خلا سے زمین پر پہنچنے کے بعدخلاباز کس مہلک بیماری میں مبتلا ہوجاتے ہیں؟

15

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) زمین کے مخصوص حالات سے باہر نکل کر خلا میں جانا کوئی آسان بات نہیں۔ خلا میں کشش ثقل کی عدم موجودگی کے باعث حالات و واقعات زمین سے مختلف ہوتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق یہ کشش ثقل زمین پر ہمیں اور تمام اشیا کو سیدھا زمین پر کھڑا رکھتی ہے۔ جب کوئی شے یا کوئی شخص خلا میں جاتا ہے تو وہ کھڑا نہیں رہ پاتا اور خلا میں تیرنے لگتا ہے۔کشش ثقل کی یہ عدم موجودگی خلا میں جانے والوں کی جسمانی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔خلا میں کچھ عرصہ وقت گزارنے کے بعد زمین پر واپس آنے والے خلابازوں کا جب معائنہ کیا گیا تو دیکھا گیا کہ ان کی نظر خاصی کمزور ہوگئی تھی۔زمین پر واپسی کے بعد خلا بازوں کو عموماً ڈرائیونگ اور مطالعے کے لیے چشمے کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔ماہرین کے مطابق خلا باز اس کے علاوہ بھی کئی جسمانی مسائل کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ان کا دل سکڑ جاتا ہے جبکہ ریڑھ کی ہڈی میں کھنچاؤ پیدا ہوجاتا ہے۔ابتدا میں خیال کیا جاتا تھا کہ نظر کی یہ کمزوری سر پر دباؤ پڑنے کی وجہ سے ہوجاتی ہے تاہم بعد ازاں یہ نظریہ غلط ثابت ہوا۔ دراصل یہ کمزوری جسم میں موجود سیربرو اسپائنل فلڈ (سی ایس ایف) نامی مائع کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ مائع ہمارے دماغ اور ریڑھ کی ہڈی میں موجود ہوتا ہے اور نمکیات کی جسم میں گردش اور مضر صحت اجزا کا اخراج یقینی بناتا ہے۔تاہم اگر طویل عرصے تک زمین کے مدار سے باہر رہا جائے تو یہ مائع آنکھوں کے گرد جمع ہوجاتا ہے۔ اس کے باعث آنکھوں کے اعصاب سوج جاتے ہیں۔آنکھوں کے گرد اس مائع کی مقدار جتنی زیادہ ہوگی، خلا باز کو دیکھنے میں اتنی ہی زیادہ تکلیف محسوس ہوگی۔بالآخر جب خلا باز زمین پر واپس آتے ہیں تو ان کی آنکھیں معمول کے مطابق نہیں رہ پاتیں اور خلا بازوں کو چشمے کا استعمال کرنا پڑتا ہے