اپنے دفاع کے لیے کسی پر حملے سے بھی گریز نہیں کریں گے، ترک صدر

4

ترکی کےصدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ ہم اب محض مزاحمتی دفاع پراکتفا نہیں کررہے اور اپنے دفاع میں حملہ کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔ 

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے طیب اردوان نے شام میں امریکا کی جانب سے داعش کی مدد کرنے پرتنقید اور ترکی پر دہشت گرد تنظیموں کے تحفظ  کے الزامات پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ دشمن ترکی کو دہشت گرد تنظیموں کے ذریعے مشکلات سے دو چار کرنے کی سازش میں ناکام رہنے کے بعد اب براہ راست  جنگ کی جانب بڑھنے لگے ہیں۔ ترکی کو ہرروز ایک نیا حربہ اورچال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ سازشوں کے ذریعےترکی کی توجہ اورتوانائی کو خطے میں رونما ہونے والی کلیدی پیش رفت سے دور رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

صدر اردوان کا کہنا تھا کہ  “ترکی  کو سیاسی ، سماجی، سفارتی، عسکری، اقتصادی سمیت تمام ترشعبوں میں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کی کوشش کرنے والے اب روزانہ نئی  چالوں کے ساتھ سامنے آرہے ہیں، تاہم اب محض  مزاحمتی  دفاع کرنے پر اکتفا نہیں کررہے بلکہ اپنے منصوبوں پر حرف بہ حرف عمل پیراہو رہے ہیں۔

ترک صدر کا مزید کہنا تھا کہ ترکی پردہشت گرد تنظیموں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کرنے کا الزام لگانے والے اب انہی دہشت گرد تنظیموں کے ہمراہ علاقے کو اپنے زیر تسلط لینے کی کوششوں میں ہیں۔ امریکا وائی پی جی کو اسلحہ  فراہم کررہا ہے جو کہ شام میں داعش کے لئے ریڑھ کی ہڈی کا کردار اداکر رہی ہے۔

واضح رہے کہ ترکی اورامریکا کےتعلقا ت میں کشیدگی اس وقت دیکھنے میں آئی ہے جب ترکی نے استنبول میں امریکی قونصل خانے کے ملازم کو گرفتار کیا، رواں سال کے دوران یہ دوسرا امریکی سفارتکار ہے جس کو ترکی انتظامیہ کی جانب سے گرفتار کیا گیا ہے جس کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے لئے ویزا سروس بند کردی ہے جبکہ امریکانے ترکی پرالزام لگایا ہے کہ ترکی شام میں داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کی مدد کررہا ہے۔