متحدہ اور پی ایس پی کا 1 منشور، 1 نام، 1 نشان کے ساتھ الیکشن لڑنے کا فیصلہ

6

ایم کیو ایم پاکستان اور پی ایس پی نے سیاسی اتحاد بنانے کا اعلان کردیا جب کہ فاروق ستار نے کہا کہ سیاسی اتحاد کا نام اور لائحہ عمل کے حوالے سے آئندہ کے اجلاس میں فیصلہ ہوگا اور آئندہ انتخابات میں ایک نام، ایک منشور اور ایک نشان پر لڑیں گے۔

کراچی پریس کلب میں ایم کیو ایم پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی کے رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس کی اس موقع پر ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ پی ایس پی کے دوستوں کو مشترکہ اور مثبت کوشش کے لیے یہاں اکھٹے ہونے پر خوش آمدید کہتا ہوں، آج ایک اہم واقعہ رونما ہورہا ہے اور ہماری پریس کانفرنس کا مقصد سندھ اور کراچی میں ووٹ بینک کی تقسیم کو روکنا ہے، صوبہ سندھ بہت سے مسائل میں گھرا ہوا ہے اور کراچی کی سیاسی جماعتوں نے اس ذمہ داری کو محسوس کیا کہ ہمیں صرف اس شہر اور صوبے کے نہیں بلکہ پورے پاکستان کے مسائل حل کرنے ہیں۔

فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ہم نے ورکنگ ریلیشن شپ یا سیاسی اتحاد کا فیصلہ کیا ہے ، ہمارا اصل مقصد امن کو دیر پا کرنا اور ووٹ بینک کی تقسیم روکنا ہے، اس مقصد کے لیے دونوں جماعتوں کے درمیان مشاورت جاری تھی جب کہ ہمیں عوام کو لیڈرشپ فراہم کرتے ہوئے عدم تشدد کی پالیسی لانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اتحاد کا نام اور لائحہ عمل کے حوالے سے آئندہ کے اجلاس میں فیصلہ ہوگا۔

رہنما ایم کیو ایم نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں ایک نام، ایک منشور اور ایک نشان پر لڑیں گے، سندھ کے دیہی شہری علاقوں کی دیگر جماعتوں کو بھی دعوت دیں گے، شہری سندھ اور بالعموم دیہی سندھ میں غاصبانہ قبضہ ختم کرائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان اور پی ایس پی کارکنوں کی بازیابی کا سلسلہ بڑھے گا۔

دوسری جانب مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ فاروق ستار بھائی کی بات کی توثیق کرتا ہوں، آئندہ ہونے والے انتخابات میں ایک پارٹی کے نام، انتخابی نشان اور ایک منشور سے پاکستان کے لوگوں کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے لیکن چونکہ ایم کیو ایم متحدہ بانی کی تھی اور رہے گی لہذا اب ہماری پہچان جو بھی ہو، ایم کیو ایم نہیں ہوگی۔

پی ایس پی رہنما نے کہا کہ فاروق ستار بھائی سے آئندہ الیکشن میں تعاون پر6 ماہ سے سلسلہ چل رہا ہے اور ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے ہماری بات کی تائید کی جس کی بدولت آج ایک ذاتی مفاد کو پیچھے رکھتے ہوئے اس شہر، صوبے اور ملک کے لیے سوچا جارہا ہے، آج ہمارا نام نہیں ہے لیکن ایک نام اور منشور پر آگے چلنے پر اتفاق کیا