قادیانیوں کے زبردست حمایتی

32

انٹر نیٹ فیس بک ،ٹوئیٹر ،یوٹیوب پر زبردست پروپیگنڈے چل رہے ہیں کہ نواز شریف اور ثناء اللہ اپنے مخصوص بیانات کی وجہ سے قادیانیوں کے زبردست حمایتی ہیں اور یہ سب کچھ بیرون بڑے سامراج کے دباؤ کا ہی نتیجہ ہے کہ اس طرح موجودہ حکمران اپنی سیاسی ساکھ بچانے کے لیے ان کی ہر بات پر عملدرآمد کرنا اور ان کے ہر حکم کو من و عن ماننے میں ہی اپنی حکومت کی عافیت سمجھتے ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ سابق وزیر اعظم چوہدری محمد علی کے بعد تقریباً سبھی حکمرانیاں وزارت عظمیٰ صدارت انہی کے حکم کے تابع تبدیل ہوتی رہیں قومی اسمبلی اور سینٹ میں نا اہل نواز شریف کو پارٹی کا صدر چن لینے کی پابندی کو ختم کروانے کے لیے جو انتخابی اصلاحات کا بل منظور کروالیا گیا تو اسی کی آڑ میں سامراج کی پرانی خواہش کہ مرزائی بھی اعلیٰ ترین عہدوں تک پہنچ سکیں ختم نبوت کے حلف نامے کو ان کی مرضی کے مطابق منظور کروالیا مجاھدین تحفظ ختم نبوت اور رسالت مآب ﷺکی آن شان کے کے لیے مر مٹنے والوں نے اس قدر بیرونی پریشر ڈالا کہ اگلے روز ہی حکومتی ممبران و دیگر نا سمجھ ممبران اسمبلی کو تھوکا چاٹنا پڑگیااور حکمرانوں میں بیٹھے ہوئے مرزائی اور قادیانی نواز عہدیداروں اور بیورو کریٹوں کو منہ کی کھانی پڑی اور یہودیوں مرزائیوں اور سامراجیوں کا مکروہ پلان ٹیں ٹیں فش ہوگیانواز شریف قبل ازیں مرزائیوں کو اپنا بھائی قرار دے چکے ہیں اور اب رانا ثناء نے ایک نجی چینل پر انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے “اگر اس بحث کو ہم اور زیادہ ڈیٹیل میں جا کر کریں گے ،تو ان کے متعلق جو ہمارے علمائے اکرام ہیں ، آپ کہتے ہیں نان مسلم اور وہ ان کو نان مسلم تسلیم نہیں کرتے”خدا بہتر جانتا ہے کہ وہ کسی نشہ آور دوائی یا کسی اور وجہ سے الفاظ بھی صحیح نہیں ادا کر پارہے تھے ہندو پاک کی پوری تاریخ میں ان کے کہے کے بموجب کسی عالم دین نے یہ نہیں کہا کہ وہ رانا ثناء اللہ کے اوپر بیان کردہ بیان کے مطابق نان مسلم تسلیم نہیں کرتے اپنی بات کی مزید وضاحت کرتے رانا نے کہا “آپ ڈیٹیل میں دیکھیں تو یہ وہ بالکل وہ عقائد یعنی ہماری نماز ہے روزہ ہے تو یہ ان سب چیزوں پر عمل کرتے ہیں یہ اپنی مساجد بھی بناتے ہیں ان میں اذان بھی دیتے ہیں بس آکر اس پوائنٹ کے اوپر یہ اختلاف کرتے ہیں اس لیے ان کے متعلق جو جذبات یا فتوے ہیں وہ بالکل “Otherwise”ہیں رانا ثناء اللہ کا یہ بیان کسی بھی صورت ملت اسلامیہ کو قبول نہیں ہوسکتا اور نہ ہی ان کی تاویلیں وضاحتیں درست قرار دی جاسکتی ہیں وہ خود بخود مرازئیوں کے ترجمان بن بیٹھے ہیں جب پورے ملک کے جید علماء اور تمام مسالک کے مسلمان رانا ثناء اللہ کی مذمت میں اٹھ کھڑے ہوئے تو اب وہ وضاحتیں پیش کرتا پھرتا ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے جس پر ملک بھر کے علماء غور وفکر کررہے ہیں کہ کیا آقائے نامدارمحمد رسول اللہﷺ کی ختم نبوت کے ٖڈاکوؤں کی حمایت میں نواز شریف اور ثناء اللہ کے بیانات معافی کے قابل ہوسکتے ہیں یا نہیں ؟ہمارے عقائد کے مطابق اس بات پر اجماع ہے کہ قادیانی مرتد ہیں یہاں تک کہ ان کا نوزائیدہ بچہ بھی مرتد ہوگا کہ سپنی کے بچوں کی طرح مرزائیوں کا بچہ بھی بڑا ہو کر سانپ ہی بنے گا اور ختم نبوت کے قلعہ میں ڈنگ مارنے سے باز نہیں رہ سکے گا۔مرتد کی تعریف ہی یہ ہے جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کہتا پھرے اور پھر دین کی بنیاد سے ہٹ جائے اور اصل اسلامی عقائد کے خلاف باتیں کرتا پھرے وہ مرتد ہے یعنی ہرصورت قابل گردن زنی ۔پھر شرعی مسئلہ ہے کہ جو مرتد ہو گیا اس کی معافی تلافی کسی بھی صورت ہو ہی نہیں سکتی اسی لیے آئین میں295Cکی دفعہ شامل کی گئی تھی۔جس کے مطابق اب مرزائی مسجد کی شکل کے مطابق اپنے”مرزواڑے”نہیں تعمیر کرسکتے کلمہ طیبہ کو کسی جگہ نہیں لکھ سکتے ” اس لیے اب کوئی مرتد یا زندیق کہیں بھی چھپتا پھرے لاکھوں طرح معافی کا خواستگار ہو وہ مرتد ہی رہے گایہی حال مرزائیوں کا ہے کہ اپنے آپ کو مسلمانClaimکرتے ہیں ووٹ اندراج بھی مسلمانوں کی لسٹوں میں کرواتے ہیں مگر ان کے کفریہ عقائد ایسے ہیں کہ بیان کے قابل نہ ہیں نقل کفر کفر نہ باشد مرزا نے صرف خدا ئے بزرگ و برتر کی توہین کرتے ہوئے نعوذ باللہ کہا کہ میں خدا کی بیوی ہوں ،میں خدا کا بیٹا ہوں،میں خدا کی بیٹی ہوں میں خدا کا باپ ہوں اور یہ کہ میں خود خدا ہوں اور میں نے زمین و آسمان تخلیق کیے ۔اب ان کے امدادی اور ہر قسم کے سپورٹرز پر میڈیا مرتد ہونے کااعلان نہ کرتا پھرے تو کیا کرے؟پھر ان کو کلیدی عہدوں سے ہٹانے کا پاکستانی مسلمانوں کا مطالبہ بالکل بجا ہے کہ پاکستان بننے کے بعدمرزائیوں نے اعلان کیا کہ ہم ہندوستان کی تقسیم پر راضی ہوئے پر تو یونہی نہیں کوشش کریں گے کہ جلد دوبارہ مل جائیں۔اور اپنے مردوں کو ربوہ میں امانتاًیہ کہہ کر دفن کرتے ہیں کہ انہیں بھارت پاکستان ایک ہوجانے کے بعد قادیان(بھارت) میں جا کر دفن کریں گے ان کے ملک دشمنانہ قبیح خیالات کی ہی وجہ سے انہیں بیورو کریسی اور بالخصوص افواج پاکستان کے کلیدی عہدوں سے ہٹایا جانا اشد ضروری ہے ۔