اب کافی کے بیج سے گاڑی کا ایندھن تیار کیا جائے گا

7

کافی کے روزانہ استعمال سے جہاں بہت سے طبی فوائد حاصل ہوتے ہیں وہیں اب کافی کے بیج سے گاڑیوں کا ایندھن بھی تیار کیا جاسکے گا۔

برطانیہ میں لنکاسٹر یونیورسٹی کے ماہرین نے ایک تجربے کے بعد انکشاف کیا ہے کہ کافی کے بیج سے حاصل ہونے والے تیل کو آٹوموبل انڈسٹری میں بطور ایندھن بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس حوالے سے مختلف ادارے کافی کے بیجوں سے تیل نکالنے کا کام کررہے ہیں اور یہ طریقہ سویابین یا مکئی سے بایوفیول (حیاتی ایندھن) بنانے کی نسبت زیادہ آسان اور قدرتی ہے۔

یونیورسٹی آف لنکاسٹر میں کیمیکل انجینئرنگ کے انسٹرکٹر ویسنا ماجدانووچ نے بتایا، ’’ہم اس سلسلے میں ’ٹرانسس ٹیری فکیشن‘ یعنی تیل کو بایوڈیزل میں تبدیل کرنے کا طریقہ کار اپناتے ہیں جو بنیادی طور پر نچوڑنے اور تبدیلی کے عمل کو ایک ہی مرحلے میں یکجا کرتے ہوئے یہ دونوں کام انجام دے دیتا ہے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ دو کاموں کو ایک ہی مرحلے میں مکمل کرنے کی بدولت پیداواری لاگت کم ہوجائے گی۔

ویسنا ماجدانووچ نے بتایا کہ ہم اس بات کا دعویٰ نہیں کررہے کہ پیٹرول سمیت دیگر ایندھن کے استعمال کو اچانک کم کرکے  پوری دنیا کو کافی سے بنے ایندھن پر منتقل کردیں گے اور نہ ہی یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ پیٹرول اور ڈیزل سے پیدا ہونے والی فضائی آلودگی کو یکسر ختم کر دیں گے، تاہم کافی کے بیجوں سے بنے ایندھن سے فضائی آلودگی کو کم کرنے میں خاصی حد تک مدد ضرور ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر استعمال شدہ کافی کو کیفے اور ہوٹلوں سے جمع کرنا شروع کردیا گیا ہے اور امید ہے کہ ایک دن ایسا بھی آئے گا جب ہر ہفتے لوگوں کے گھروں سے استعمال شدہ کافی اکٹھی کی جائے گی اور اس سے بایوڈیزل تیار کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ ماضی میں مکئی اور سویابین سے حیاتی ایندھن (بایوفیول) بنانے پر زور دینے کی وجہ سے دنیا میں غذائی اجناس کا عالمی بحران آیا تھا جس کے نتیجے میں یہ خیال شدت پکڑ رہا تھا کہ حیاتی ایندھن بنانے کےلیے ایسی اشیاء استعمال کی جائیں جن کا تعلق یا تو کھانے پینے سے نہ ہو یا پھر وہ غذائی باقیات میں سے ہوں۔ البتہ اس سلسلے میں اب تک وضع کیے گئے زیادہ تر طریقے خاصے مہنگے تھے جن میں کئی مراحل کے بعد ہی ایندھن حاصل ہو پاتا تھا۔ مذکورہ طریقہ ان سب پر اسی لیے فوقیت رکھتا ہے کیونکہ یہ بیک وقت ضائع شدہ کافی استعمال کرتا ہے جبکہ اس میں ایندھن کی تیاری صرف ایک ہی مرحلے میں مکمل ہوجاتی ہے۔ یوں اس میں وقت اور سرمائے، دونوں کی بچت ہوتی ہے۔