اثاثہ جات ریفرنس؛ نیب کی چوہدری برادران سے ایک گھنٹے تک تفتیش

16

آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں مسلم لیگ (ق) کے رہنما چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الہیٰ نے نیب لاہور کے سامنے پیش ہو کر اپنے اکاؤنٹس اور اثاثہ جات پر مشتمل فائل نیب میں جمع کرادی ہے۔

فلک نیوز کے مطابق سابق وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین اور سابق نائب وزیراعظم چوہدری پرویز الہی آمدن سے زائد اثاثے اور غیر قانونی بھرتیوں کے ریفرنس میں نیب لاہور کے سامنے پیش ہوئے۔ چوہدری برادران نے اپنے اکاؤنٹس اور اثاثہ جات پر مشتمل فائل نیب میں جمع کرادی اور ایک گھنٹہ تک نیب میں موجود رہے، جبکہ نیب کی تفتیشی ٹیم کے 3 افسران نے چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز الٰہی کا بیان ریکارڈ کیا۔ نیب لاہور نے چوہدری برادران کو آمدن سے زائد اثاثے بنانے اورغیرقانونی بھرتیوں کے کیس میں آج طلب کررکھا تھا۔

نیب  نے  چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی کو سمن جاری کیے تھے جس میں کہا گیا تھا کہ ملزمان 6 نومبر کو نیب لاہور کے دفتر میں پیش ہو کراپنے اثاثوں کی تفصیلات اور آمدن کے ذرائع بتائیں۔

نیب حکام کو بیان ریکارڈ کرانے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے چوہدری پرویز الہٰی کا کہنا تھا کہ اثاثہ جات کیسز 1999 میں بنائے گئے تھے اور اس حوالے سے جون 2000 میں بھی ہمارے گھر میں چھاپے مارے گئے اور یہ سلسلہ کافی دیر تک چلتا رہا، ہم نے اس وقت بھی جوچیزٰیں چاہئے تھیں وہ دے دی تھیں اور اب بھی نیب و عدالتوں کے ساتھ پورا تعاون جاری رہے گا ہم نے ہمیشہ اداروں کا احترام کیا ہے۔

واضح رہے کہ چوہدری برادران کے خلاف 2 ارب 42 کروڑ سے زائد کے غیر قانونی اثاثے بنانے کے الزامات ہیں ۔ نیب نے ان کے خلاف یکم جنوری 2000ء کو ریفرنس دائر کیا تھا جب کہ تحقیقات کا آغاز 12 اپریل 2000ء میں کیا گیا تھا  تاہم بعد میں ان کیسز کو بند کر دیا گیا تھا۔