پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے اور چیک پوسٹیں بنانے کا کام تیزی سے جاری

9

پاک افغان بارڈر کو محفوظ بنانے کیلئے باڑ لگانے اور چیک پوسٹیں بنانے کا کام تیزی سے جاری ہے، تیئس سو چوالیس کلو میٹر طویل باڑ لگائی جائے گی جبکہ سات سو پچاس قلعے تعمیر کئے جائیں گے۔

اسلام آباد: (فلک نیوز) میڈیا نمائندوں نے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں پاک افغان بارڈر کا دورہ کیا۔ مقامی کمانڈر نے صحافیوں کو سکیورٹی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ پاک افغان بارڈر پر 750 قلعے تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 95 قلعے مکمل ہو چکے ہیں۔ 82 زیرتعمیر ہیں۔ 2344 کلو میٹر طویل سرحد میں سے 43 کلو میٹر پر باڑ لگانے کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ پورے فاٹا میں صرف 16 باضابطہ کراسنگ پوائنٹس ہوں گے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاک افغان سرحد پر ہر ڈیڑھ سے تین کلو میٹر کے فاصلے پر ایک قلعہ تعمیر کیا جائے گا۔ جنوبی وزیرستان میں پاک افغان سرحد پر 151 چیک پوسٹس بنائی جائیں گی جبکہ 105 کلو میٹر طویل باڑ لگانے کا عمل دسمبر 2018ء تک مکمل کر لیا جائے گا۔ جنوبی وزیرستان میں سات آزاد کراسنگ پوائنٹس میں سے اب صرف ایک باضابطہ کراسنگ پوائنٹ انگور اڈہ ہے۔ طور خم اور چمن کے کراسنگ پوائنٹس کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کر دیا گیا ہے۔ مقامی کمانڈر نے بتایا کہ شمالی وزیرستان کی پاک افغان سرحد پر 5 قلعے تعمیر ہو چکے جبکہ 216 کلو میٹر بارڈر پر 944 پوسٹس تعمیر کی جائیں گی۔ 70 پوسٹس 7 سے 9 ہزار فٹ کی بلندی پر ہیں۔ بارڈر کی نگرانی کے لئے جدید ٹیکنالوجی کیساتھ ریڈارز، کیمرے اور سولر لائٹس نصب کی جا رہی ہیں۔ صحافیوں کو بتایا گیا کہ پاک افغان بارڈر پر 73 ایف سی ونگز تشکیل دیئے جائیں گے جن میں سے اب تک 29 فنکشنل ہو چکے ہیں۔