ایران اور عراق میں خوفناک زلزلے سے 332 افراد ہلاک، 2500 زخمی

3

افراد ہلاک اور 2500 سے زائد زخمی جب کہ 70 ہزار سے زیادہ بے گھر ہوچکے ہیں۔

امریکی زلزلہ پیما مرکز یونائیٹڈ اسٹیٹس جیالوجیکل سروے ( یو ایس جی ایس) کے مطابق ایران اور عراق کے سرحدی علاقوں میں شدید زلزلہ آیا اور لینڈ سلائیڈنگ ہوئی جس کے نتیجے میں اب تک 332 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ ڈھائی ہزار سے زائد زخمی ہیں۔ زلزلے کی شدت 7.3 ریکارڈ کی گئی ہے۔

زیادہ تر ہلاکتیں ایران میں ہی ہوئی ہیں اور اس کے 14 صوبے متاثر ہوئے۔ ایران کے قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے کے مطابق 328 افراد وہاں ہلاک ہوئے ہیں۔ سب سے زیادہ تباہی ایرانی صوبے کرمان شاہ میں ہوئی جہاں تین روزہ سوگ کا اعلان کردیا گیا ہے۔ کرمان شاہ کے شہر سرپل ذھاب میں 236 ہلاکتیں ہوئیں۔ یہ شہر عراقی سرحد کے قریب ہے۔ دوسری جانب عراق میں 6 افراد کی ہلاکت اور 50 کے قریب زخمیوں کی اطلاع ہے۔

ایران میں زلزلے کے بعد 118 جھٹکے (آفٹر شاکس) محسوس کیے گئے ہیں اور مزید کا خطرہ ہے۔ زلزلے کی وجہ سے متعدد عمارتیں اور مکانات زمین بوس ہوگئے جب کہ بہت سے دیہات ہی صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور ملبے تلے دبے افراد کو باہر نکالا جارہا ہے۔ متعدد زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے جس کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

زلزلے کا مرکز عراق کے کرد علاقے سلیمانیہ میں تھا جس کی گہرائی 33 کلو میٹر تھی۔ زلزلہ اس قدر شدید نوعیت کا تھا کہ اسے عراق کے دارالحکومت بغداد اور پڑوسی ممالک میں بھی محسوس کیا گیا۔

ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق عراق کی سرحد سے متصل کئی صوبوں میں زلزلہ آیا ہے جس کے باعث 8 دیہات تباہ ہوگئے ہیں۔ کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی ہے ۔ متاثرہ علاقوں میں لوگوں کی امداد کے لیے ریسکیو ٹیموں کو بھجوادیا گیا ہے۔ ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق زلزلے سے کچے گارے کے بنے ہوئے مکانات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

واضح رہے کہ یوایس جی ایس نے اس زلزلے کی تباہی کے لحاظ سے اورنج الرٹ جاری کیا ہے جو شدید خطرے کے لیے جاری کیا جاتا ہے۔