قندیل بلوچ جہاں قتل ہوئی وہ مفتی قوی کے دوست کا گھر تھا، پولیس

10

پولیس نے عدالت میں قندیل بلوچ قتل کیس کی سماعت کے دوران دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ قندیل بلوچ جس گھر میں قتل ہوئی وہ مفتی عبد القوی کے قریبی دوست کا گھر تھا۔

ملتان میں  ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت کے جج امیر محمد خان نے قندیل بلوچ قتل کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران قندیل بلوچ قتل  کیس میں گرفتار ملزمان وسیم اور حق نواز عدالت میں پیش ہوئے  جب کہ  قندیل بلوچ کے والد عظیم ماہڑہ بھی عدالت پہنچے۔ سماعت کے دوران قندیل بلوچ قتل کیس کے تفتیشی افسر نے چالان مکمل کرنے کے لیے مہلت مانگ لی، عدالت نے 20 نومبر کو حتمی چالان پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 20 نومبر تک ملتوی کردی۔

اس موقع پر قندیل بلوچ کے والد عظیم ماہڑہ نےکہا کہ ان کی بیٹی کو مفتی عبدالقوی کے کہنے پر قتل کیا گیا، میں مفتی قوی کو کبھی معاف نہیں کروں گا۔ انہوں نے مزید انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ مفتی قوی نے مجھے پیسوں کی پیشکش کی کہ میں ان کا نام کیس سے نکلوادوں لیکن میں نے انکار کردیا کیونکہ میں اپنی بیٹی کے قاتلوں کو سزا دلوانا چاہتاتھا۔

عظیم ماہڑہ نے قندیل کے قاتلوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا وسیم اور حق نواز نے جو گناہ کیا ہے اس کی سزا انہیں ضرور ملے گی۔ آخر میں انہوں نے عدالت سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ مفتی قوی کو سزا دے کر مجھے انصاف دلایاجائے۔

دوسری جانب قندیل بلوچ قتل کیس میں ملوث مفتی عبدالقوی کو پولیس نےعلاقہ مجسٹریٹ محمد پرویز کی عدالت میں پیش کیا۔ مفتی عبدالقوی نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ مجھے کیس میں بغیروجہ شامل کیا جارہا ہے، میرا کوئی قصور نہیں، جب کہ مفتی قوی کے وکیل یوسف زبیر نے کہا کہ مفتی قوی کو مفروضوں کی بنیاد پر کیس میں گھسیٹا جارہا ہے، ان سے مزید کسی قسم کی ریکوری نہیں ہے۔ وکیل نے کہا کہ ہم نے مفتی قوی کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجنے کی استدعا کی ہے۔

سماعت کے دوران پولیس نے عدالت میں موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ جہاں قندیل بلوچ قتل ہوئی وہ گھر مفتی عبدالقوی کےقریبی دوست کا تھا۔ پولیس کی جانب سے مفتی عبدالقوی کے پولی گرافک ٹیسٹ کی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔ عدالت نے مفتی قوی کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 2 دن کی توسیع کرتے ہوئےانہیں پولیس کے حوالے کردیا۔ بعد ازاں مفتی عبدالقوی کوعدالت سے سخت سیکیورٹی میں تھانہ چہلیک منتقل کردیا گیا۔