عدلیہ مقدس گائے نہیں اور ججوں کا احتساب بھی ضروری ہے، سپریم کورٹ

3

سپریم کورٹ نے ججوں کے احتساب کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عدلیہ کوئی مقدس گائے نہیں۔

سپریم کورٹ میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے اوپن ٹرائل کیلئے دائر درخواست کی سماعت ہوئی۔ جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے پانچ رکنی لارجر بنچ نے درخواست کی سماعت کی۔ جسٹس اعجازالاحسن نے اسے اپنی نوعیت کا پہلا اور انتہائی اہم مقدمہ قرار دیا۔

جسٹس عظمت سعید نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ججوں کا احتساب بھی ضروری ہے، ہم کوئی مقدس گائے یا بیل نہیں ہیں، تاہم احتساب کرتے وقت عدلیہ کی خودمختاری برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔ جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ ججوں کے خلاف کارروائی میں اٹھائے گئے سوالات کا جواب چاہتے ہیں اور ان سوالات کو نہیں دبا سکتے۔

سپریم کورٹ نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف کھلی عدالت میں کارروائی پر اٹارنی جنرل سے وفاق کا تحریری مؤقف طلب کرتے ہوئے مزید سماعت ملتوی کردی۔ عدالت عظمیٰ نے شاہد حامد اور منیر اے ملک کو عدالتی معاون بھی مقرر کر دیا۔