روہنگیا مظالم پر آکسفورڈ یونیورسٹی نے سوچی کی تصویر اتار دی

11

میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر جاری مظالم پر خاموشی اختیار کرنے پر آکسفورڈ یونی ورسٹی کے کالج نے آنگ سان سوچی کی تصویر ہٹادی۔

آکسفورڈ یونی ورسٹی کے کالج سینٹ ہیوز نے اپنے مرکزی دروازے سے میانمار حکومت کی نوبل انعام یافتہ خاتون رہنما آنگ سان سوچی کا پورٹریٹ اتار دیا۔ سوچی نے 1967 میں اسی کالج سے تعلیم حاصل کی تھی اور کالج نے اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہوئے سوچی کی تصویر اپنے دروازے پر لگائی تھی کیونکہ سوچی نے میانمار میں جمہوریت کے لیے طویل عرصے تک قید کاٹی تھی جب کہ انہیں 2012 میں کالج سے پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری بھی تفویض کی گئی تھی۔ تاہم میانمار میں جاری مسلمانوں کی نسل کشی پر منافقت کا مظاہرہ کرنے اور خاموشی اختیار کرنے پر آکسفورڈ یونی ورسٹی کالج سوچی کی تصویر کو اپنے لیے باعث شرم سمجھتے ہوئے اسے اتار پھینکا۔

اب ان کی جگہ جاپانی مصور یوشھیرو ٹاکاڈا کی پینٹنگ آویزاں کی جائے گی۔ کالج انتظامیہ نے سوچی کی تصویر ہٹانے کا اعلان اپنے میگزین میں کیا تاہم اس فیصلے کی وجہ بیان نہیں کی اور صرف اتنا کہا کہ انہیں ایک نئی پینٹنگ ملی ہے جسے وہ سوچی کی تصویر کی جگہ لگانا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب برطانیہ میں روہنگیا مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیم برما کمپین یوکے گروپ نے آکسفورڈ یونی ورسٹی کالج کے اس اقدام کو بزدلانہ عمل قرار دیا ہے۔

مہم کے ڈائریکٹر مارک فارمینر نے کہا کہ یہ کالج انتظامیہ کا بزدلانہ عمل دکھائی دیتا ہے، اگر انہوں نے یہ اقدام اس لیے کیا کہ سوچی روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام میں برمی فوج کا ساتھ دے رہی ہیں تو پھر کالج انتظامیہ کو چاہیے تھا کہ وہ اس وجہ کو کھل کر بیان بھی کرتے اور سوچی کو خط لکھ کر انسانی حقوق کا احترام کرنے کے لیے زور دیتے، مگر انہوں نے خاموشی سے صرف تصویر اتار کر گودام میں رکھدی۔ آکسفورڈ کالج کی انتظامیہ پر سوچی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری واپس لینے کا بھی مطالبہ کیا جارہا ہے۔

پچھلے ہفتے آکسفورڈ یونی ورسٹی نے بھی میانمار کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ جامعہ کو امید ہے کہ سوچی کی زیر قیادت میانمار حکومت ظلم کا خاتمہ کرے گی اور اپنے شہریوں کا احترام کرے گی۔

واضح رہے کہ میانمار میں ریاستی سرپرستی میں جاری مظالم کی وجہ سے سیکڑوں روہنگیا مسلمان شہید اور لاکھوں ہجرت پر مجبور ہوگئے ہیں جبکہ عالمی برادری نے خاموش رہنے پر سوچی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ یاد رہے کہ برما میں سوچی کی جماعت 2015 کے الیکشن میں برسراقتدار آئی تھی۔