دوسری اور تیسری بیوی تلاش کرنے والی ایپ

27

انڈونیشیا میں ایک سے زائد شادیاں کرنے کا رحجان عام ہے اور مرد بڑی تعداد میں دوسری یا تیسری بیوی کے لیے آن لائن سروسز کا استعمال کرتے ہیں۔ اسی بنا پر ایک سافٹ ویئر ڈویلپر نے ایسی ایپ تیار کی ہے جس کے ذریعے دوسری شادی کے لیے رضامند خواتین کو تلاش کیا جا سکتا ہے۔

لِنڈو پرانیاما نے اپنے سروے کے دوران محسوس کیا کہ ملک میں مردوں کی بڑی تعداد دوسری اور تیسری شادی کی خواہشمند ہے لیکن رشتے یا خواتین تلاش کرنے والی بہت ساری ویب سائٹس بھی دوسری شادی کی سہولت فراہم نہیں کرتیں۔ اسی بنا پر پرانیاما نے ایک سے زائد شادیوں کے لیے مخصوص ایپ بنا کر یہ مشکل حل کر دی ہے۔

اس ویب سائٹ کا نام ’آیوپولیگیمی‘ ہے جس کے مطلب ہے کہ ’آؤ ایک سے زائد شادیاں کریں‘ جو اسمارٹ فون ایپ ہے اور یہاں وہ خواتین بطورِ خاص رجسٹرڈ ہیں جو کسی کی دوسری یا تیسری بیوی بننے پر راضی ہیں۔

پرانیاما کہتے ہیں کہ جب آپ شادی کرنے والی یا ڈیٹنگ ویب سائٹ پر جائیں تو وہاں دوسری اور تیسری شادی کا آپشن موجود نہیں ہوتا اور اسی بنا پر یہ مخصوص ایپ تیار کی گئی ہے۔ انڈونیشیا کی 80 فیصد یعنی 25 کروڑ آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے اور وہاں ایک سے زائد شادیوں کی اجازت ہے لیکن خاص صورت میں ہی اس کی اجازت دی جاتی ہے۔ عدالت دوسری شادی کی اجازت صرف اسی صورت میں دیتی ہے جب پہلی بیوی، معذور، شدید بیمار یا پھر بانجھ پن کا شکار ہو۔

اسی بنا پر یہ ایپ سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بن رہی ہے۔ اس سال اپریل میں لانچ کی جانے والی اس ایپ کو دوسری اور تیسری شادی کا رحجان عام کرنے کی ایک کوشش قرار دیا جا رہا ہے جس سے براہِ راست خواتین متاثر ہوں گی۔ یعنی وہ یہ نہیں جانتی ہوں گی کہ وہ کسی دوسرے کو شادی کی پیشکش کرنے والی دوسری خاتون بننے جا رہی ہیں۔

انڈونیشیا میں خواتین پر تشدد کے خلاف قومی کمیشن کے کمشنر اندریاتی سوپرنو کہتے ہیں کہ ایک سے زائد شادیوں کی صورت میں خواتین پر ظلم، نفسیاتی تشدد اور گھریلو لڑائی جھگڑوں کا شکار ہوں گی جب کہ دوسری شادی خواتین کے خلاف ایک نیا تشدد بھی ہے۔

اب تک 37 ہزار سے زائد افراد یہ ایپ ڈاؤن لوڈ کر چکے ہیں۔ اکثر اکاؤنٹس جعلی ہیں جو خواتین کو بے وقوف بنانے کے لیے استعمال کئے جا رہے ہیں اور مردوں  کی جانب سے اپنی پہلی بیوی سے اجازت کے بغیر خواتین کو چنگل میں پھانسنے کا ایک نیا حربہ بھی ہے۔ اسی بنا پر ایپ پر رجسٹریشن وقتی طور پر روک دی گئی ہے۔ اب اس کے اگلے ورژن میں رجسٹریشن کرانے والوں کو اپنے شادی شدہ ہونے کا اعلان کرنا ہوگا، اپنا شناختی کارڈ اور پہلی بیوی سے دوسری شادی کا ایک اجازت نامہ بھی دکھانا ہو گا۔