قاضی کفایت اللہ ڈنگہ کا بیان کم علمی اور اہل سنت میں رخنہ ڈالنے کی سازش ہے، ڈاکٹر نعیم الدین الازہری

18

بھیرہ (اسٹاف رپورٹر سے) دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف سے ڈاکٹرمحمد نعیم الدین الازہری نے میڈیا کے لیے جاری کیے گئے بیان میں کہا کہ قاضی کفایت اللہ ڈنگہ کا بیان جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری علیہ الرحمۃ کا موقف نہیں۔ قاضی کفایت اللہ صاحب کو اللہ کے حضور توبہ کرنی چاہیے کہ وہ اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے پیر محمد کرم شاہ الازہری علیہ الرحمۃ کا نام استعال کررہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ضیاء الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری علیہ الرحمۃ نے اپنے رسالہ “تحذیر الناس میری نظر میں” میں صرف ان مقامات کی توصیف فرمائی ہے جہاں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے متعلق قرآنی آیت “النبی اولی بالمؤمنین من انفسھم” میں “اولی ” بمعنی “اقرب” کیا گیا ہے۔ رہی بات اس جملہ کی جس پر علمائے اہل سنت نے تعقیب فرمائی اور فتاویٰ جات تحریر فرمائے تو اس جملہ کے متعلق پیر صاحب نے بھی یہی لکھا کہ اس جملہ کے عقوبات و نتائج نہایت تباہ کن ثابت ہوئے ہیں، یعنی ایسا جملہ تحریر کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز ڈنگہ کھاریاں سے قاضی کفایت اللہ نامی ایک دیوبند خطیب نے مولانا قاسم نانوتوی کی کتاب “تحذیر الناس” سے متعلق بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ تحذیر الناس کو سمجھنے کے لیے ضیاء الامت جیسے فاضل کی نظر چاہیے۔ جس پر دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف سے ڈاکٹر نعیم الدین الازہری نے یہ وضاحتی بیان جاری کیا۔