دیوقامت مینڈک جو ڈائنوسار کا شکار کرتا تھا

14

ماہرین رکازیات کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے مڈغاسکر سے 2008 میں دریافت شدہ ایک معدوم مینڈک کے رکازات (فوسلز) کا جائزہ لینے کے بعد دریافت کیا ہے کہ اس کے جبڑے غیرمعمولی طور پر طاقتور تھے۔ یہ اپنے نوک دار دانتوں کی مدد سے ڈائنوسار کی کھال تک پھاڑ سکتا تھا اور شاید چھوٹے ڈائنوساروں کا شکار بھی کیا کرتا تھا۔

یہ بات اس لیے کہی جارہی ہے کیونکہ یہ مینڈک آج سے 7 کروڑ سال پہلے، ڈائنوسار کے زمانے میں موجود تھا جبکہ جسامت میں یہ آج کے مینڈکوں سے بہت بڑا تھا۔ اس کے دانت نوک دار تھے اور جبڑے انتہائی طاقتور تھے۔ یہ دریافت امریکی، برطانوی اور آسٹریلوی سائنسدانوں نے مشترکہ طور پر کی ہے جس کی تفصیلات ’’سائنٹفک رپورٹس‘‘ نامی تحقیقی مجلے میں آن لائن شائع ہوچکی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ’’بیلزیبوفو‘‘ (Beelzebufo ampinga) نامی یہ معدوم مینڈک اپنی ساخت اور خد و خال کے اعتبار سے موجودہ زمانے کے ’’سیراٹوفرائس‘‘ (Ceratophrys) قسم کے مینڈکوں جیسا تھا لیکن اپنی 41 سینٹی میٹر لمبائی اور تقریباً 10 پونڈ وزن کے ساتھ یہ ان سے کہیں زیادہ بڑا تھا۔

یہ جاننے کےلیے کہ بیلزیبوفو مینڈکوں کے جبڑے کتنے طاقتور تھے، ماہرین نے سیراٹوفرائس مینڈکوں کا جائزہ لیا جس سے پتا چلا کہ 4.5 سینٹی میٹر جسامت والے سیراٹوفرائس مینڈک اپنے شکار پر 6.6 پاؤنڈ جتنی قوت لگا سکتے ہیں۔ موجودہ مینڈکوں کے حساب سے یہ قوت اگرچہ بہت زیادہ ہے لیکن جب بیلزیبوفو مینڈک کے جبڑوں کی 15.4 سینٹی میٹر چوڑائی اور جسم کی 41 سینٹی میٹر لمبائی کو مدنظر رکھتے ہوئے حساب لگایا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ صرف جبڑوں کی مدد سے اپنے شکار پر 494 پونڈ جتنی زبردست قوت لگا سکتے تھے۔

اس کا مطلب یہ بھی ہوا کہ نوک دار اور مضبوط دانتوں کی بدولت یہ مینڈک اپنے شکار کی کھال پھاڑ سکتے تھے جبکہ انڈے سے نکلنے والے نوزائیدہ ڈائنوسار بھی ان کی غذا میں شامل رہے ہوں گے۔ واضح رہے کہ بیلزیبوفو مینڈک کو اس کی جسامت کے باعث پہلے ہی ’’عفریت مینڈک‘‘ (Devil Frog) کا لقب دیا جاچکا ہے۔