برصغیر میں بھارت کی جان لیوا ’’ماحولیاتی دہشت گردی‘‘

4

بھارت صرف پاکستانی سرحد پر اور مقبوضہ کشمیر ہی میں ریاستی دہشت گردی کا مرتکب نہیں ہورہا بلکہ اس نے برِصغیر میں ماحولیاتی دہشت گردی کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا ہے جس کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔

صحت کے لیے مضر اسموگ بالائی بنجاب کے مختلف علاقوں میں پہنچنے پر پنجاب میں گیس کی فراہمی معطل ہونے سے بجلی پیدا کرنے والے کئی پلانٹس بند کردیے گئے مگر پاکستان میں اسموگ کی اصل وجہ یہ پلانٹس نہیں بلکہ بھارت کی ماحولیاتی دہشت گردی ہے۔ پاکستان میں شدید اور جان لیوا دھند سے متعلق یہ خبریں گرم ہیں کہ ان کی وجہ بھارت میں بڑے پیمانے پر جلائی جانے والی فصلوں کا دھواں ہے۔

لیکن اسی مسئلے کا ایک پہلو اور بھی ہے جسے میڈیا نے اب تک نظرانداز کیا ہوا ہے؛ اور وہ ہے بھارت میں کوئلے سے بجلی بنانے والے پلانٹ، جو برِصغیر کی فضاؤں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈز، سلفر ڈائی آکسائیڈ اور راکھ جیسی آلودگیوں کی بھاری مقدار مسلسل شامل کررہے ہیں۔ یہ آلودہ ہوائیں جہاں بھارت میں تباہی پھیلا رہی ہیں وہاں ان سے پاکستان بھی شدید طور پر متاثر ہورہا ہے۔ اس تمام واقعے کا تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ بھارت اس اخراج میں کمی کرنے پر بالکل بھی تیار نہیں بلکہ اس میں اضافہ ہی کرتا چلا جارہا ہے۔

البتہ اس مسئلے کی نوعیت اور شدت جاننے کےلئے ہمیں مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کا جائزہ لینا ہوگا۔ راقم نے کوشش کی ہے کہ بھارت کے اپنے اداروں اور سائنسدانوں یا عالمی تنظیموں کی تحقیقات سامنے رکھتے ہوئے منظرنامہ پیش کیا جائے، جس کا تجزیہ کرکے قارئین خود اندازہ لگاسکیں کہ بھارت کس طرح سے خطّے میں ماحولیاتی دہشت گردی کا مرتکب ہورہا ہے۔

آلودہ ترین بجلی

بھارت میں بجلی کی پیداوار اور تقسیم سے متعلق سب سے اہم سرکاری ادارے ’’سینٹرل الیکٹریسٹی اتھارٹی انڈیا‘‘ کی 30 ستمبر 2016 کے روز آن لائن جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، بھارت میں کوئلے سے بجلی بنانے والے 160 کارخانے نصب ہیں جن کی مجموعی پیداواری صلاحیت 187,252.88 میگا واٹ ہے، جبکہ ان سے بھارت میں بجلی کی پیداوار کا 61 فیصد حصہ حاصل کیا جارہا ہے۔

یہ بات خصوصی توجہ سے پڑھے جانے کے قابل ہے کہ پورے برصغیر میں کوئلے سے جتنی بھی بجلی بنائی جارہی ہے، اس میں بھارت کا حصہ 98 فیصد ہے۔

اگست 2012 میں فضائی آلودگی کے موضوع پر فلوریڈا، امریکہ میں منعقدہ ایک بین الاقوامی کانفرنس میں یونیورسٹی آف ساؤتھ فلوریڈا کے ڈاکٹر موتی لال متل اور سی ایس آئی آر انڈیا کے چھمیندرا شرما اور ریچا سنگھ نے ایک تحقیقی مقالہ پیش کیا جس میں بتایا گیا تھا کہ 2010 کے دوران ہندوستان میں کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں نے پورے سال میں 498,655,780 ٹن (49 کروڑ 86 لاکھ 55 ہزار 780 ٹن) کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں شامل کی تھی۔ یقیناً یہ بہت بڑی مقدار ہے۔

اس عرصے میں ان ہی بجلی گھروں سے فضا میں شامل ہونے والی سلفر ڈائی آکسائیڈ کی مقدار 3,840,440 ٹن (38 لاکھ 40 ہزار 440 ٹن) تھی جبکہ نائٹروجن آکسائیڈ کی مقدار 2,314,950 ٹن (23 لاکھ 14 ہزار 950 ٹن) رہی۔

بعد ازاں 6 اکتوبر 2015 کے روز انسٹی ٹیوٹ فار انرجی ریسرچ، واشنگٹن کی ویب سائٹ پر ایک رپورٹ شائع ہوئی، جس کے مطابق بھارت نہ صرف دنیا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے بلکہ اس نے 2014 میں 2,088 ملین ٹن (یعنی 2,088,000,000 ٹن) کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں شامل کی تھی؛ جس کا بڑا حصہ وہاں کوئلے سے بجلی بنانے والے پلانٹس سے خارج ہوا تھا۔

اسی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ بھارت کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی کرنے کےلئے تیار نہیں بلکہ وہ 2030 تک کوئلے سے بجلی کی پیداوار میں 3 گنا اضافے کا ارادہ بھی رکھتا ہے۔ ظاہر ہے کہ کوئلے کا استعمال تین گنا بڑھنے سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار بھی تین گنا بڑھ جائے گی۔ یعنی 2030 تک بھارت میں فضائی کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج 6,264 ملین ٹن (6,264,000,000 ٹن) تک پہنچنے کی توقع ہے۔

خطرناک، جان لیوا اور تابکار راکھ

تاہم بھارتی فضائی آلودگی کا سب سے خطرناک پہلو جو پاکستان کو شدید طور پر متاثر کررہا ہے اور جسے بجا طور پر بھارت کی ’’ماحولیاتی دہشت گردی‘‘ بھی قرار دیا جاسکتا ہے، فضا میں شامل ہونے والی راکھ (fly ash) ہے۔ یونین آف کنسرنڈ سائٹسٹس، امریکہ کی رپورٹ کے مطابق، کوئلے سے بجلی بنانے والا 1000 میگا واٹ کا ایک پلانٹ سال بھر میں 500 ٹن راکھ فضا میں خارج کرتا ہے۔ البتہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق یہ تمام بجلی گھر پابند ہوتے ہیں کہ اس راکھ کا بڑا حصہ ہوا میں شامل ہونے نہ دیں؛ کیونکہ اگر ایسا نہ کیا جائے تو راکھ کے یہی باریک باریک ذرّات سانس اور پھیپھڑوں کی بیماریوں (خصوصاً دمے اور پھیپھڑوں میں آکسیجن جذب کرنے والی جھلّیوں کی بیماری یعنی برونکائٹس) کی وجہ بن سکتے ہیں یا ان کی شدت میں غیرمعمولی اضافہ کرسکتے ہیں… لیکن بات یہیں پر ختم نہیں ہوجاتی۔

1978 سے اب تک کوئلے کے بجلی گھروں سے خارج ہونے والی راکھ پر مختلف سائنسی مطالعات کئے جاچکے ہیں جن سے معلوم ہوا ہے کہ اس راکھ کے ذرّات میں تابکار عناصر بھی موجود ہوتے ہیں۔ اگرچہ ان کی مقدار بہت معمولی ہوتی ہے لیکن اگر فضا میں بہت زیادہ راکھ شامل ہوجائے تو اس کے اثرات کسی ایٹمی بجلی گھر سے خارج ہونے والی تابکاری سے بھی بڑھ جاتے ہیں۔

اس سلسلے کا ایک مطالعہ جو ڈیوک یونیورسٹی، شمالی کیرولائنا میں کیا گیا ’’اینوائرونمنٹل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی‘‘ نامی ریسرچ جرنل میں 2 ستمبر 2015 کے روز شائع ہوا، جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ کوئلے کے بجلی گھروں سے خارج ہونے والی راکھ میں تابکاری کی شرح عام حالات کے مقابلے میں 5 سے 10 گنا تک زیادہ ہوتی ہے۔ یہ مطالعہ امریکہ میں کوئلے سے بجلی بنانے والے کارخانوں پر کیا گیا تھا، جن سے خارج شدہ راکھ کی 99 فیصد مقدار فضا میں داخل ہونے سے پہلے ہی الگ کرلی جاتی ہے اور محفوظ طور پر تلف کی جاتی ہے۔

ہندوستان کے معتبر تحقیقی جریدے ’’کرنٹ سائنس‘‘ (جلد 100، شمارہ نمبر 12، 25 جون 2011) میں مناس رنجن سیناپتی کا تحقیقی مقالہ شائع ہوا جس کے مطابق بھارت میں کوئلے سے بجلی بنانے والے کارخانوں سے خارج شدہ راکھ کا صرف 3 فیصد حصہ استعمال کیا جاتا ہے جبکہ باقی کا 97 فیصد حصہ ہوا میں ہی طویل عرصے تک موجود رہتا ہے۔

اس مقالے میں بتایا گیا تھا کہ بھارتی کوئلے میں راکھ کی مقدار 30 سے 40 فیصد تک ہے جو دنیا میں کوئلے کی دیگر اقسام کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ مزید یہ کہ 2010 میں بھارت نے 300 ملین ٹن کوئلہ استعمال کرتے ہوئے 98,000 میگاواٹ بجلی بنائی تھی؛ جس سے فضا میں 110 ملین ٹن راکھ شامل ہوئی؛ جو متوقع طور پر 2020 میں بڑھ کر 140 ملین ٹن سالانہ تک پہنچ جائے گی۔

ان اعداد و شمار کو مدنظر رکھتے ہوئے تھوڑی سی تحقیق کی جائے تو معلوم ہوگا کہ بھارت میں کوئلے سے پیدا ہونے والی ہر ایک میگاواٹ بجلی کے ساتھ ساتھ 1122.45 ٹن راکھ بھی فضا میں شامل ہورہی ہے۔

اب اگر بھارت میں کوئلے سے بجلی بنانے والے کارخانوں کی موجودہ پیداواری صلاحیت (187,252.88 میگاواٹ) کی بنیاد پر مزید حساب لگایا جائے تو پتا چلے گا کہ اس وقت بھی پورے بھارت میں پھیلے ہوئے، کوئلے سے بجلی بنانے والے پلانٹ سالانہ 210,181,995.156 ٹن (یعنی 210 ملین ٹن سے بھی زیادہ) راکھ فضا میں پھینک رہے ہیں۔

اپنے سارے منفی اور مضر اثرات کے ساتھ، یہ راکھ پورا سال فضا میں موجود رہتی ہے لیکن سرد اور خشک موسم کے آتے ہی یہ دھند کی شکل میں برِصغیر کے ایک بڑے حصے پر پھیل جاتی ہے؛ جس میں پاکستان کا وسیع علاقہ بھی شامل ہے۔

سردیوں میں کہر آلود قہر

شدید گرم اور خشک موسم میں کوئلے سے بجلی بنانے والے کارخانوں سے خارج شدہ راکھ کا بڑا حصہ فضا میں زیادہ بلندی پر معلق رہتا ہے؛ اور سطح زمین پر رہنے والے لوگ اس سے زیادہ متاثر نہیں ہوتے۔ اسی طرح جب مون سون کی بارشیں شروع ہوتی ہیں تو یہ راکھ، بارش کے پانی میں شامل ہوکر زمین پر برس جاتی ہے جس سے وقتی طور پر ہوا کچھ صاف ہوجاتی ہے۔ لیکن جیسے ہی سرد اور خشک موسم شروع ہوتا ہے، کم درجہ حرارت کی بناء پر یہ راکھ زمینی سطح کے بہت قریب آجاتی ہے اور خطرناک دھند کی صورت میں ایک وسیع علاقے پر پھیل جاتی ہے۔

چونکہ بڑے پیمانے پر چلنے والی موسمیاتی ہوائیں کسی ملکی سرحد کی پابند نہیں ہوتیں اس لئے ہوا میں شامل یہ راکھ بھی کہر کی صورت میں ہندوستان کے علاوہ پاکستان اور بنگلہ دیش تک کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

یہ بھی واضح رہے کہ پاکستان میں سردیاں شروع ہوتے ہی پنجاب کے میدانی علاقوں پر گہری دھند چھا جانے کا سلسلہ ہمیشہ سے اتنا شدید نہیں تھا جتنا آج ہے۔ پہلے یہ کہر/ دھند نہ صرف یہ کہ چند دنوں کےلئے ہوتی تھی بلکہ سورج نکلنے کے کچھ دیر بعد ہی تحلیل ہوجایا کرتی تھی۔

لیکن بھارت میں جیسے جیسے کوئلے سے بجلی بنانے والے پلانٹس کی تعداد بڑھتی گئی، ویسے ویسے سردیوں کی آمد پر پاکستان میں دھند کی شدت میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ اور اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ سردیاں شروع ہوتے ہی موٹر وے پر حدِنگاہ روزانہ ہی تقریباً صفر رہنے لگی ہے؛ جو سورج نکلنے کے بھی خاصی دیر بعد تک برقرار رہتی ہے۔ پنجاب کے وہ شہر جو بھارتی سرحد کے زیادہ قریب واقع ہیں ان میں دھند کی شدت اور دورانیہ، دونوں زیادہ ہیں۔

محکمہ موسمیات نے یہ تو ضرور کہا ہے کہ پنجاب میں شدید دھند کی کیفیت آئندہ دو ماہ تک برقرار رہ سکتی ہے، اس دوران شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہیں نکلنا چاہئے اور دمے/ سانس کے مریضوں کو خصوصی احتیاط برتنی چاہئے؛ لیکن پاکستان میں پڑنے والی شدید اور مسلسل دھند کی ’’سرحد پار‘‘ وجہ پر بات کرنے کےلئے کوئی بھی تیار نہیں۔