بنگلادیش میں بھی روہنگیا مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کردیا گیا

12

بنگلادیش نے روہنگیا پناہ گزینوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کرتے ہوئے موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد کردی۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس  کے مطابق میانمار کے ریاستی مظالم سے جان بچاکر بنگلادیش میں پناہ لینے والے روہنگیائی مہاجرین کو سیکورٹی خدشات کا بہانہ بناکر مواصلاتی رابطوں سے محروم کردیا گیا ہے۔ بنگلادیشی حکومت نے ٹیلی کمیونکیشن کمپنیوں کو روہنگیا ئی افراد کو موبائل فون  کنکشن فروخت کرنے سے سختی سے منع کردیا ہے اور اس بات کا پابند کیا ہے کہ کسی بھی پناہ گزین کو سمِ فروخت نہ کی جائےجب کہ حکومت  نےموبائل کنکشن فراہم کرنے والی کمپنیوں کو مذکورہ پابندی کی خلاف ورزی پر جرمانےکا فیصلہ کیا ہے۔

وزارت مواصلات کے جونیئر وزیر نے میڈیا کو  بتایا کہ  سیکورٹی خدشات کے باعث روہنگیاں پناہ گزینوں کا مواصلاتی رابطہ ختم کرنا جائز قرار دیا گیا ہے تاہم  پناہ گزینوں کی بائیو میٹرک رجسٹریشن کے بعد انہیں سم کارڈ کا اجراء کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ میانمار حکومت کی مسلم کش کارروائیوں کے بعد ریاست راکھائن سے 4لاکھ 30ہزارسے زائد روہنگیا ہجرت کرکے بنگلادیش میں پناہ لیے ہوئے ہیں جنہیں خوراک کی کمی ،ادویات کی عدم فراہمی اور رہائش کی مشکلات درپیش ہیں ۔