لاہور ہائی کورٹ کا سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ منظرعام پر لانے کا حکم

9

ہائی کورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر لانے کا حکم دے دیا ہے.

لاہور ہائی کورٹ میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کی جانب سے جوڈیشل کمیشن کی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر لانے کے لیے درخواست دائر کی گئی تھی، درخواست گزار کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ معلومات تک رسائی ہر شہری کا آئینی حق ہے اور جوڈیشل رپورٹ شائع نہ کرنا اس آئینی حق کی نفی ہے، ماڈل ٹاون کے استغاثہ میں جوڈیشل انکوائری رپورٹ انتہائی اہم کردار ادا کرسکتی ہے جبکہ جوڈیشل کمیشن کی انکوائری سے مظلوموں کو انصاف مل سکتا ہے، اس لئے سانحہ ماڈل ٹاون کی جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ منظرعام پر لانے کا حکم دیا جائے، عدالت نے فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ عدالت نے درخواست پر اپنے فیصلے میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ منظر عام پر لانے کا حکم دیا ہے۔

دوسری جانب پنجاب حکومت نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب نے سانحہ ماڈل ٹاؤن واقعے کی تحقیقات کے لیے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست کی تھی، شہباز شریف کی درخواست پر جسٹس باقر نجفی پر مشتمل ایک رکنی کمیشن تشکیل دیا گیا تھا جس میں شہباز شریف کے بیان حلفی اور رانا ثنا اللہ سمیت کئی وزرا اور پولیس افسران کے بیانات قلم بند کئے گئے تھے۔  کمیشن نے اپنی رپورٹ وزیر اعلیٰ ہاؤس ارسال کردی تھی تاہم صوبائی حکومت نے اسے منظر عام پر لانے سے انکار کردیا تھا۔

واضح رہے کہ 17 جون 2014 کو لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں منہاج القرآن کے مرکزی دفتر کے باہر تجاوزات کو ہٹانے کے لیے آپریشن کیا گیا تھا اور اس دوران فائرنگ سے خواتین سمیت 14 افراد جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔