تحریک استشراق کا تعارف

25

محمد اسحاق قریشی

غیر مشرقی لوگوں کا مشرقی زبانوں، تہذیب، فلسفے، ادب اور مذہب کے مطالعے میں مشغول ہو جانے کا نام استشراق ہے۔ اس تعریف کی رو سے ہر وہ غیر مشرقی عالم جو اپنے آپ کو مشرقی علوم کے لیئے وقف کرے گا اسے مستشرق کہا جائے گا۔
آکسفورڈ کی جدید ڈکشنری کے مطابق مستشرق وہ ہے جو مشرقی علوم و آداب میں مہارت حاصل کرے
المنجد کے مطابق مستشرق وہ ہے جو مشرقی زبانوں، آداب اور علوم کا عالم ہو اور اس علم کا نام استشراق ہے
ان تعریفوں میں کوئی بھی تعریف ایسی نہیں جو تحریک استشراق کے مقاصد اور عملی پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہو۔مشرق کا لفظ بذات خود وضاحت طلب ہے۔ مشرق و مغرب کے مفہوم میں تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں۔ قرون وسطی میں بحیرہ روم کو دنیا کا مرکز قرار دیا جاتا تھا اور جہتوں کا تعین اسی سے ہوتا تھا۔ اس کے مشرقی علاقوں کو مشرق اور مغربی علاقوں کو مغرب سے تعبیر کیا جاتا تھا اگر ہم مشرق کے اس مفہوم کو تسلیم کر بھی لیں تب بھی مستشرق کی مندرجہ بالا تعریف جامع نہیں رہتی اس تعریف کی رو سے دین عیسوی کا تعلق بھی مشرق سے ہے اور اس حساب سے جو عالم حضرت عیسی علیہ السلام کی زبان، معاشرت، مذہب اور سیرت کے مطالعے کے لیئے خود کو وقف کر دے اسے بھی مستشرق قرار دیا جانا چاہیئے مگر عملی طور پر ایسا نہیں ہے۔ بائبل کے دونوں حصوں عہد نامہ قدیم و جدید میں اکثر واقعات کا تعلق مشرق سے ہے مگر بائبل کے عالم کو کوئی بھی مستشرق نہیں کہتا۔ ایک حیران کن حقیقت یہ بھی ہے کہ وہ علمی مصادر جو مستشرقین کی مساعی کا نتیجہ ہیں یا تو وہ اس تحریک کے متعلق کلیتہ خاموش ہیں یا اگر کہیں ذکر ملتا بھی ہے تو وہ ناکافی اور مبہم ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مستشرقین اپنے مقاصد کو پوشیدہ رکھنا چاہتے ہیں ۔
یہ تحریک صدیوں مصروف عمل رہی مگر اس کا کوئی باضابطہ نام نہ تھا۔ اربری کہتا ہے کہ Orientalist کا نام پہلی دفعہ 1630 ء میں مشرقی یا یونانی کلیسا کے ایک پادری کے لیئے استعمال ہوا۔ روڈنسن کہتا ہے کہ Orientalism یعنی استشراق کا لفظ پہلی دفعہ انگریزی زبان میں 1779 ء میں داخل ہوا۔ فرانس کی کلاسیکی لغت میں استشراق کے لفظ کا اندراج 1838 ء میں ہوا۔ حالانکہ عملی طور پر تحریک استشراق اس سے کئی صدیاں پہلے وجود میں آ چکی تھی اور پورے زور و شور سے مصروف عمل تھی۔ جن لوگوں نے تحریک استشراق کا تفصیلی جائزہ لیا ہے ان کے اغراض و مقاصد، ان کی تاریخ اور ان کے علمی کارناموں کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے انہوں نے مستشرقین کے مختلف نظریات اور مساعی کے پیش نظر استشراق کی کچھ تعریفیں بیان کی ہیں ڈاکٹر احمد عبد الحمید غراب نے اپنی کتاب رویۃ الاسلامیہ لاستشراق میں کچھ تعریفیں لکھی ہیں جن میں سے چند ایک مندرجہ ذیل ہیں :۔
1۔ استشراق مغربی اسلوب فکر کا نام ہے جس کی بنیاد مشرق و مغرب کی نسلی تقسیم کے نظریہ پر قائم ہے۔ جس کی رو سے اہل مغرب کو اہل مشرق پر نسلی اور ثقافتی برتری حاصل ہے یہ تعریف گو کہ ہر مستشرق کی ذہنی کیفیت کو ظاہر کرتی ہے لیکن اگر اس تعریف کی رو سے دیکھا جائے تو آج سارا یورپ ہی مستشرق نظر آئے گا۔ کیونکہ جب سے انہوں نے صنعتی و عسکری میدان میں ترقی کی ہے اسی وقت سے سارا یورپ اسی انداز سے سوچتا ہے ۔اس صورت میں یہ تعریف استشراق کو سمجھنے میں معاون ثابت نہیں ہو سکتی۔
2۔ استعماری مغربی ممالک کے علماء اپنی نسلی برتری کے نظریے کی بنیاد پر، مشرق پر غلبہ حاصل کرنے کی نیت سے اس کی تاریخ، تہذیبوں، ادیان، زبانوں، سیاسی اور اجتماعی نظاموں، ذخائز دولت اور امکانات کا جو تحقیقی مطالعہ غیر جانبدارانہ تحقیق کے بھیس میں کرتے ہیں اسے استشراق کہا جاتا ہے۔
3. استشراق اس مغربی اسلوب کا نام ہے جس کا مقصد مشرق پر غلبہ حاصل کرنے کے لیئے اس کی فکری اور سیاسی تشکیل نو کرنا ہے ۔
آخری دو تعریفیں گو کہ مستشرقین کے استعماری اور استحصالی ارادوں کا پتا دیتی ہیں لیکن ان کے سینوں میں چھپی ہوئی اس حقیقی خواہش کا پتا نہیں دیتیں جس کا پردہ ہمارے علیم و خبیر پروردگار عالم نے صدیوں پہلے چاک کر دیا تھا :۔

وَدَّتْ طَّـآئِفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يُضِلُّوْنَكُمْ ؕ وَمَا يُضِلُّوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَهُـمْ وَمَا يَشْعُرُوْنَ (69)
بعض اہلِ کتاب دل سے چاہتے ہیں کہ کسی طرح تم کو گمراہ کردیں، اور (وہ) گمراہ نہیں کرتے مگر اپنے نفسوں کو اور نہیں سمجھتے۔

ڈاکٹر احمد عبد الحمید غراب نے مندرجہ بالا تعریفیں بمع تبصرہ نقل کرنے کے بعد استشراق کی جو تعریف خود کی ہے وہ مندرجہ ذیل ہے :۔
” مغربی اہل کتاب، مسیحی مغرب کی اسلامی مشرق پر نسلی اور ثقافتی برتری کے زعم کی بنیاد پر، مسلمانوں پر اہل مغرب کا تسلط قائم کرنے کے لیئے مسلمانوں کو اسلام کے بارے میں گمراہی اور شکوک کا شکار کرنے اور اسلام کو مسخ شدہ صورت میں پیش کرنے کی غرض سے، مسلمانوں کے عقیدہ، شریعت، ثقافت، تاریخ، نظام اور وسائل و امکانات کا جو مطالعہ غیر جانبدارانہ تحقیق کے دعوے کے ساتھ کرتے ہیں اسے استشراق کہا جاتا ہے ۔”
یہ تعریف مستشرقین کے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں پوشیدہ عزائم کو ظاہر کرتی ہے لیکن اس میں خامی یہ ہے کہ اس کی رو سے تمام مستشرقین ایک ہی زمرے میں شمار ہو جاتے ہیں جبکہ مستشرقین کو کئی گروہوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ اس میں ایک خامی اور ہے کہ جو مستشرقین اسلام کے علاوہ دیگر مشرقی علوم اور تہذیبوں کے میدان عمل میں مصروف ہیں وہ مستشرقین کے دائرہ کار سے نکل جاتے ہیں۔ حالانکہ معروف معنوں میں وہ مستشرق ہیں۔
ڈاکٹر محمد ابراہیم رودی بارت کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ مستشرقین کے عرف میں لفظ مشرق کا جغرافیائی مفہوم مراد نہیں بلکہ ان کے ہاں مشرق سے مراد وہ خطے ہیں جہاں اسلام کو عروج حاصل ہوا۔ گویا مستشرقین دنیائے اسلام کو مشرق کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں۔
مشرق کے اس مفہون کے تحت، مستشرقین کی عملی جدوجہد جن خفیہ مقاصد کی غمازی کرتی ہے ان کو اور مستشرقین کے بے شمار علمی کارناموں اور طبقات کو مدنظر رکھتے ہوئے مستشرقین کی تعریف یوں کی جا سکتی ہے :۔
” اہل مغرب بلعموم اور یہود و نصاری بالخصوص، جو مشرقی عوام خصوصا ملت اسلامیہ کے مذاہب، زبانوں، تہذیب و تمدن، تاریخ، ادب، انسانی قدروں، ملی خصوصیات، وسائل، حیات اور امکانات کا مطالعہ معروضی تحقیق کے لبادے میں اس غرض سے کرتے ہیں کہ ان اقوام کو اپنا ذہنی غلام بنا کر ان پر اپنا مذہب اور تہذیب مسلط کر سکیں اور ان پر غلبہ پا کر ان کے وسائل حیات کا استحصال کر سکیں ان کو مستشرقین کہا جاتا ہے اور جس تحریک سے یہ لوگ وابستہ ہیں اسے تحریک استشراق کہا جاتا ہے۔” بشکریہ منطق ڈاٹ پی کے