پی ایس ایل فکسنگ سے شرجیل جیسا بہترین کرکٹر ضائع ہوگیا، سرفراز

7

قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے کہا ہے کہ پی ایس ایل اسپاٹ فکسنگ کیس سے شرجیل خان جیسا بہترین کرکٹر ضائع ہوگیا۔

لاہور میں اسپورٹس جرنلسٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سرفراز احمد نے کہا کہ لمبی پلاننگ نہیں کرتا، ایک میچ اور سیریز پر توجہ دیتا ہوں، پوری ٹیم کو ساتھ لے کر چلتے ہوئے اپنے پیش رو مصباح کی طرح فتوحات حاصل کرنے کی کوشش کروں گا۔

سرفراز احمد نے کہا کہ مصباح الحق پاکستان کی ٹیسٹ تاریخ کے کامیاب ترین کپتان تھے،ان سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا، تجربہ کار یونس خان کے نہ ہونے سے بھی فرق پڑے گا اور میرے لیے یہ ایک نیا چیلنج ہے، پوری کوشش کروں گا کہ ون ڈے اور ٹیسٹ کرکٹ کی طرح طویل فارمیٹ میں بھی ٹیم بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے، کسی بھی طرز کے کھیل میں کپتان اکیلا کچھ بھی نہیں کرسکتا، ہر کھلاڑی کا کردار اہم ہوتا ہے،سب پلیئرز کو ساتھ لے کر چلوں گا۔

قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان کا کہنا تھا کہ کھیل کے ہر شعبے میں بتدریج بہتری آرہی ہے، سری لنکا کی ٹیسٹ ٹیم بہت اچھی ہے،دوسری جانب ہمارا فاسٹ بولنگ کا شعبہ مضبوط ہے،وہاب ریاض کی بولنگ اسپیڈ بہت بہتر ہے اور عامر کی رفتار بھی بہتری کی طرف جارہی ہے جب کہ یاسر شاہ نے فٹنس ٹیسٹ پاس کرلیا ہے اور وہ مکمل فٹ ہیں،بلال آصف اور محمد اصغر جیسے نوجوان سپنرز بھی موجود ہونگے۔ بیٹنگ میں اظہر علی اور اسد شفیق کیساتھ باصلاحیت نوجوان کرکٹرز حارث سہیل اور عثمان صلاح الدین کی خدمات حاصل ہیں،اوپنرز سمیع اسلم اور شان مسعود یواے ای کی کنڈیشنز سے واقف اور انٹرنیشنل کرکٹ میں نئے نہیں۔

سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ ہر کپتان کی کوشش ہوتی ہے کہ پہلے میچ میں کامیابی کیساتھ فاتحانہ آغاز کرے،میری خواہش ہے کہ پہلے میچ میں سنچری سکور کرتے ہوئے قیادت کا حق ادا کروں۔

ایک سوال کے جواب میں سرفراز نے کہا کہ ابھی تینوں فارمیٹ کی کرکٹ میں کافی بہتری لانے کی ضرورت ہے جس کیلیے کھلاڑی اور منیجمنٹ پوری کوشش کررہے ہیں، سب کا مقصد یہی ہے کہ پاکستان ٹیم اچھا پرفارم کرے، انضمام الحق بطور چیف سلیکٹر مجھے بہت سپورٹ کرتے اور میری رائے کا بھی خیال رکھتے ہیں،پوری ٹیم اور منیجمنٹ کا ایک ہی پیج پر ہونا خوش آئند ہے۔

کپتان کا کہنا تھا کہ چیمپئنز ٹرافی کا فائنل زندگی بھر یاد رہے گا اور اس ٹیم میں شامل کوئی بھی کھلاڑی ان لمحات کو نہیں بھول سکتا، ورلڈ کپ 2019 ابھی دور ہے، اس سے قبل ہمیں ہر شعبے میں آہستہ آہستہ مزید بہتری لانی ہے، تیزی سے جدید کرکٹ کی جانب گامزن ہیں،فٹنس، فیلڈنگ اور اسٹرائیک ریٹ بہتر ہوا ہے،بہتری کا یہ سفر جاری رکھنا ہوگا۔

سرفراز نے کہا کہ سری لنکا اور ویسٹ انڈیز کی ٹیمیں پاکستان ضرور آئیں گی اور آنے والے دنوں میں بھارتی ٹیم بھی پاکستان آنے کے بارے میں ضرور سوچے گی، پی ایس ایل اسپاٹ فکسنگ کیس کا سامنا آنا بدقسمتی تھی، شرجیل خان جیسا کرکٹرز ضائع ہوگا،وہ ایک ایسے اوپنر تھے جو ٹیم کو بہترین آغاز دینے کی صلاحیت رکھتے تھے۔