فاروق ستارکی پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ یادگارشہداء پرحاضری، فاتحہ خوانی

2

ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستارنے پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ یادگارشہداء پرحاضری دی اورفاتحہ خوانی بھی کی۔

فلک نیوز کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار نے پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ یادگارشہداء پرحاضری دی اورفاتحہ خوانی بھی کی۔ یادگارشہدا کے تالے کی چابی گم ہونے پرپرکارکنان تالہ توڑکراندرداخل ہوئے، راستے میں ایم کیو ایم رہنماؤں کا کارکنان کی جانب سے پھولوں سےاستقبال کیا گیا۔

ایم کیوایم پاکستان کی یادگار شہدا پر حاضری کے بعد میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ آج ایک سال کے بعد شہدا کوخراج عقیدت پیش کرنے کیلئے پہنچ گئے، ایک بارپہلے بھی یہاں آنا چاہتے تھے اس وقت ہمیں آنے نہیں دیا گیا، شہدا کے لہو کے مقروض انکا قرض چکائیں گے، مہاجروں کی عزت وآبروکوبحال کریں گے۔ سربراہ ایم کیوایم فاروق ستارنے کہا کہ شرپسندوں کو اپنی صفوں سےنکالیں گے، سیاسی الائنس کے دروازے آج بھی کھلے رکھیں ہیں، 5 نومبرکے جلسے کے بعد بڑاحوصلہ ملا، ہم صاف ستھری ایم کیوایم قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور2018 میں مہاجروں کی عظمت لوٹائیں گے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار کا کہنا تھا کہ شہدا ہماری تحریک کا اہم حصہ ہیں، ایم کیوایم کے کارکنوں کو یادگارشہدا جانے کی اجازت نہیں دی گئی، سمجھ نہیں آرہا کہ ہمیں کیوں روکا جارہا ہے، صرف مجھے اوررابطہ کمیٹی کو جانے کی اجازت دی گئی ہے، ہمارے ساتھ پھر ظلم اور ناانصافی ہوئی ہے۔ فاروق ستارنے کہا کہ خطرات کے پیش نظرہماری موبلائزیشن کوروکاجارہا ہے، ہم نے یادگارشہدا ایم کیوایم جانےکیلیے انتظامیہ کودرخواست دی تھی، انتظامیہ نے بتایا کہ ہماری زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں سوال یہ ہے کہ صرف ہماری زندگیوں کوہی خطرہ کیوں ہے۔

اس سے قبل فاروق ستارپی آئی بی سے بہادرآباد میں قائم ایم کیو ایم کے عارضی مرکزپہنچے جہاں اراکینِ رابطہ کمیٹی سے یادگارِ شہدا جانے کے لائحہ عمل پر بات ہوئی۔ فاروق ستاراراکینِ رابطہ کمیٹی کے ہمراہ  یادگارِ شہدا کے لئے روانہ ہوئے تو پولیس کی نفری  ساتھ تھی، فاروق ستار کا قافلہ عزیزآباد پہنچا تو پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔ قافلہ آدھے گھنٹے تک لیاقت علی خان چوک پر ہی رکارہا، جس کےبعد پولیس نے  یادگارشہدا تک  پیدل جانے کی اجازت دی۔ مقتول رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے والدین بھی ساتھ  تھے۔

یادگارِشہداء پرحاضری کے سلسلے میں پولیس نے سخت سیکیورٹی انتظامات کیے۔ ضلعی وسطی پولیس نے یادگارِشہدا کی جانب آنے والے راستوں کو کنٹینر لگاکر سیل کردیا۔