پاکستان میں سیاحت اور عالمی دن

18

اختر سردار چودھری ،کسووال
سیاحت تفریحی249 فرحت بخشانہ،صحت افزائی، اطمینان بخشی یا قدرتی نظاروں کو دیکھنے کے مقاصد کے لئے سفر کو کہتے ہیں ۔سیاحت سے مختلف ثقافتوں اور خطوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے اور مختلف اچھی چیزیں ایک معاشرے سے دوسرے میں رائج ہوجاتی ہیں۔سیاحت کے مختلف اقسام ہیں جیسے قدرتی نظاروں کو دیکھنے والا سیاحت، مذہبی سیاحت جس میں لوگ مختلف مذہبی جگہوں کو دیکھنے جاتے ہیں،تاریخی سیاحت جس میں لوگ آثار قدیمہ وغیرہ دیکھتے ہیں۔
دنیا بھر میں 27 ستمبرکو سیاحت کا عالمی دن منایا جا تا ہے ۔ سیاحت کا یہ عالمی دن ورلڈ ٹورازم آرگنائزیشن کی ایگزیکٹیو کونسل کی سفارشات پر جنرل اسمبلی کی قرارداد کے مطابق منایا جاتا ہے ۔ یہ دن 27ستمبر1970 ء سے ہر سال بھر پور طریقے سے منایا جاتا ہے ۔سیاحت کا مطلب کیا ہے ؟سیاحت سفر کو ہی کہتے ہیں ۔ہم بہت سے مقاصد کے لیے سفر کرتے ہیں ۔سفر یا سیاحت میں تفریحی سفر،سرمائی سیاحت،عوامی سیاحت، صفاتی سیاحت ،طبی سیاحت ،ثقافتی سیاحت ،مذہبی سیاحت ،جغرافیائی سیاحت ،سمندری سیاحت ،جنگلی حیات سیاحت، اس کے علاوہ جس مقصد کے لیے سیاحت کی جاتی ہے وہی نام دیا جاتا ہے ۔سیاحت کا علم سے گہرا تعلق ہے ،اس کے علاوہ یہ مختلف تہذیبوں کو قریب لانے کا باعث بنتی ہے ۔اس لیے عالمی سطح پر روز بروز سیاحت کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے ۔سیاحت ایک مقبول عالمی تفریحی سرگرمی بن چکی ہے۔
ورلڈ ٹورائزم آرگنائزیشن کے مطابق2003ء میں سیاحوں کی تعداد69کروڑ تھی جو2013تک بڑھ کر ایک ارب8کروڑ سے زائد ہو چکی ہے ۔پاکستان کا شمار دنیا کے ان چند ممالک میں ہوتا ہے ،قدرتی خوبصورتی، مذہبی سیاحت اور تاریخی مقامات سے مالامال ہے۔ پاکستان ایک سیاحتی ملک ہے جو دنیا بھر کے سیا حوں کی توجہ کا مرکز ہے جس کو قدرت نے ہر قسم کے زمین و آب ہوا دی ہے۔ پاکستان میں مختلف لوگ، مختلف علاقوں کی زبانوں نے پاکستان کو بہت سے رنگوں کا گھر بنادیا ہے۔جس میں ریگستان، ہریالی علاقے،پہاڑ، جنگلات، گرم علاقے، سرد علاقے،خوبصورت جھیلے،جزائر اور بہت کچھ ہیں۔
پاکستان میں کے ٹو،نانگا پربت ،چترال،اسکردو ،گلگت ،ہنزہ ،سوات، ہزارہ، مری اور کشمیر کے پہاڑی سلسلے سیاحوں کے لئے کشش کا باعث ہیں ۔اس کے باوجود ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ کے مطابق سیاحت کے حوالے سے مرتب کردہ140ممالک کی درجہ بندی میں پاکستان122ویں نمبر پر ہے ۔
پاکستان میں سب سے زیادہ سیاحت کو فروغ 1970ء کی دہائی میں ملا جب ملک تیزی سے ترقی کررہا تھا،دیگر شعبوں کی طرح سیاحت بھی اپنے عروج پر تھا،باہر ممالک میں سے لاکھوں سیاح پاکستان آتے تھے۔اس وقت پاکستان کے سب سے مقبول سیاحی مقامات میں درہ خیبر،پشاور،کراچی،لاہور،سوات اور راولپنڈی جیسے دیگر علاقے شامل رہے۔وقت کے ساتھ ساتھ ملک میں اور بھی مختلف خوبصورت علاقوں کا لوگوں پتہ چلتا رہا اور سیاحت تیزی سے بڑھا۔یہی وجہ ہے کہ آج ملک بھرمیں ہزاروں سیاحتی مقامات کی سیر کیا جاتی ہے ،خاص کر پاکستان کے شمالی حصے میں سیاحت سب سے زیادہ ہے۔شمالی علاقوں میں آزاد کشمیر،گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور شمال مغربی پنجاب شامل ہیں۔ پاکستان کے شمالی حصے میں قدرت کے بے شمار نظارے موجود ہیں،اس کے ساتھ ساتھ مختلف قلعے،تاریخی مقامات،آثار قدیمہ عمارتیں،وادیاں،دریاں،ندیاں،جنگلات، جھیلیں اور بہت کچھ موجود ہیں۔
سیاحوں کی عالمی درجہ بندی میں سرفہرست 10ممالک سوئٹزرلینڈ،جرمنی،آسٹریا،اسپین،برطانیہ،امریکہ،فرانس،کینیڈا سویڈن اور سنگاپور شامل ہیں۔پاکستان میں سیاحت کیوں فروغ نہیں پا سکی اس کی بہت سی وجوہات ہیں لیکن سب سے بڑی وجہ حکومت کا اس طرف توجہ نہ دینا ہی ہے ۔ہم موجودہ حکومت کی ہی بات نہیں کر رہے اصل میں کسی بھی حکومت نے اس طرف نظر کرم نہیں کی ،علاوہ ازیں جو اس سے متعلقہ ادارے ہیں ان کی بھی ترجیح سیاحت نہیں ہے شائد ان کی ترجیح بھی سیاست ہے ،اس طرح سیاحت بھی سیاست کی نظر ہو گئی ہے۔ یعنی اسے بھی نظر لگ گئی ہے ۔اور جو حال دیگر قومی اداروں کا ہوا ہے وہی سیاحت کے ادارے کا ہے۔
پاکستان میں بہت سے قابل دیدمقامات ہیں۔ لیکن وہاں تک آمد و رفت کی سہولیات ناکافی ہیں۔مثلاََ شمالی علاقہ جات میں مناسب ذرائع آمد ورفت نہیں ہیں۔ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتحادی ہونے کی بھی ہمیں بھاری قیمت ادا کرنی پڑی کہ اب پاکستان خود دہشت گردو ں کی زد میں ہے۔بے شک کہ کافی حد تک اس پر کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے ،ضرب عضب کی وجہ سے لیکن پھر بھی دہشت گردی کے واقعات رونما ہو جاتے ہیں ۔حکومت کو چاہیے کہ اس جانب توجہ دے ایسے مقامات جو سیاحوں کے پرکشش ہیں ان مقامات مزید خوبصورت بنانے کے اقدامات کے ساتھ ساتھ وہاں سہولیات کا مہیا کیے بناں پاکستان میں سیاحت کا فروغ ممکن نہیں ہے ۔
اسلام میں سیاحت کی اجازت ہے ۔لیکن اس کی چند شرائط ہیں ،اگر ان شرائط کو پورا نہیں کیا جاتا تو اسلام میں صرف سیر وتفریح کے لیے وقت و دولت کو ضائع کرنے سے روکا گیا ہے ۔سیاحت عام طور مختلف ممالک میں گھومنے پھرنے یا سیر وتفریح کو سمجھا جاتا ہے ۔اسلام میں اس کا مقصد ہونا چاہیے اللہ کے دین کی دعوت ،اگر اسلام کے پھیلانے کے لیے جدو جہد کی جائے اس کے لیے دور دراز ممالک کے سفر کیے جائیں تو اجازت ہے ۔ سفر وسیلہ ظفر ہوتا ہے ۔یعنی سیاحت سے علم حاصل ہوتا ہے ،قدیم و جدید تہذیبوں سے آگاہی ہوتی ہے ۔
اسلام میں سیاحت گزشتہ اقوام کے بارے میں جاننے کے لیے ،خاص کر اللہ کی نافرمان اقوام کا انجام کیا ہوا۔یعنی عبرت حاصل کرنے کے لیے کرنے کی اجازت ہے ،اللہ تعالی قرآن پاک میں فرماتے ہیں ’’زمین میں چلو پھرو ،پھر دیکھو جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا ‘‘
( سورۃ انعام آیت 11) اسی طرح اللہ تعالی دوسری جگہ ارشاد فرماتا ہے کہ ’’کہہ دیجئے زمین میں چلو پھرو ،پھر دیکھو مجرموں کا انجام کیا ہوا ‘‘(سورۃ النحل آیت نمبر 69 )
سیاحت ایک طرح عبادت ہے ،مثلاََ حج کے لیے سفر ،جہاد کرنے کے لیے سفر ،دین اسلام کی تبلیغ کے لیے دیگر ممالک کا سفر وغیرہ ۔اللہ کی خوشنودی کے لیے۔ اللہ کے دین کے پھیلانے کے لیے کوشش کرنا اس کی بہت سی اقسام ہیں جہاد بالقلم ،جہاد بالسان ،جہاد بالسیف وغیرہ اللہ کے دین کی تبلیغ کے لیے سفر کرنا بھی ایک جہاد ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’یقیناََ میری امت کی سیاحت جہاد فی سبیل اللہ ہے‘‘ مطلب یہ کہ صرف اپنے نفس کی تسکین کے لیے سیر و تفریح کرنا سیاحت نہیں ہے ۔