ن لیگ ذاتی مفادات پر مبنی پارٹی بن گئی، قیادت کو گومگو سے باہر آنا ہو گا

6

سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ اس وقت ذاتی مفادات پرمبنی پارٹی بن چکی ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ میں آج پاکستان کے حالات 1970 سے زیادہ مشکل دیکھ رہا ہوں کیونکہ اُس وقت ایک ملک سے خطرہ تھا اب ہمیں بہت سارے ملکوں سے خطرہ ہے، ان میں سے کچھ سامنے اور کچھ خفیہ ہیں۔ اس وقت ہمیں متحد ہونا پڑے گا کیوں کہ  خطرات کا مقابلہ اتحاد اور اندرونی استحکام سے کیا جا سکتا ہے اگر ہم ایک آواز بنیں تو چیلنجز کا سامنا کر سکتے ہیں۔ اگر ہم نے انفرادی طور پر سوچا تو سب کو نقصان ہوگا، ٹرمپ کی پالیسی پر پہلی دفعہ ہم نے متحد ہوکر موقف دیا تو انہیں اپنی پالیسی بدلنی پڑی۔

وہدری نثار کا کہنا تھا کہ میں نے پاناما معاملے پر نواز شریف کو تقریر نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا، انہیں سپریم کورٹ کو کمیشن کے لئے خط بھی نہیں لکھنا چاہئے تھا، ہمیں عدالتوں سمیت ملک کے دیگر اداروں کا احترام کرنا ہوگا، عدالت کے فیصلوں پر اعتراض کیا جاسکتا ہے ہم کسی صورت  محاذ آرائی کے متحمل نہیں، مجھے پہلے پتہ تھا کہ اگر عدالتی فیصلہ خلاف آیا تو پارٹی محاذ آرائی کرے گی، اسی وجہ سے میں نے فیصلہ کیا کہ حکومت سے الگ ہو جاؤں۔ وزیراعظم شاہد خاقان کو بطور وزیراعظم ٹیکنوکریٹ حکومت سے متعلق بات نہیں کرنی چاہیے۔

سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ  ہم الیکشن کی طرف جا رہے ہیں اور ہمارے سیاسی مخالفین نے انتخابی مہم شروع کررکھی ہے، مسلم لیگ (ن) سیاسی جماعت ہے، پارٹی کے اندر کوئی تقسیم نہیں بس اختلاف رائے ہے جو کہ جمہوری نظام کا حصہ ہے، میں نے اپنے تحفظات بیچ سڑک پر نہیں بلکہ پارٹی کے اجلاسوں میں بیان کئے۔ اس وقت پارٹی میں صرف ذاتیات پرتوجہ دی جا رہی ہے، ہمیں ذاتیات سے نکل کر پارٹی کے مفاد کو دیکھنا ہوگا، اگر ایسا کیا تو ذاتیات کے ساتھ پارٹی کو بھی فائدہ ہوگا۔ خدانخواستہ مسلم لیگ کوکوئی نقصان پہنچا توبہت بڑا سیاسی خلا پیدا ہوجائے گا۔