مُجرم مائیں

24

سوچ کے در وا کرتی ایک خوب صورت افریقی کہاوت ہے: It takes the whole village to raise a child۔۔۔ یعنی ایک بچے کو ایک خوب صورت انسان کی صورت پروان چڑھانے کے لیے پورے خاندان اور پوری کمیونٹی کو اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوتی ہے۔ معاشرے کی بنیادی اکائی گھر ہے۔ گھر سے باہر سکول145 وہاں کا ماحول145 اساتذہ اور پھر یہ دائرہ پھیلتے پھیلتے گلی محلے اور پورے معاشرے تک وسیع ہو جاتا ہے۔
معاشرے کے مقابل اگر بچے کو پروان چڑھانے کے حوالے سے ماں کے کردار پر بات کریں تو یہ پورے معاشرے پر حاوی نظر آتا ہے۔ ماں کی دنیا اگر بچہ ہے تو بچے کو ماں کی صورت میں ہی پوری کائنات دکھائی دیتی ہے۔ رفتہ رفتہ ماں کی گود سے وہ دنیا کو دیکھنا شروع کر دیتا ہے۔ ماں ہی اس کے لیے پہلا سکول145 پہلی تربیت گاہ145 پہلی دوست اور پہلا استاد ہوتی ہے۔ یوں ایک بچے کو پالنے اور پروان چڑھانے کے لیے ماں پر پورے معاشرے کی ذمہ داری آ جاتی ہے۔ وہ بچے کو پروان چڑھاتے ہوئے معاشرے کا مستقبل تعمیر کرتی اور اسے بناتی سنوارتی ہے۔ ماں ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس سے کسی کوتاہی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ اس کی زندگی میں کوئی چھٹی نہیں۔ ماں خواہشوں کو اسی حد تک پال سکتی ہے جہاں تک اُس کے بچے کی زندگی متاثر نہ ہو۔ ماں بچے کی طرف پُشت کر کے زندگی کا کوئی خواب نہیں بُن سکتی145 اس لیے کہ اس کی پہلی ترجیح بچہ ہے۔
گھر کی محفوظ دنیا سے بچہ جب باہر کی غیر محفوظ دنیا میں قدم رکھتا ہے تو اس وقت بھی ماں ایک سائے کی طرح اس کے ساتھ رہتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ والد کا کردار کم ہے۔ والد چونکہ روزگار145 نوکری کے معاملات میں مصروف ہوتا ہے145 اس لیے اس کی عدم موجودگی میں مائیں ہی بچوں کو دیکھ رہی ہوتی ہیں145 اس لیے ان کا کردار بہت اہم ہے۔ بچوں کے حوالے سے جو مائیں اپنا کردار احسن طریقے سے ادا نہیں کرتیں وہ مجرمانہ غفلت کا شکار ہوتی ہیں۔
کمسن بچیوں کے ساتھ زیادتی اور اغوا کی دل دہلانے والی خبریں آئے روز اخبارات میں چھپتی ہیں۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں جب ایسی خبریں ہائی لائٹ ہوتی ہیں تو اس پہلو پر بات نہیں ہوتی کہ دراصل بچے کی ماں کی کوتاہی اور غفلت نے ہی اس حادثے کی راہ ہموار کی اور بچے کو مجرمانہ ذہنیت کے افراد کے لیے ایک آسان شکار یعنی سافٹ ٹارگٹ مل گیا۔ اس کے بعد سارا واویلا مبینہ مجرموں کے خلاف تو ضرور ہوتا ہے مگر اس ماں سے کوئی نہیں پوچھتا جس کی غفلت سے بچہ حادثے کا شکار ہوا۔
ماں ایثار145 محبت اور قربانی کا استعارہ ہے۔ ہمیشہ مائوں کو اسی آئینے میں دیکھا جاتا ہے۔ ہم نے فرض کر لیا ہے کہ ہر ماں اپنے بچے کے لیے لامحدود محبت کا ایک جہان ہوتی ہے۔ ہر ماں ہی اپنے بچے کی زندگی اور مستقبل کے لیے اپنی خواہشوں کو قربان کرنے والی ہوتی ہے، لیکن افسوس ایسا ہرگز نہیں۔ اس سوچ کی تحریک مجھے چند واقعات سے ملی145 جن کے بعد مجھے یقین ہو گیا کہ ہر ماں محبت 145 پیار اور قربانی کا ستعارہ نہیں ہو سکتی۔ سب مائیں ایک سی نہیں ہوتیں۔ اس کالم کا محرک بھی ایک ایسا ہی واقعہ ہے۔
25 جنوری کی شام بارش کی وجہ سے سردی معمول سے زیادہ تھی۔ اُسی شام کسی ضروری کام کے لیے مجھے مارکیٹ جانا پڑا۔ سوچا گاڑی کے انتظار سے بہتر ہے رکشہ لے کے چلی جائوں۔ سردی کی وجہ سے معمول کا رش نہیں تھا۔ کچھ دیر بعد ایک رکشہ رُکا جس میں سات سالہ بچی بیٹھی ہوئی تھی۔ رکشے والا کہنے لگا آپ بیٹھ جائیں145 میں نے اس بچی کو راستے میں اکیڈمی ڈراپ کرنا ہے۔ وہ بچی ناکافی سویٹر پہنے ہوئے تھی اور سردی سے کانپ رہی تھی۔ مجھے حیرت ہوئی کہ بچی کو اکیلے رکشے میں ماں نے کیسے بھجوا دیا۔ استفسار پر بچی نے بتایا کہ ماما کا بوتیک ہے145 وہ مصروف ہوتی ہیں۔ ”آپ اکیلے آتی جاتی ہو؟145145 جی 145 بچی نے معصومیت سے جواب دیا۔ ”اکیڈمی سے واپسی کتنے بجے ہوتی ہے؟145145 7بجے145 اس بار رکشے والا بولا۔ اتنے میں رکشہ کئی گلیاں کراس کرتا ہوا ایک گھر کے باہر رُکا ۔”بیٹا! اپنی ماما سے کہو آپ کو اکیلے نہ بھیجا کریں145145 میں نے کہا۔ میرے دل میں کئی وسوسے اور خدشے سر اٹھانے لگے۔ سردیوں کی شام اور اکیلی بچی، سات آٹھ بجے رکشے میں سفر کرتی ہوئی۔ کئی دِل دہلا دینے والے حادثے میرے ذہن میں گھوم گئے۔ کتنی غافل ماں ہے۔ کل کلاں اس معصوم بچی کے ساتھ حادثہ ہو گیا تو اس کی ”مصروف ماں145145 واویلا مچاتی پھرے گی۔ میں اُس بچی سے اس کا نام145 کلاس اور سکول کا نام پوچھ چکی تھی۔ اگلے ہی روز میں نے اس کے سکول رابطہ کیا145 اتفاق سے وہاں کی پرنسپل میری دوست ہیں جو اپلائیڈ لینگوئسٹک کی کلاس میں میری ہم جماعت تھیں۔ یہ بات سن کر گویا وہ پھٹ پڑیں۔ بولیں: آپ اندازہ نہیں کر سکتیں کہ ہمیں یہاں ہر روز کیسی کیسی غافل مائوں سے ڈیل کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے سکول کی ایک نویں کلاس کی طالبہ ایسی ہے جس کے والدین اُسے گھر کے پُرانے مرد ملازم کے سہارے چھوڑ کر مہینہ مہینہ باہر کے ملکوں کی سیر کرتے پھرتے ہیں۔ والد اور والدہ دونوں کو اپنی ذمہ داری کا احساس نہیں۔ اس بات کا پتا مجھے اس وقت چلا جب پڑھائی میں اس بچی کے گریڈ کم آنے لگے اور اُس کی شخصیت میں عدم تحفظ کے احساس سے کچھ نفسیاتی الجھنیں پیدا ہونے لگیں۔ میں نے جب اس کی والدہ سے بات کی تو وہ بولیں، یہ ملازم ہمارے اعتماد کا ہے۔ ایسی پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ ویسے بھی رات کو اس کے پاس خالہ اور نانی آ جاتے ہیں۔
سکول کی پرنسپل کا کہنا تھا کہ مائوں کو کچھ سمجھانے کی ضرورت ہے۔ غافل مائیں اپنے بچوں کو معاشرے کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتی ہیں۔ وہ بات کر رہی تھیں تو مجھے Child abuse کے حوالے سے کام کرنے والی ایک این جی او ساحل(Sahil)کے وہ خوفناک اعداد و شمار یاد آنے لگے جن کے مطابق جنسی طور پر ہراساں ہونے والے نوّے فیصد بچوں کے مجرم وہی لوگ ہوتے ہیں جن پر ان کے والدین گھریلو ملازم145 چچا145 ماموں یا پھر رشتے کے انکل پر اندھا اعتماد کرتے ہیں۔
سچ یہ ہے کہ ایسے حادثات میں اصل قصور وار وہ مائیں ہیں جو اپنے بچوں کو معاشرے کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتی ہیں۔ ایک ماں جو اپنی سات سالہ بچی کو رکشے والے پر اعتماد کر کے اُس سے بے خبر ہو جاتی ہے145 دراصل مستقبل کے کسی حادثے کا بیج بوتی ہے۔ ایسی غافل مائیں ہی اصل میں مجرم مائیں ہیں۔