پیرپٹھان خواجہ شاہ محمدسلیمان تونسوی رحمۃ اللہ علیہ

19

حافظ کریم اللہ چشتی پائی خیل ،میانوالی
اللہ اللہ کیے جانے سے اللہ نہ ملے اللہ والے ہیں جواللہ سے ملادیتے ہیں
اللہ رب العزت نے انسان کواشرف المخلوقات بناکرہرقسم کی نعمتوں سے نوازاہے۔ جن کاانسان شماربھی نہیں کرسکتاہے ۔اس لئے انسان کواشرف المخلوقات ہونے کے ناطے اللہ تعالیٰ کی صفات کامظہرہوناچاہیے۔جن وانس کی وجہ تخلیق بھی اللہ پاک کی عبادت کرناہے ۔تاریخ اسلام کاہم اگرمطالعہ کریں تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی رشدو ہدایت کے لئے انبیاء کرام علہیم السلام کومبعوث فرمایاتمام انبیاء کرام علہیم السلام اپنے اپنے ادوارمیں مخلوق کی ہدایت کافریضہ بخوبی سر انجام دیتے رہے چونکہ آقادوجہاں سرورکون ومکاں احمد،مجتبیٰ محمدمصطفی صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم خاتم النبین ہیں آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کے بعدنبوت کاسلسلہ ختم ہوگیاہے ۔اس لئے آقاصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کے بعدامت کی ہدایت اوررہبری کے لیے اولیاء کرام کوبھیجاگیاہے۔ جن کاسلسلہ قیامت تک جاری وساری رہیگا۔اولیاء کرام ؒ نے ہردورمیں پیغام حق عام کیااوربھٹکی ہوئی انسانیت کوحق کی راہ دکھائی۔سب سے پہلے اس بات کی وضاحت ضروری سمجھتاہوں کہ اللہ پاک کے وہ مقبول بندے جواس کی ذات وصفات کے عارف ہوں اس کی اطاعت وعبادت کے پابندرہیں گناہوں سے بچیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے انہیں اپناقربِ خاص عطافرمائے ان کواولیاء اللہ کہتے ہیں ایسے خوش نصیب انسانوں کونہ کسی قسم کاخوف اورنہ کسی قسم کاغم ہوتاہے۔سرکارِدوعالم نورمجسم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کافرمان مبارک ہے جس کے روای حضرت عبداللہ بن عباسؓ ہے کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم سے اولیاء اللہ کے متعلق پوچھاگیاتوآپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایاوہ لوگ(اولیاء اللہ ہیں ) جنہیں دیکھنے سے اللہ یادآجائے ۔(نسائی) برصغیرپاک وہندمیں دین اسلام کی اشاعت وترویج اور حقیقی سربلندی کاسہرااولیاء کرام کے سَرہے۔اولیاء کرام نے اپنے اخلاق وافکاراورکردارکی وجہ سے دین اسلام کی اشاعت دنیاکے کونے کونے تک پہنچائی۔ا اولیاء کرام کی دین اسلام کی بے مثال خدمت کے عوض آج بھی ان کی خدمات کوسنہری حروف میں لکھاجارہاہے اوریہی اولیاء کرام کافیضان ہے۔جس کی وجہ سے ہزاروں کافروں نے اسلام قبول کیاہے۔اولیائے کرام ،پیران عظام کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔اولیاء کرام ایسی برگزیدہ شخصیات ہیں جن کودیکھ کراللہ یادآجاتاہے یہی وجہ ہے کہ اولیاء کرام کی درگاہیں اورمزارات عقیدت مندوں کوامن درس دیتی ہیں۔
اللہ رب العزت نے ہمیں ایسی عظیم ہستیوں سے نوازاہے جنہوں نے مخلوق خدامیں اللہ اوراسکے حبیب صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کے عشق کی دولت تقسیم کی علم وعمل کے ذریعے لوگوں کوحقیقی منزل کاپتہ بتایانہ صرف پتہ بتایابلکہ راہ حق پرچلاکرانہیں منزل تک پہنچایا۔انہی عظیم ہستیوں میں یاد گار اہل عرفاں ، مفتاح انوار الحقائق، مصباح رموز الدقائق، مظہر الاصفیاء، زینتِ صُلحا،سلطان العارفین،برہان العاشقین ،غوث زماں ،شاہِ شاہاں ،فخردوراں ،پیرپٹھان حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی رحمتہ اللہ علیہ کاشمارہوتاہے۔آپ ؒ برصغیر پاک و ہند میں بارہویں صدی ہجری کے آخر ایک عظیم مصلح اور روحانی پیشوا تھے۔آپؒ عرفان و سلوک کے ایسے شہسوار تھے جنہوں نے شریعت و طریقت کو اس کے روح اور جسم سمیت ایک تازہ زندگی عطا کی۔ آپؒ کا تعلق سلسلہ عالیہ چشتیہ سے تھا۔ہندوستان، پاکستان اور افغانستان میں سینکڑوں مشائخ آپ کو اپنا روحانی مورث تسلیم کرتے ہیں۔ آپ کی رشدوہدایت سے برصغیر پاک و ہند کا کونہ کونہ منور ہوا، برصغیر سے باہر افغانستان، وسط ایشیا، ایران، عراق، شام اور حجازمقدس تک آپ کا فیض پہنچا۔
آپؒ کی ولادت باسعادت 1184ہجری بمطابق1770عیسوی میں کوہِ سلیمان بمقام’’گڑگوجی‘‘جوتونسہ شریف سے مغرب جانب واقع ہے میں ہوئی ۔ آپؒ کااسم مبارک خواجہ شاہ محمدسلیمان جبکہ القاب غوث زماں ،پیرپٹھان،شہبازچشت اہل بہشت ہیں۔آپؒ کاسلسلہ نسب کچھ یوں ہے۔حضرت خواجہ محمدسلیمان تونسوی بن محمدزکریابن عبدالوہاب بن عمرخان علہیم الرحمہ ،آپؒ کا خاندانی تعلق پٹھانوں کے قبیلہ ’’جعفر‘‘سے تھا۔جوعلم وعبادت اورحیاء وشرافت میں نہایت ممتازقبیلہ تھا۔بچین ہی میں آپؒ اپنے والدماجدکے سایہ شفقت سے محروم ہوگئے تھے ۔والدماجدکی وفات کے بعدوالدہ ماجدہ نے آپؒ کی تعلیم وتربیت کاخاص اہتمام کیا۔کیونکہ آپؒ کی والدہ ماجدہ نے آپ ؒ کی ولادت سے قبل خواب میں دیکھاتھاکہ آفتاب آسمان سے اترکران کی آغوش میں آگیاہے۔اورسینکڑوں لوگ مبارکباددے رہے ہیں۔
چارسال کی عمرمیں مولانایوسف جعفرکے پاس قرآن مجیدفرقان حمیدکی تعلیم حاصل کرنے کاآغازکیا۔قرآن مجیدفرقان حمیدکے پندرہ پارے حفظ کرنے کے بعدبگی مسجد(یہ مسجد1274ہجری میں سنگھڑروڈکوہی کے سیلابی پانی سے منہدم ہوگئی)تونسہ شریف میاں حسن علی کے پاس جاکرقرآن پاک کے حفظ کی تکمیل کی ۔اورفارسی کی ابتدائی کتابیں پڑھیں مزیدتعلیم کوٹ مٹھن حضرت مولاناقاضی محمدعاقل قدس سرہ کے مدرسہ میں علوم دینیہ کی تکمیل کی۔حضرت خواجہ نورمحمدمہاروی قدس سرہ سے تصوف واخلاق کی تعلیم حاصل کی ۔
حضرت مولانافخرالدین فخرجہاں دہلوی علیہ الرحمہ نے حضرت خواجہ نورمحمدمہاروی کوحکم دیاتھاکہ’’کوہ سلیمان‘‘کی چوٹیوں پرایک بلندپروازشہبازرہتاہے ۔اسے تلاش کرکے اپنے حلقہ میں داخل کرناکہ اس سے سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ کوتبلیغ واشاعت کے چارچاندلگ جائینگے۔چنانچہ حضرت خواجہ مہاروی اس بلندآشیاں شہبازکی تلاش میں ان علاقوں کاسفرکیاکرتے تھے ۔آخرایک دن اوچ شریف میں وہ شہبازحضرت خواجہ محمدسلیمان تونسوی کی صورت میں مل گیا۔جسے دیکھتے ہی آپؒ نے فرمایا’’جوہمارامقصودتھاوہ ہمیں مل گیاہے‘‘ اس کے بعدقبلہ عالم کبھی ان علاقوں میں تشریف نہیں لے گئے ۔حضرت جلال الدین سرخ بخاری علیہ الرحمہ کے مزارشریف پرآپؒ کوبیعت فرمایا۔چھ سال قبلہ عالم کی تربیت میں رہے۔22سال کی عمرمں خلافت سے مشرف ہوئے ۔شیخ نے تونسہ میں قیام کی ہدایت فرمائی۔پھرآخرتک تونسہ شریف میں مصروف عمل رہے۔
تونسہ شریف میں مقیم ہو کرآپ رحمتہ اللہ تعالی علیہ نے اپنے مشائخ سلسلہ کی طرح وسیع پیمانہ پر درس وتدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ آہستہ آہستہ بہت سے بلند پایہ علما ء آپ رحمتہ اللہ تعالی علیہ کی خانقاہ میں آکر مستقل طور پر آباد ہو گئے اور ہزاروں طلبہ ان سے دینی علوم حاصل کرنے لگے۔ آپؒ کوقرآن وحدیث پرمکمل عبورحاصل تھاآپ رحمتہ اللہ علیہ خودصحیح مسلم شریف اور تصوف کی بعض کتابیں احیاء العلوم ، عوارف المعارف ،فتوحات مکیہ وغیرہ اپنے مخصوص مریدین وخلفاء کو پڑھاتے تھے۔اسوقت آپؒ کادرس مشہوردرس تھا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی خانقاہ میں تقریباً پچاس استاد تھے اور ہر ایک استاد کا الگ الگ حلقہ تھا،جہاں منطق و فلسفہ کے علاوہ فقہ، حدیث، تفسیر کی تعلیم دی جاتی تھی اورعلماء اور طلباء کے سب اخراجات آپ رحمتہ اللہ تعالی علیہ کے لنگر سے پورے ہوتے تھے۔ اس طرح گویا کہ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے تونسہ شریف میں ایک دارالعلوم قائم کر دیا جس کے آپ رحمتہ اللہ علیہ خود سرپرست تھے۔ جہاں ان تمام علماء وطلباء کی اخلاقی تربیت بھی کی جاتی اس لحاظ سے یہ مدارس اپنا ایک منفرد مقام رکھتے تھے۔
سرسیداحمدخان (آپؒ کاہمعصرتھا)لکھتاہے’’کہ شاہ صاحب کی شہرت قاف سے قاف تک ہے۔دہلی جوانحطاط کے زمانے میں بھی علم وفضل کامرکزتھا۔لوگ یہا ں سے علم حاصل کرنے کے لئے ان کی خدمت میں حاضرہوتے تھے۔(آثارالصنادید،بحوالہ تذکرہ اولیائے پاکستان)
اللہ پاک کے مقبول بندوں سے عجیب وغریب کرامتیں ظاہرہوتی ہیں مثلاََپانی پرچلنا،بلائیں دفع کرنا،دوردرازکے حالات ان پرمنکشف ہونا،جمادات وحیوانات سے کلام کرناوغیرہ ،اللہ پاک کے مقبول بندوں کی کرامتیں درحقیقت ان انبیاء کے معجزات ہیں جن کے وہ امتی ہیں۔اولیاء اللہ کی کرامات حق ہیں،جیسا کہ اہلسنت والجماعت کی تمام کتابوں میں تصریح ہے اور تواتر اور تسلسل کے ساتھ اولیاء اللہ کاملین سے ظاہر ہوتی چلی آئی ہیں۔ حضرت خواجہ شاہ محمدسلیمان تونسوی رحمتہ اللہ علیہ سے بھی رات دن کشف و کرامات اور خرق عادات کا ظہور ہوتا رہتا تھا۔ایک مرتبہ نواب اسد خان والئی سنگھڑ کے ظلم و تعدی سے لوگ تنگ آگئے ، تو آپ رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میںآکر شکایت کی آپ رحمت اللہ علیہ نے اسے بلا کرفرمایا’’ تمہاری حکومت میں ہمیں صرف اتنا فائدہ ہے کہ اذان کی آواز سن لیتے ہیں، ظلم وستم سے ہاتھ اٹھادو ورنہ میں تو سکھوں کی فوج کو یہاں دیکھ رہا ہوں‘‘۔ لیکن نواب مذکورظلم سے بازنہ آیا اور تھوڑے دنوں میں سکھوں کا لشکر آگیا اور جس ٹیلہ کی طرف آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اشارہ کیا تھا وہیں آکر ڈیرہ ڈالا۔ بعد میں جب لوگوں نے اس بارے میں عرض کیا تو فرمایا:اعمالکم عمالکم تمہارے اعمال ہی تمہارے حاکم ہیں تم نے جب شریعت کی پابندی چھوڑ دی ہے تو حق تعالیٰ نے تم پرکافروں کو مسلط کر دیا ہے۔
ایک مرتبہ ڈیرہ غازی خان کے نواب عبدالجبارخان نے درویشوں کے اخراجات کے لئے جاگیر کی پیش کش کی۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ہم ہرگز جاگیر نہ لیں گے۔ یہ ہمارے مشائخ کی سنت کے خلاف ہے۔ لوگوں نے عرض کیا کہ صاحبزادہ گل محمد رحمتہ اللہ علیہ کے لئے قبول فرمالیں۔ فرمایا گل محمد رحمتہ اللہ علیہ کو بھی اس کی حاجت نہیں۔اگر یہ فقراء کی جوتیاں سیدھی کرتا رہا تو مقربین اس کی خدمت کریں گے۔تقریباً تریسٹھ برس تک مسند ارشاد پر بیٹھ کر آپ رحمتہ اللہ علیہ نے علماء، صلحاء، امرا ء اور عامۃ المسلمین کی رہنمائی فرمائی ۔آپؒ کے چند مشہور خلفاء کے اسماء گرامی یہ ہیں۔
حضرت صاحبزادہ خواجہ گل محمد رحمتہ اللہ تعالی علیہ ،
حضرت خواجہ اللہ بخش تونسوی رحمتہ اللہ تعالی علیہ ،
مولانا محمد علی مکھڈی رحمتہ اللہ تعالی علیہ ،
حافظ سید محمد علی خیر آبادی رحمتہ اللہ تعالی علیہ ،
سید حسن عسکری دہلوی رحمتہ اللہ تعالی علیہ ،
مولانا شمس الدین سیالوی رحمتہ اللہ تعالی علیہ ،
مولانا فیض بخش الہی رحمتہ اللہ تعالی علیہ
آپؒ نے جس طبقے میں بے راہ روی دیکھی اس کی طرف فوراًتوجہ کی ’’علماء‘‘ کی بے راہ روی دیکھی توکانپ اُٹھے۔اورفرمایا’’اصلاح العالِم اصلاح العالم،فسادالعالِم فسادالعالم‘‘اورفرمایا!علماء نہ توجنت میں تنہاجاتے ہیں اورنہ ہی دوزخ میں دونوں جگہ کثیرتعدادان کی ساتھ ہوتی ہے۔آپؒ فرماتے ہیں ’’علم بغیرعمل اورعمل بغیرعقیدہ اہل سنت وجماعت کوئی فائدہ نہیں پہنچاتا‘‘۔
شریعت کی ظاہری اورباطنی طورپراتباع کے بغیرکمال انسانی کاحصول ناممکن ہے‘‘۔
آپؒ نے تمام عمرملت اسلامیہ میں نئی روح پھونکنے میں صرف کی اورسینکڑوں ایسے افرادتیارکیے جوعظمت اسلام کے علمبردااراورصحیح معنوں میں ملت اسلامیہ کے نقیب تھے۔
آپؒ کاوصال پُرملال 7صفرالمظفر1267ہجری بمطابق13دسمبر1850عیسوی کو سحری کے وقت ہوا۔ جنازہ میں اتنی مخلوق نے شرکت کی۔جس کا شمار نہیں ہو سکتا تھا۔آپؒ کامزارپُرانوار’’تونسہ شریف‘‘میں مرجع خلائق ہے۔آپؒ کاسالانہ عرس مبارک5,6,7صفرالمظفر کوآستانہ عالیہ ’’تونسہ شریف‘‘پرمنایاجاتاہے ۔جس میں مریدین کے علاوہ جیدعلمائے کرام مشائخ عظام اورعوام الناس کی کثیرتعداد شرکت کرتی ہے۔