پاکستان نے سری لنکا کو ون ڈے سیریز میں وائٹ واش کردیا

16

پاکستان نے پانچ میچوں کی ون ڈے سیریز میں سری لنکا کو وائٹ واش کرکے ٹیسٹ سیریز کا حساب برابر کردیا۔

شارجہ میں کھیلے گئے 5 ویں اور آخری ایک روزہ میچ میں عثمان خان کی شاندار بولنگ کے بدولت سری لنکا کی پوری ٹیم 27ویں اوور میں 103 رنز پر پویلین لوٹ گئی جب کہ پاکستان نے مطلوبہ ہدف باآسانی ایک وکٹ کے نقصان پر 21ویں اوور میں پورا کیا۔

قومی ٹیم کی جانب سے امام الحق اور فخرزمان نے 84 رنز کا عمدہ آغاز کیا تاہم  فخر صرف 2 رنز کی کمی سے اپنی نصف سنچری مکمل نہ کرسکے، ان کی اننگز میں 7 چوکے شامل تھے جب کہ امام الحق  45 اور فہیم اشرف 5 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے۔

اس سے قبل سری لنکا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا جو کہ غلط ثابت ہوا اور پوری ٹیم 26 اعشاریہ 2 اوورز میں 103 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی، مہمان ٹیم نے اننگز کا آغاز کیا تو پہلے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی سمراوکرما تھے جو کہ بغیر کوئی رنز بنائے عثمان شنواری کی گیند پر کلین بولڈ  ہوگئے جب کہ ان کے بعد آنے والے کھلاڑی چندیمل اگلی ہی گیند پرپویلین واپس لوٹ گئے انہیں بھی عثمان نے آؤٹ کیا، سری لنکن کپتان تھرنگا بھی 8 رنز بنا کر عثمان کی گیند پر بولڈ ہوگئے اور ڈکویلا بھی کوئی رنز بنائے بغیر عثمان شنواری کا شکار ہوگئے۔

مشکل وقت میں سری لنکن بلے باز سروردانا بھی ہمت ہار بیٹھے اور 20 کے مجموعی اسکور پر 6 رنز بنا کر فخرزمان کو کیچ تھما بیٹھے ان کی وکٹ بھی عثمان شنواری کے حصے میں آئی۔ 49 کے مجموعی اسکور پر تھرمانے کو حسن علی نے آؤٹ کردیا وہ صرف 19 رنز بنا سکے۔ 63 رنز پر پرسانا کو شاداب خان نے رن آؤٹ کردیا وہ ٹیم کے مجموعی اسکور میں صرف 16 رنز کا اضافہ کرسکے۔

اس موقع پرجارح مزاج بلے باز پریرا نے تیز کھیلنے کی کوشش کی تاہم وہ بھی 25 رنز بنا کر اپنی وکٹ گنوا بیٹھے انہیں شاداب خان نے آؤٹ کیا۔ وندرسے بھی 2 رنز بنا کر شاداب خان کا شکار ہوگئے۔ سری لنکا کے آخری آؤٹ ہونے والے کھلاڑی چمیرا تھے جو کہ 11 رنز بنا کر حسن علی کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔

پاکستان کی جانب سے عثمان شنواری نے شاندار بالنگ کرتے ہوئے  5 کھلاڑی آؤٹ کیئے جب کہ حسن علی اور شاداب خان نے 2، 2 وکٹیں حاصل کیں اور ایک کھلاڑی رن آؤٹ ہوا۔

عثمان شنواری کو شاندار بولنگ پر مین آف دی میچ سے نوازا گیا جب کہ حسن علی کو ٹورنامنٹ کا بہترین بولر قرار دیا گیا۔ اس موقع پر عثمان شنواری نے کہا کہ اس پچ پر وکٹ حاصل کرنا آسان نہیں تھا لیکن ٹیم کےاعتماد دینے کی وجہ سےاچھی پرفارمنس ہوئی، آج کی پرفارمنس میرے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے جب کہ آج کی پرفارمنس اپنے والدین اوربیوی کے نام کرتا ہوں۔ حسن علی کا کہنا تھا کہ میری ٹیم مجھےجو پلان دیتی ہے اس پرعمل کرتاہوں اور بنیادی تیکنیک پرکام کرکے کامیابیاں حاصل ہورہی ہیں۔

دوسری جانب قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ جیت کا کریڈٹ تمام کھلاڑیوں کو جاتا ہے، لڑکے اعتماد پر پورا اُترتے ہیں تو بہت خوشی ہوتی ہے لیکن بیٹنگ میں مزید بہتری کی گنجائش ہے جب کہ عثمان شنواری نے جیسی بالنگ کی ایسی کارکردگی بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے۔