نواز شریف قانونی ضابطوں کے بند کمرے میں پھنس گئے ہیں، اعتزاز احسن

5

لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے رہنما پیپلزپارٹی اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ قانون اجازت نہیں دے سکتا،یا ملازمت کرو یا وزیراعظم رہو، ہمارا وزیر خزانہ بھاگا ہوا ہے جب کہ چیئرمین نیب کا امتحان ہے اور ان کے لیے یہ چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ شرجیل میمن کے خلاف ریفرنس فائل نہیں ہوا، صرف تفتیش چل رہی ہے اور ان کو گرفتار کر لیا گیا، ہمارے لیے الگ اور وزیرخزانہ کے لیے الگ قانون ہے، وزیرخزانہ وزیراعظم کے جہاز پر دوشبنے پھر وہاں سے لندن گئے، یہی حال میاں نواز شریف کا ہے،جب چاہیں چلے جائیں جب چاہیں آجائیں۔

اعتزان احسن نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف بھی تو سابق وزیراعظم ہیں انہوں نے ہائی کورٹ سے اپنی ضمانتیں کرائی ہوئی ہیں جب کہ نیب کو انہوں نے ایک مذاق بنا لیا ہے، نواز شریف لندن میں ہوتے ہیں تو ساری کابینہ وہاں چلی جاتی ہے، پاکستان کی سیاست کے لندن سے فیصلے ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب نے بڑے بڑے دعوے کیے ہیں کوئی امتیازی سلوک نہیں ہوگا لیکن اسحاق ڈار کا نام ای سی ایل پر کیوں نہیں ہے، شریف خاندان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے، قانون ان کے لیے اورساری دنیا کے لیے اور ہے جب کہ شریف خاندان کے ساتھ انصاف سے زیادہ انصاف ہو رہا ہے۔

رہنما پیپلزپارٹی نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ نواز شریف قانون کے اور قانونی ضابطوں کے بند کمرے میں پھنس گئے ہیں، نواز شریف کے پاس صفائی کا کوئی موقف ہی نہیں، بار ثبوت نواز شریف اور ان کے خاندان پر ہے جب کہ ٹرسٹ دیڈ پر مریم نواز، کیپٹن (ر) صفدر اور حسین نواز کے دستخط ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ (ن) لیگ والے کیلیبری فونٹ کے موجد ہیں اور یہ ایک بھی دستاویز نہیں دکھا سکے، ان کو نظر آ رہا ہےکہ سزا ہونے والی ہے لہذا یہ عدلیہ، جے آئی ٹی اور اپوزیشن کو متازع کرنا چاہتے ہیں۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ آپ قانون کے بند کمرے میں بند ہیں، صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ دیوار توڑ کر نکلیں اور ان کی کوشش ہے کہ یہ دیواڑ توڑ کر نکلیں، وفاق ان کا، 4 گورنر ان کے، تین صوبائی حکومتیں ان کی پھر بھی کہہ رہے ہیں کہ سازش ہو رہی ہے اور اگر سازش ہو رہی ہے تو بتاو سازش کون کر رہا ہے۔