارے جانتے نہیں اور نہ ہی تفصیل سے معالج کو آگاہ کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنی موت کے خود ذمے دار کہلاتے ہیں ۔جرمن کہاوت ہے ڈاکٹر اور وکیل سے اپنے مسائل چھپانے کا مطلب ہے کہ ہم زندہ نہیں رہنا چاہتے۔