ناکامی پر دکھی اور جذباتی ہونا اگلی کامیابی کو ممکن بناسکتا ہے

13

یونیورسٹی آف کینساس میں مارکیٹنگ کے پروفیسر نیول نیلسن نے کہا ہے کہ اگر کسی کام میں ناکامی ہوجائے تو ذہنی طور پر اسے جاننے کے بجائے اس کا صدمہ لینا اور جذباتی ہونا قدرے فائدہ مند ہوتا ہے۔ اس طرح سے لوگ اگلی ایسی ہی صورتحال پر اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں اور کامیاب بھی ہوسکتے ہیں۔

اس تحقیق کے بعد کینساس یونیورسٹی اسکول آف بزنس کے معاون پروفیسر نیول نیلسن کہتے ہیں، ’ناکامی کے بعد خیالات کے بجائے جذبات پر توجہ دینے سے لوگوں پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور ان کی کارکردگی بہتر ہوجاتی ہے۔‘ اس تحقیق میں انہوں نے شعوری خیالات اور جذبات واحساسات پر تحقیق کی ہے۔

ماہرین نے انڈرگریجویٹ کے چند طالب علموں کو تین گروہوں میں تقسیم کیا۔ ان سے کہا گیا کہ وہ آن لائن ایک جوسر بلینڈر تلاش کریں جس کی قیمت کم سے کم ہو اور ایسا کرنے والے کو کیش ایوارڈ دیا جائے گا۔ اب کمپیوٹر نے ایک کھیل کھیلا اور قیمت ڈھونڈنے کے بعد انہیں بتایا کہ جو قیمت وہ لائے ہیں اس سے بھی سوا تین ڈالر کم میں وہ شے مل رہی ہے۔ اس کے بعد کسی کو بھی 50 ڈالر کا انعام نہیں مل سکا۔

اس ناکامی پر مختلف لوگوں نے مختلف اثر لیا۔ بعض جذباتی کیفیت میں آگئے اور بعض افراد نے اس کا شعوری احساس کیا اور ناکامی کا عقلی جائزہ لینے لگے۔ ان میں سے جو لوگ جذباتی ہوئے تھے اگلی مرتبہ وہ زیادہ پرعزم تھے اور انہوں نے ایسے ہی دوسرے ٹیسٹ میں اچھی کارکردگی دکھائی۔ تاہم اس کا صرف عقلی شعور رکھنے والوں نے بھی دوبارہ اس سے تھوڑی بہتر کارکردگی ظاہر کی۔

اس سے طے ہوا کہ ناکامی کا وقتی دکھ اور جذباتی احساس کرنے سے اگلی مرتبہ ہماری صلاحیت بہتر ہوسکتی ہے۔